دنیا میں ہر 40 سیکنڈ بعد ایک خودکشی ہوتی ہے: عالمی ادارہ صحت

دنیا میں ہر 40 سیکنڈ بعد ایک خودکشی ہوتی ہے: عالمی ادارہ صحت
دنیا میں ہر 40 سیکنڈ بعد ایک خودکشی ہوتی ہے: عالمی ادارہ صحت

  

نیو یارک,جنیوا (ویب ڈیسک) عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے کہاہے کہ دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک شخص خودکشی کر رہا ہے اور یہ تعداد کسی بھی جنگ یا قدرتی آفت میں مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے شعبہ دماغی صحت کی ڈائریکٹر شیکھر سیکسینا نے جنیوا میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال 15 لاکھ افراد کی اموات ہوتی ہیں جن میں 8 لاکھ افراد خودکشی سے مرتے ہیں۔ خودکشی کے باعث مرنے والوں کی زیادہ تعداد کا تعلق وسطی اور مشرقی یورپ اور ایشیا سے ہے جن میں سے 25 فیصد کرنے والوں کا تعلق امیر ملکوں سے ہے۔تاہم پاکستان میں شرح نسبتاً کم ہے۔جہاں ایک لاکھ افراد میں سے سالانہ 9.3 افراد خودکشی کرتے ہیں   خواتین کے مقابلوں میں خودکشی کرنے والے مردوں کی تعداد دگنی ہے جبکہ اپنی جان لینے کے لیے سب سے زیادہ عام طریقہ کار گلے میں پھندا ڈالنا یا گولی مارنا ہے لیکن دیہی علاقوں میں اس کام کے لیے زہریلی ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ 15-29 سال کے درمیان مرنے والوں کی دوسری بڑی وجہ خودکشی ہے،رپورٹ کے مطابق 2012 میں زیادہ آمدنی والے ملکوں میں خود کشی کی شرح زیادہ رہی جہاں ایک لاکھ میں سے 12.7 لوگوں نے خودکشی کی جبکہ اس کی نسبت درمیانے اور کم درجے کے ملکوں میں یہ شرح 11.2 رہی۔لیکن اگر آبادی کے اعتباد سے دیکھا جائے تو یہ شرح کل اموات کا تین چوتھائی حصہ بنتی ہے۔تاہم پاکستان میں شرح نسبتاً کم ہے جہاں ایک لاکھ افراد میں سے سالانہ 9.3 افراد خودکشی کرتے ہیں، اس میں خواتین کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہے۔ دنیا کے 25 ملکوں خصوصاً افریقہ، جنوبی امریکہ اور ایشیا میں خودکشی یا اقدام خودکشی ایک جرم تصور کیا جاتا ہے۔خودکشی کے حوالے سے دنیا میں سب سے بدترین مقام گیانا ہے جہاں ایک لاکھ میں سے 44.2 افراد خودکشی کرتے ہیں، اس کے بعد شمار اور جنوبی کوریا میں یہ تعداد بالترتیب 38.5 اور 28.9 ہے۔اس کے بعد سری لنکا میں 28.8، لتھوانیا(28.2)، سری نامے(27.8)، موزم بیک(27.4)، نیپال اور تنزانیہ(24.9)، برونڈی(23.1)، ہندوستان(21.1) اور جنوبی سوڈان (19.8) ہے۔اس کے بعد روس اور یوگنڈا (19.5)، ہنگری(19.1)، جاپان(18.5) اور بیلاروس میں 18.3 ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد 2020 تک خودکشی کے تناسب کو کم کر کے 10 فیصد تک پہنچانا ہے۔

مزید : انسانی حقوق