دریائے راوی، چناب، جہلم اور ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ

دریائے راوی، چناب، جہلم اور ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ


لاہور(کامرس رپورٹر)پنجاب کے بڑے شہروں سمیت دارالحکومت میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ جمعہ کی صبح تک جاری رہا،فلڈ وارننگ سنٹر لاہور کی اطلاع کے مطابق آئندہ 48گھنٹوں میں دریائے راوی، چناب، جہلم، ستلج اور دیگر ملحقہ نالوں میں اونچے درجہ کا سیلاب متوقع ہے۔دریائے چناب پر ساڑھے تین لاکھ کیوسک پانی کے سیلابی ریلے کی آمد کاخدشہ ہے جہاں ملحقہ دیہات خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ضلعی انتطامیہ کی طرف سے دریائے چناب سے ملحقہ علاقوں میں اعلانات شروع کروادئیے گئے اور لوگوں کو کہا جارہا ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں بتایاگیا ہے کہ لویری والا، ٹالی والا، پپلی والا، ٹھکرکے، سوہدرہ، نواں لوک، نوگراں کے لوگوں کو گھر خالی کرنے اور کسی محفوظ جگہ منتقل ہونے کی ہدایات کی گئی ہیں اسسٹنٹ کمشنر وزیر آباد نے بتایا کہ سیلابی ریلے کا پانی گھروں میں داخل ہونے کا امکان نہیں، تاہم فصلیں متاثر ہوں گی گزشتہ روزہیڈ مرالہ میں پانی کی آمد ایک لاکھ 24 ہزارکیوسک، اخراج ایک لاکھ 2 ہزار کیوسک رہاجبکہ ہیڈ خانکی میں پانی کی آمد 2 لاکھ 4 ہزار کیوسک، اخراج ایک لاکھ 92 ہزار کیوسک‘ ہیڈ قادر آباد میں پانی کی آمد ایک لاکھ 18 ہزار کیوسک اور اخراج 96 ہزار 440کیوسک رہا۔چیف ریلیف کمشنر پنجاب ندیم اشرف نے صوبہ بھر میں بارشوں سے انسانی جانوں کے ضیاع پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور جاں بحق ہونے والے لواحقین کی مالی امداد کے لئے فی کس 5لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر حکومت پنجاب نے صوبہ بھر کے تمام محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں ، ڈویژنل کمشنروں اور ڈی سی اوز کو ہدایت کی ہے کہ شدید بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضروری انتظامات کو یقینی بنایا جائے اور افسران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پوری طرح متحرک رہیں۔ جبکہ وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے لئے صوبائی وزراء اور پارلیمنٹرینز کو ڈویژن الاٹ کر دئیے ہیں۔ ممکنہ سیلاب کے پیش نظر صوبے بھر کے تمام ڈی سی اوز کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں، عوام کو باخبررکھنے کے لیے فلڈ کے مرکزی کنٹرول روم کے علاوہ صوبہ بھر میں قائم فلڈ کنٹرول روم کو تمام دریاؤں کے پانی کے اتارچڑھاؤ بارے بھی ڈیٹامرکزی کنٹرول روم ارسال کرنے کا پابند کردیا گیا ہے ۔

خطرہس

مزید : صفحہ آخر