دھرنے ہمار ا اندرونی معاملہ ہیں ، دوسرے ملکوں کو تشویش نہیں ہونی چاہیے ،پاکستان

دھرنے ہمار ا اندرونی معاملہ ہیں ، دوسرے ملکوں کو تشویش نہیں ہونی چاہیے ...

                               اسلام آباد(اے این این)دفترخارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہاہے کہ لانگ مارچ اور دھرنے پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے ،دوسرے ممالک کو تشویش نہیں ہونی چاہیے ، ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے منصوبے پر پیش رفت کےلئے بات چیت جاری ہے، پاک بھار ت خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات کے لئے تاحال کوئی نئی تاریخ طے نہیں پائی، داعش کی پاکستان میں سرگرمیوں کی اطلاعات درست نہیں ، قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز آپریشن ہو رہا ہے ۔جمعرات کو یہاں ہفتہ وارپریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے پر عزم اورہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کےلئے تیار ہے اور پاک فوج دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے بھرپور کارروائیاں کر رہی ہے دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز آپریشن ہو رہا ہے جبکہ داعش کی پاکستان میں سرگرمیوں کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارتی سیکرٹری خارجہ سطح کی ملاقات کے لئے تاحال کوئی نئی تاریخ طے نہیں پائی ہے تاہم بھارت کو مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کے موقف سے آ گاہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ، سیاسی صورت حال پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور جن ممالک نے بھی ہماری سیاسی صورتحال پر تبصرہ کیا اسے ہمارا اندرونی معاملہ قرار دیا دوسرے ممالک کو اس حوالے سے تشویش ظاہرکرنے کی ضرورت بھی نہیں ۔ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران پر لگنے والی پابندیوں کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کہا کہنا تھا کہ پاکستان کا اس حوالے سے واضح موقف ہے کہ معاملات پابندیوں سے حل نہیں ہوں گے، امید ہے کہ ایران اور مغربی ممالک معاملات کے حل کے لئے مذاکرات کو ترجیح دیں گے۔تسنیم اسلم نے کہاکہ اسلام آباد میں بیرون ممالک کے سفارت خانے بند ہونے کے حوالے سے میڈیا پر چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں، میڈیا کو اس قسم کی خبروں سے احتیاط سے کام لینا چاہیے سفارتخانوں کی حفاظت کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکن صدر مہندا راجہ پاکسے کا دورہ موجودہ سیاسی صورت حال کے باعث پاکستان کی درخواست پر موخر کر دیا ہے۔ لیبیا میں پھنسے پاکستانیوں کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جمعرات کو بھی ایک اسپشل فلائٹ 260 مسافروں کو لے کر لاہور پہنچی ہے، 3 ہزار پاکستانی اب بھی لیبیا میں پاکستانی سفارت خانے کے تحت کیمپس میں موجود ہیں جنھیں وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر واپس لانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ

مزید : صفحہ اول