سانحہ ماڈل ٹاﺅن،ایف آئی آر میں آرٹیکل 6 شامل کرنے کی استدعا مسترد

سانحہ ماڈل ٹاﺅن،ایف آئی آر میں آرٹیکل 6 شامل کرنے کی استدعا مسترد

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعظم، وزیر اعلی پنجاب سمیت سانحہ ماڈل ٹاون کے 21نامزد ملزمان کا ٹرائل ہائیکورٹ کے 5رکنی بنچ سے کرانے اور مقدمہ میں غداری کی دفعات شامل کرنے کے لئے دائر درخواست پر رجسٹرار آفس کا عائد اعتراض برقرار رکھتے ہوئے درخواست مسترد کر دی۔گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے مسٹرجسٹس محمود مقبول باجوہ نے کیس کی سماعت کی۔درخواست گزار بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے موقف اختیار کیاکہ ذوالفقار علی بھٹوکیس کی طرح وزیر اعظم سمیت 21ملزمان کے خلاف درج ایف آئی آر پر کاروائی کے لئے لاہور ہائیکورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل بنچ تشکیل دیا جائے تاکہ ماتحت عدلیہ کے سنگل رکنی بنچ کو دباﺅ کا سامنا نہ کرنا پڑئے۔انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کی پہلی ایف آئی آر کی طرح دوسری ایف آئی آر میں بھی دہشت گردی اور اغواءکی دفعات توشامل کر لی گئی ہیں مگر آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کی دفعات بھی شامل کرنے کا حکم دیا جائے۔انہوں نے عدالت سے مزید استدعا کی کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں نامزد ملزمان کا جھوٹ سچ جانچنے والی مشین پر ٹیسٹ بھی کرانے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے درخواست پر رجسٹرار آفس کا عائد اعتراض برقرار رکھتے ہوئے درخواست مسترد کر دی۔

استدعا مسترد

مزید : صفحہ آخر