جنگِ ستمبر اور قومی جذبہ!

جنگِ ستمبر اور قومی جذبہ!
جنگِ ستمبر اور قومی جذبہ!

  

ستمبر1965ء میں پاکستان کے سیاسی حالات بھی تناؤ اور محاذ آرائی والے تھے۔ اس وقت برسر اقتدار صدر ایوب خان نے اسی سال کے اوائل میں بنیادی جمہوریت کے تحت اسمبلیوں اور صدر کے انتخابات کرائے تھے۔ مُلک میں سیاسی جماعتوں نے متحدہ محاذ بنایا اور جب ایوب خان نے صدارتی انتخاب کا اعلان کیا تو ان کے مقابلے میں کل جماعتی اتحاد کی طرف سے مادرملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ کو امیدوار بنایا گیا اور مُلک میں فیلڈ مارشل کے خلاف فضا بن گئی، اس کے بعد انتخابی مہم چلی اور محترمہ فاطمہ جناح کے حق میں فضا ہموار ہوتی چلی گئی، انتخابی مہم کے حوالے سے ایک انتخابی جلسہ باغ بیرون موچی دروازہ میں بھی ہوا، جس سے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ نے خطاب کیا تھا۔ یہ بہت بڑا جلسہ تھا اس کے لئے سٹیج روایت سے ہٹ کر پولیس چوکی موچی گیٹ کے عقب کی بجائے مسجد کے سامنے بڑے بوڑھ کے نیچے بنائی گئی کہ دونوں اطراف سے لوگ مادر ملت کو دیکھ سکیں، انتخابی مہم کو دیکھنے کے بعد ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ فتح مادر ملت کی ہو گی، لیکن یہاں رائے دہندگی کا حق عوام کو نہیں، ان بنیادی جمہوریت کے اراکین کو تھا، جو مُلک بھر سے یونین کونسلوں کے رکن کی حیثیت سے چنے گئے تھے، چنانچہ الیکشن کے روز سے پہلی شب ان حضرات کو تھانوں میں جمع کیا گیا اور صبح یہ وہاں سے پولیس کی نگرانی میں ووٹ ڈالنے گئے، نتیجہ ظاہر ہے کہ خلاف نکلا اور ایوب خان نے یہ الیکشن جیت لیا، مجلس عمل نے دھاندلی کا الزام لگایا اور کہا کہ یہ انتخاب دھونس دھاندلی سے جیتا گیا ہے۔

بتانا یہ مقصود ہے کہ6ستمبر1965ء سے قبل سیاسی میدان میں سخت تناؤ تھا اور سیاسی اتحاد والے ایوب خان کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، اس کے باوجود بھارت نے رات کی تاریکی میں بین الاقوامی سرحد پار کی اور حملہ کیا تو صبح خبریں سنتے ہی حزب اختلاف کی یہ تمام جماعتیں متحد ہو کر کسی کے بلائے بغیر خود صدر ایوب کے پاس گئیں اور اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا، یوں قوم یک جان ہوئی اور جذبہ بیدار اور پیدا ہوا۔ستمبر کی اس جنگ کے دوران پاکستان کے شہریوں نے مکمل یکجہتی کا ثبوت دیا، نوجوانوں نے شہری دفاع کی تنظیم میں شرکت کی اور رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دینے لگے۔ عوامی سطح پر جنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا اس لئے شہری سڑکوں پر نعرہ تکبیر بلند کرتے نظر آتے تھے، مسلح افواج کے جوان سرحد کی طرف جاتے کہیں سے گزرتے تو ان کو پھولوں سے لاد دیا جاتا ہے اور پھلوں کے ٹوکرے پیش کئے جاتے تھے۔ یہ جو لاہوری ہیں یہ کچھ زیادہ ہی زندہ دل ہیں۔ یہ تو اس روز چھتوں پر نعرے بلند کر رہے تھے جب لاہور کی فضا میں بھارتی طیارے گھس آئے اور ہمارے شاہینوں نے ان کو گھیر لیا تھا، شہریوں نے لاہور کے اوپر ہونے والی یہ ڈوگ فائٹ سڑکوں اور چھتوں پر کھڑے ہو کر دیکھی اور نعرے بلند کرتے رہے، جب بھارتی طیارے بھاگے تو شہریوں نے بھنگڑے ڈالے تھے۔

