کرکٹر محمد حفیظ سے بھی دھوکہ دہی

کرکٹر محمد حفیظ سے بھی دھوکہ دہی

مُلک میں جائیداد کی خرید و فروخت ایک ایسا کاروبار ہے، جس میں مندا اور عروج آتا رہتا ہے، جس کے پاس بھی رقم آئے اسے رئیل اسٹیٹ میں لگانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جو لوگ تو باقاعدہ اس کاروبار سے منسلک ہیں ان کی کیفیت مختلف ہے، لیکن جو اس کے اسرار و رموز سے آشنا نہیں ان کو کسی ماہر کا سہارا لینے یا ان پر اعتماد کرنا پڑتا ہے اور یہیں دھوکا دہی بھی ہوتی ہے، فراڈ کے حوالے سے مقدمات کی واضح اکثریت پراپرٹی سے متعلق ہے اور یہاں دھوکا بازی ہوتی ہے، اب پاکستان ٹی20ٹیم کے سابق کپتان محمد حفیظ نے وزیراعلیٰ پنجاب سے استدعا کی ہے کہ ان کو دھوکے سے خوردبرد کی جانے والی رقم یا پلاٹ دلایا جائے کہ پولیس ان کو پھیرے لگوا رہی ہے۔ محمد حفیظ کے مطابق اس نے کمرشل پلاٹ خریدا اور اس کے لئے ڈھائی کروڑ روپے ادا کر دیئے تاہم جو پلاٹ دکھایا گیا وہ متعلقہ حضرات کی ملکیت نہ نکلا اور حفیظ کے تقاضے پر ان کی طرف سے رقم کا ایک حصہ تو واپس کیا گیا، باقی ڈیڑھ کروڑ روپے سے زیادہ رقم کا چیک دیا گیا جو کیش نہ ہوا، اور باؤنس ہو گیا، پولیس سے شکایت کی گئی، مگر تسلی دلاسے کے سوا کچھ نہ ہوا۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اس کا نوٹس لیا اور پولیس کو ہدایت کی ہے کہ محمد حفیظ کی فوری طور پر داد رسی کی جائے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت کے بعد کیا ہوتا ہے یہ تو وقت بتائے گا تاہم محمد حفیظ کی شکایت درست ہے تو پھر افسوس ناک ہے کہ قانون ہوتے ہوئے بھی پولیس کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔ حفیظ کا کہنا ہے کہ اگر ان کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے تو عام آدمی کے ساتھ کیا ہوتا ہو گا۔یہ فریاد اور وزیراعلیٰ کا نوٹس اپنی جگہ، لیکن آج کے دور میں یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی پر آنکھ بند کر کے اعتبار نہ کیا جائے اور خریداری کے وقت مکمل دستاویزی ثبوت ملاحظہ کئے جائیں، اس کے ساتھ ہی پولیس کے لئے بھی یہ لازم ہے کہ دھوکا دہی ہو تو قانون کے مطابق کارروائی پوری کرے اور حق دار کو حق دلائے۔

مزید : اداریہ