ایم کیو ایم کی طرف سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم کی طرف سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم نے حکومت کی سنجیدگی پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے استعفوں پر مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا، ان کے رہنماؤں کا اصرار تھا کہ ان کے استعفے فی الفور منظور کر لئے جائیں۔ جمعرات کو ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار نے صبح پانچ بجے اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کا سیاسی کردار ہی ختم کیا جا رہا ہے تو اسمبلیوں میں جا کر کیا کریں گے،حکومت معاملات طے کرنے اور تحفظات دور کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے، اس لئے بات چیت جاری رکھنا بے سود ہے۔انہوں نے شکوہ کیا کہ بیس روز گزر جانے کے باوجود ان کا ایک بھی مطالبہ نہیں مانا گیا، حکومت نے کراچی آپریشن کی نگرانی کے لئے کمیٹی بھی تشکیل نہیں دی،کراچی آپریشن میں ایم کیو ایم کو سیاسی طور پر انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔مذاکراتی عمل ختم کرنے کا فیصلہ ایم کیو ایم کی لندن اور پاکستان میں رابطہ کمیٹیوں کے اجلاس میں کیا گیا۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ایم کیو ایم کے 150 سے زائد ارکان کی گمشدگی اور 45 ارکان کے ماورائے عدالت قتل کے معاملات کے علاوہ ایم کیو ایم کے سیاسی اور فلاحی دفاتر کو دوبارہ کھولنے اور جنابِ الطاف حسین کی تقاریر ٹیلی کاسٹ کرنے پر غیر اعلانیہ پابندی لگانے کے معاملات سامنے رکھے گئے تھے تاہم 20 دن گزرنے کے باوجود ان معاملات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو دیوار سے لگایا جارہا ہے ،ایم کیو ایم کا میڈیا ٹرائل جاری ہے۔ ہم نے وزیراعظم نواز شریف سے معاملات کے حل کے لئے دلچسپی لینے کی اپیل کی تھی، اس معاملے پر انہیں اپنے انتظامی اختیارات استعمال کرنے چاہئیں، وہ کس طرح اپنی ذمہ داری سے صرف نظر کر سکتے ہیں۔دوسری طرف حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی بہت شدید خواہش ہے کہ ایم کیو ایم کے استعفے منظور کرنے کی نوبت نہ آئے۔

ایم کیو ایم باوجود تمام تر یقین دہانیوں کے اس بات پر مصر ہے کہ کراچی آپریشن متحدہ کو دیوار سے لگانے کی کوشش ہے،اگست کے وسط میں اس کے اراکین نے بطور احتجاج اسمبلیوں سے استعفے دے دئیے تھے۔دوسری سیاسی جماعتوں کا اصرار تھا کہ متحدہ کے استعفے منظور نہ کئے جائیں، بلکہ ان سے افہام و تفہیم کے ذریعے معاملات طے کر لئے جا ئیں،ہو سکتا ہے کہ دوسری سیاسی جماعتوں کو یہ گمان ہو کہ آج متحدہ تو کل ان کی باری بھی آ سکتی ہے۔بہر حال ایم کیو ایم کے استعفے منظور نہیں ہوئے اور ان کو منانے کی ذمہ داری مولانا فضل الرحمن نے قبول کر لی اور 35سال بعد نائن زیرو کے لئے رخت سفر باندھا،لیکن ان کی ’یاترا‘ کو نظرلگ گئی، جیسے ہی وہ متحدہ کے مرکز پہنچے، خوشگوار ماحول سوگوار ہو گیا، متحدہ کے رہنما رشید گوڈیل پر جان لیوا حملے کی خبر آ گئی، مذاکرات کا سلسلہ وہیں رک گیا، لیکن اگلا دور اسلام آباد میں کرنے پر فریقین رضامند ہو گئے۔ایم کیو ایم کا وفد اسلام آباد آیا، وزیراعظم سے گلے شکوے ہوئے، وزیراعظم نے انہیں یقین دلایا کہ ان کے تحفظات کاجس حد تک ممکن ہو گا ازالہ بھی کیا جائے گا۔ تفصیلات طے کرنے کے لئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات پرویز رشید پر مشتمل حکومتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی،مذاکرات کے تین دورہوئے، لیکن تیسرے دور کے بعد ایم کیو ایم کو یہ گمان ہوا کہ حکومت سنجیدہ معلوم نہیں ہوتی اِس لئے اب اس بات چیت سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا، ایسا لگتا ہے ایم کیو ایم بھی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرح سو فیصد نمبر وں سے کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔یہ اور بات کہ ایسی مکمل فتح تو عمران خان کے حصے میں بھی نہیں آئی تھی۔ شکایات کی سماعت کے لیے ازالہ کمیٹی پر اتفاق ہوا تھا کہ ایم کیو ایم نے نئے مطالبے پیش کر دئیے۔ ایک تو یہ کہ اسے اپنے دفاتر کھولنے اور کھالیں جمع کرنے کی اجازت دی جائے، اور دوسرا یہ کہ الطاف حسین کے ٹیلی فون خطابات کو ٹیلی کاسٹ ہونے دیا جائے، حکومتی وزراء کا موقف تھا کہ یہ سب مطالبے شکایات کے ازالے کے لئے قائم ہونے والی کمیٹی کے سامنے پیش کیے جانے چاہئیں۔ اس پر بھنا کر بائیکاٹ کر دیا گیا، مذاکرات کا ٹوٹا ہوا سرا جوڑنے کے لیے اب وزیراعظم نواز شریف مولانا فضل الرحمن کی طرف دیکھ رہے ہیں اور خبریں گرم ہیں کہ مولانا فضل الرحمن نے ایم کیو ایم کو منانے کی کوششیں پھر تیز کر دی ہیں، لیکن ساتھ ہی حکومت سے گارنٹی بھی مانگی ہے کہ جو بھی ڈیل وہ کریں گے اس پر عمل کیا جائے گا۔ دیکھیں اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

بہتر تو یہی ہو گا کہ معاملات خوش اسلوبی سے طے ہو جائیں، لیکن اس کے لئے ایم کیو ایم کو بھی لچک کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ماضی میں کئی مواقع ایسے آئے ہیں، جب جناب الطاف حسین کی تقاریر کی وجہ سے مختلف حلقوں میں بے چینی پھیلی، بہت سوں کی دِل آزاری ہوئی،انہوں نے قومی اداروں کے لئے توہین آمیز زبان استعمال کی۔ یہ بات سمجھنا ہو گی کہ آزادئ اظہار بے لگام نہیں ہوتی۔ حالات کے پیش نظر تومتحدہ کے رہنماؤں کومعاملہ فہمی سے کام لینا چاہئے، وہ شہری سندھ کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے، کثیر تعداد ووٹ حاصل کر کے ہی اسمبلی تک پہنچی ہے، کراچی آپریشن شروع کرنے میں اس کی رضا مندی بھی شامل تھی اس لئے اب اس کا پاس رکھے۔اہلِ حکومت کو بھی چاہئے کہ ’ جائز‘ شکایات کا ازالہ ممکن بنائے۔ ایک بات تو طے ہے کہ کراچی آپریشن پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کی سمت تبدیل کی جا سکتی ہے، امید کے اس چراغ کو اپنے ہی ہاتھ سے بجھایا نہیں جا سکتا۔

مزید : اداریہ