جنگی نقطہ نظر سے یہ غلط بات تھی اور اسی کے نتیجے میں کسی طیارے کے ایک بلٹ نے اندرون موچی دروازے کے ایک مکان کی چھت پر یہ لڑائی دیکھنے والے کو شہید کر دیا تھا۔ اسی طرح جب بھارتی طیاروں نے فضائی حدود میں مداخلت کر کے لاہور ریلوے سٹیشن کو نشانہ بنایا اور نولکھا کے سامنے بم گرا کر بھاگے تو بھی شہری سڑکوں پر تھے اور جب شاہینوں نے بھارتی طیاروں کو مار بھگایا تو یہ سب متاثرہ مقام کی طرف چل پڑے تھے، فائر بریگیڈ اور امدادی کام کرنے والوں نے ان کومشکل سے روکا پولیس سے تعاون لیا تھا۔

جذبہ حب الوطنی کا یہ عالم تھا کہ جب ایک ٹیڈی پیسہ ایک ٹینک کی سکیم سامنے لائی گئی، تو عوام نے نوٹوں سے ڈبے بھر دیئے تھے، حتیٰ کہ خواتین نے اپنے زیورات بھی دیئے، اس دور کے جذبے کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ جنگِ ستمبر کے دوران جرائم کی شرح صفر ہو گئی تھی اور جرائم پیشہ افراد نے بھی مُلک کی خاطر جذبہ ملی کا ثبوت دیا تھا۔ یوں پوری قوم یک جان نظر آئی اور کہیں بھی کوئی تنازعہ نہیں تھا۔جنگ کی حالت میں رات کو بلیک آؤٹ بھی ہوتا تھا، جب بھارتی طیاروں کی آمد کی خبر دینے کے لئے سائرن بجتے تو چراغ گل ہو جاتے تھے، قوم مثالی تعاون کرتی تھی اور کسی جگہ سے بھی روشنی نظر نہیں آتی تھی، بدنظمی کی جو کیفیت جوش کے باعث ابتدائی دِنوں میں ہوئی وہ بتدریج نظم میں تبدیل ہوتی گئی اور پھر سول ڈیفنس اور قومی رضاکار شہریوں سے جو اپیل کرتے وہ مان لی جاتی تھی۔

سترہ روزہ جنگ کے بعد جب جنگ بندی ہوئی تو شہریوں نے سرحدوں کی طرف جا کر اپنے فوجی جوانوں کو خراج تحسین پیش کرنا شروع کر دیا تھا، حالات ذرا معمول پر آئے تو پھر طلباء تاجروں اور دوسرے طبقات کو وفود کی شکل میں سرحد تک جانے کی اجازت دی جانے لگی، اور شہری اپنے ساتھ پھل اور اشیاء خوردنی کی اتنی بھاری تعداد لے جانے لگے کہ ہمارے فوجی یونٹوں کے پاس یہ سب وافر ہو جاتی تھیں۔اس سلسلے میں ہمارا ذاتی تجربہ اور جذبہ یہ رہا کہ ہم اپنی فیڈریشن کے کارکن ہونے کی وجہ سے آزادئ صحافت کے قائل تھے، اور اس کے لئے جدوجہد بھی کرتے تھے تاہم ستمبر کی جنگ کے بعد ایک طریق کار کے تحت سنسر شپ لاگو ہوئی اور ہم جو خبریں جمع کرتے وہ آئی ایس پی آر سے کلیئر کرانا ہوتی تھیں۔ اس پر رتی بھر بھی اعتراض نہ ہوا، ہم خود اپنی خبریں جو جنگ سے متعلق ہوتی تھیں آئی ایس پی آر لے جاتے اور وہاں کرنل شجاع کی نگرانی میں سنسر کراتے تھے اور ان سے گپ بھی کرتے کہ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے رکن اور اچھے سپن باؤلر بھی تھے، آج یہ بتانا مقصود ہے کہ جنگِ ستمبر میں دشمن کے مقابلے میں قومی جذبہ فزوں تھا اور پوری قوم متحد ہو کر اپنی مسلح افواج کی پشت پر تھی۔

مزید : کالم