نا قص سیورج سسٹم جنگلات اور ڈیمز کی کمی ملک میں بڑے سیلاب کا خدشہ

نا قص سیورج سسٹم جنگلات اور ڈیمز کی کمی ملک میں بڑے سیلاب کا خدشہ
نا قص سیورج سسٹم جنگلات اور ڈیمز کی کمی ملک میں بڑے سیلاب کا خدشہ

  

      لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) گلوبل وارمنگ ، سیوریج کے ناقص نظام اور جنگلات و ڈیمز کی کمی پاکستان میں سیلاب کا باعث بننے لگی ۔قیام پاکستان سے آج تک ملک میں 12بدترین سیلاب آئے جن میں لگ بھگ 50ہزار افراد ہلاک ہوئے اور6کروڑ افراد بے گھر و متاثر ہوئے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور آبپاشی کے محکموں کی ناقص حکمت عملی و کرپشن کی وجہ سے رواں سال کے دوران بھی سیلاب کا خدشہ ہے۔معلوم ہواہے کہ ایک طرف ملک میں اور خصوصا ً پنجاب بھر میں شدیدبارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔تو دوسری طرف بھارت دریائے چناب اور راوی میں پانی چھوڑنے جارہا ہے۔ ایسے میں ملک میں ایکبا رپھر سے بڑے سیلاب کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے سیلاب کے اس خدشے میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور محکمہ آبپاشی کی ناقص حکمت عملی اور کرپشن کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ کیونکہ حکومت ہر سال ڈیموں ، دریا کے بند ، پشتوں ، ہیڈ ورکس اور پلوں کی مرمت و توسیع کے لیے اربوں روپے فراہم کرتی ہے۔ لیکن ایسے فنڈز کی بڑی مقداد کرپشن اور کمیشن وغیرہ میں خرچ ہوجاتی ہے۔ریسرچ رپورٹس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں سیلاب کی بڑی وجہ گلوبل وارمنگ ،ملک میں سیوریج کا ناقص نظام ، ڈیموں و جنگلات کی کمی ہے۔ ملک میں جنگلات کی شرح میں اس تیزی سے اضافہ نہیں ہورہا جس تیزی سے جنگلات کاٹے جارہے ہیں۔1947سے 2014تک ملک میں کئی چھوٹے سیلاب آئے تاہم اس عرصے کے دوران ملک میں 12بدترین سیلاب بھی آئے جن میں لگ بھگ 50ہزار افراد ہلاک ہوئے اور6کروڑ افراد بے گھر و متاثر ہوئے۔ پہلا بڑا سیلاب 1950میں آیا جب 2ہزار 9سو افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر و متاثر ہوئے۔پھر اگست 1973میں آنے والے سیلاب سے 48لاکھ افراد متاثر ہوئے اور دو تین ہزار سے زائد جانیں گئیں۔ 2اگست 1976کو آنے والے سیلاب سے 55لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔ جون 1977میں آنے والے سیلاب سے 10لاکھ افراد متاثر ہوئے اور 10ہزار سے زائد اموات واقع ہوئیں۔ جولائی 1978میں آنے والے سیلاب سے مجموعی طورپر 22لاکھ سے زائد لو گ متاثر ہوئے اور چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح اگست 1988میں سیلاب سے 10لاکھ افراد متاثر ہوئے اور ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔9اگست 1992کو سیلاب سے 61لاکھ افراد متاثر ہوئے اور ہزاروں ہلاک ہوئے۔اسی سال ستمبر میں بھی سیلاب نے تباہی مچائی اور متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے بھی تجاوز کرگئی جبکہ 13سو سے زائد لوگ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 22جولائی 1995کو سیلاب سے 12لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ 24اگست 1996کو 11لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ مارچ 1998میں سیلاب سے ایک ہزار افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔اور جولائی و اگست 2010کے دوران ملک میں دو ہزار سے زائد افراد سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہلاک ہوئے اور 2کروڑ کے لگ بھگ بے گھر و متاثر ہوئے ۔

سیلاب خدشہ

مزید : صفحہ آخر