نیشنل بینک کو رواں برس کی پہلی ششماہی میں قبل از ٹیکس 12 ارب30 کروڑ منافع

نیشنل بینک کو رواں برس کی پہلی ششماہی میں قبل از ٹیکس 12 ارب30 کروڑ منافع

کراچی(اکنامک رپورٹر)نیشنل بینک کے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق بینک نے رواں برس کی پہلی ششماہی میں قبل از ٹیکس 12 ارب30 کروڑ روپے کا زبردست منافع کمایا جو گزشتہ برس اسی عرصہ میں ہونے والی آمدنی کے مقابلے میں 63 فیصد زائد ہے۔ جبکہ حکومت کو ٹیکس کی ادائیگی کے بعد بینک کا خالص منافع آٹھ ارب دس کروڑ روپے رہا جو کہ گذشتہ برس اسی عرصہ میں ہونے والی بعد از ٹیکس آمدنی کے مقابلے میں 42 فیصد زائد رہا۔ بینک کی یہ آمدنی حصص کے لحاظ سے 3.82 فی حصص پر پہنچ گئی ہے ۔ 2013 کی آخری سہ ماہی میں سود کی شرح میں سو بنیادی پوائنٹس کے اضافہ کے باوجود بینک کی سودی آمدنی میں 2.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی

جس کی وجہ ایک بہت بڑے قرضے کی عدم ادائیگی رہی۔ بینک کی سودی منافع میں کمی کی ایک اور وجہ حکومت کی ضمانت پر سرکاری محکموں کو فراہم کیے گئے قرضوں کی نادہندگی بھی رہی۔ تاہم بینک نے اپنے ٹریژری بلوں کو پاکستان انوسٹمنٹ بانڈز میں منتقل کردیا جس کے باعث بینک کی سود کی مد میں آمدنی زیادہ متاثر نہیں ہوئی۔بینک کی ششماہی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ جون 2014 تک بینک کی غیرسودی آمدنی میں ڈھائی ارب روپے کا زبردست اضافہ ہوا جو کہ گذشتہ برس کے مقابلے میں انیس فیصد زائد ہے۔ بینک کی جانب سے فراہم کی جانے والی مختلف خدمات پر وصول کی جانے والی فیس کی شرح میں حکومت کی جانب سے کمی کی وجہ سے اس مد میں بینک کی آمدنی متاثر رہی تاہم بینک انتظامیہ کی جانب سے ان خدمات کے حجم میں پھیلاؤکے بناء پر بینک نہ صرف اس مد میں ہونے والے خسارہ پر قابو پانے میں ناکام رہا بلکہ اس مد میں حاصل ہونے والی آمدنی میں آٹھ فیصد اضافہ کرنے میں بھی کامیاب رہا۔اسی طرح کرنسی مارکیٹ میں بہترین حکمت عملی اپنانے کی بناء پر بینک زرمبادلہ کی آمدنی میں بھی گیارہ فیصد اضافہ کرنے میں کامیاب رہا۔ اسٹاک مارکیٹ کے اشاریہ میں زبردست اضافہ کی بناء پر بینک کو حصص پر ساڑھے چار ارب روپے کا منافع ہوا جو گذشتہ برس ہونے والی آمدنی ایک ارب اسی کروڑ روپے کے مقابلے میں 67 فیصد زائد تھا۔ بازار حصص سے ہونے والی آمدنی کئی کمپنیوں کی جانب سے مارکیٹ کیپیٹل کم کرنے اور کم منافع منقسمہ کی وجہ سے کم رہی۔اس عرصہ میں بینک کے انتظامی اخراجات میں 9.6 فیصد اضافہ ہوا ۔اس کی بڑی وجہ بینک ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور قرضوں کی واپسی تھی۔ایسے قرضہ جات جس پر سود کی ادائیگی نہیں ہورہی میں کمی کرنے کی بینک کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہورہی ہے۔ایسے تمام قرضہ جات میں گذشتہ دسمبر میں 6.2 ارب روپے کی کمی ہوئی تھی جبکہ گذشتہ مارچ تک تقریبا ساڑھے دس ارب روپے کی زبردست کم ہوئی۔نیشنل بینک کی بہترین کارکردگی کا ایک اور ثبوت اس کے ڈپازٹ میں گرانقدر اضافہ ہے۔ دسمبر 2013 میں ختم ہونے والی سہ ماہی میں یہ اضافہ 37.5 ارب روپے تھا جبکہ مارچ 2014 میں یہ اضافہ بڑھ کر 121 روپے تک پہنچ گیا۔اسی طرح بینک کی جانب سے فراہم کیے جانے والے قرضوں میں تقریباساڑھے چار ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ اس اضافی کی ایک بڑی وجہ بینک کی جانب سے اجناس کی خریداری کے لیے قرض کی فراہمی اور ریٹیل کی سطح پر قرضہ جات کی فراہمی شامل ہے۔ملک کے معاشی صورتحال کی بناء پر معاشی تجزیہ کاروں اور ماہرین کا اندیشہ تھا کہ بینکاری کا شعبہ شدید دباؤکا شکار رہے گا مگر نیشنل بینک کی انتظامیہ کی جانب سے اختیار کی جانے والی درست حکمت عملی بناء پر نیشنل بینک نے یہ تمام اندیشے غلط ثابت کردیے۔سرکاری محکموں پرطویل عرصے سے واجب الادا قرضوں کی وصولی ایک بہت بڑا چیلنج تھا جس میں نیشنل بینک کی انتظامیہ عہدہ براء ہونے میں کامیاب رہی۔اس کے علاوہ بینک کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے سرمایہ کاروں پر توجہ بھی اس کی خدمت کے معیار کو بلند کرنے کا سبب بنی۔بینک کی جانب سے اس کی پروڈکٹ کو جدید بنیاد پر استوار کرنے اور بینک کی تاریخ میں سب سے زیادہ منافع کی تقسیم نے بھی اس کے حصص کو سرمایہ کاروں کے لیے کشش پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور نیشنل بینک کا شیئر جواسٹاک مارکیٹ میں ناقدری کا شکار تھا اب سرمایہ کاروں کی پہلی ترجیح بن گیا ہے۔

مزید : کامرس