جنگ1965ء: راجستھان سیکٹر میں بھارتی پسپائی

جنگ1965ء: راجستھان سیکٹر میں بھارتی پسپائی
جنگ1965ء: راجستھان سیکٹر میں بھارتی پسپائی

  

تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اب تک دُنیا میں قوموں کے درمیان جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں، تمام کا نقطہ نگاہ ایک دوسرے سے مختلف رہا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد بھارت ہی ایک واحد مُلک ہے، جس سے پاکستان کے سرحدی معاملات سنگین حد تک خراب تر ہو رہے ہیں۔ اِسی سلسلے میں ان کے درمیان جنگوں کا سلسلہ بھی جاری رہ چکا ہے، مگر ستمبر 1965ء کی جنگ وہ واحد جنگ ہے،جو عجیب و غریب انسانی نفسیات پر لڑی گئی۔ یہ جنگ اپنی نوعیت کی منفرد اور لاثانی جنگ تھی۔۔۔کہتے ہیں طاقتور قومیں ہمیشہ اپنی طاقت کے گھمنڈ میں کمزور اقوام کو محکوم بناتی ہیں۔یہی نفسیات اس جنگ میں ہمارے پڑوسی مُلک بھارت کی بھی تھی، جس کے پاس نہ صرف ہم سے چار گنا زائد افرادی اور عسکری قوت موجود تھی،بلکہ جدید سامان حرب بھی موجود تھا، دوسری طرف پاکستانی فوج کے پاس قوت ایمانی کے سوا کچھ بھی نہیں تھا، جبکہ بھارت نے کراچی، وزیر آباد، چنیوٹ، سانگلہ ہل، چک جھمرہ کے علاقوں میں اپنی چھاتہ بردار فوج تک اتارنے میں عار محسوس نہ کی۔

سیالکوٹ سیکٹر میں چونڈہ کے علاقے میں 12 ستمبر کو ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی۔جسے جنگِ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ کہا جاتا ہے اور جس میں بھارت نے 600 بھاری سنچورین ٹینکوں اور کئی لاکھ فوج کے ساتھ حملہ کیا تھا، لیکن ہمارے تھوڑے سے بہادر فوجیوں نے بھارت کے ٹینکوں کی صفوں میں گھس کر اور گولے جسم پر باندھ کر ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر ایسی زبردست اور عبرتناک تباہی مچائی کہ پوری دنیا اش اش کر اٹھی اور یوں اس جنگ کے ہیرو کا اعزاز میجر راجا عزیز بھٹی کے حصے میں آیا، جن کو مُلک کا سب سے بڑا جنگی اعزاز نشانِ حیدر ملا۔ لاہور سیکٹر کے واہگہ اور برکی محاذ،سیالکوٹ سیکٹر کا چونڈہ محاذ، کھیم کرن سیکٹرز، راجستھان سیکٹر، جہاں ہماری شجاع اور بہادر فضائیہ کے جوانوں نے وہ وہ کارنامے انجام دیئے ہیں جو رہتی دنیا تک یادگار رہیں گے۔

ویسے تو مسلمانوں کی پوری تاریخ جنگ و جدل اور جہاد سے بھری پڑی ہے، لیکن 1965ء کی جنگ کی شان ہی نرالی ہے۔ فوج کے شانہ بشانہ شہریوں نے دشمن کے ساتھ لڑائی میں مختلف انداز میں حصہ لیا۔ہماری افواج جذبۂ ایمانی سے لیس تھی۔ ہم نے یہاں تک دیکھا کہ فوجی محاذ پر جانے سے پہلے داتا صاحب کے مزار پر حاضری دیا کرتے تھے۔ لاہور کے چاروں اطراف دشمن نے گھیرا تنگ کیا ہوا تھا اور بھرپور عسکری قوت سے حملوں کا سلسلہ جاری تھا۔ وہ تاریخ انسانی کا قیمتی حصہ بن گیا۔ انڈین آرمی نے جب راجستھان محاذ کھولا تو اس نے سب سے پہلے 8ستمبر کو گڈڑو کو اپنا نشانہ بنایااور اس پر قبضہ کرلیا،جس کا دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کا سہرا سیکٹر کمانڈرفقیر محمد ابراہیم جو کو جاتا ہے۔ 45مجاہدین کہ اس دستے نے تین گھنٹے کی گھمسان کی لڑائی کے بعد واپس حاصل کر لیا۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

مونا باؤ پاکستانی سرحد سے تقریباً 12 میل کے فاصلے پر ہے ۔ ہندو بنئے نے اس کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ پاک فوج کے تابڑ توڑ حملوں کے باوجود وہ ڈٹے رہے اور پاک فوج بھی ناامید نہیں تھی۔حروں نے پاک فوج سے مل کر ان کی سپلائی لائن کاٹ دی۔ توپیں اور مشین گنیں بارود برسا رہا تھیں، لیکن پاکستان کے فوجی آگے بڑھتے رہے۔ 12گھنٹوں کی شدید لڑائی کے بعد پاک فوج شہر میں داخل ہوگئی ۔ آخرکار دشمن پسپا ہوا اور موناباؤ سٹیشن پر سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا۔ راجستھان سیکٹر کا شمالی محاذ سرکاری کنواں ہندوستانی چوکیوں میں سے سب سے بڑی چوکی تھی، جہاں دشمن کے سپاہی ہر قسم کے اسلحے سے لیس ہزاروں کی تعداد میں موجود اورانتہائی پختہ مورچوں میں بیٹھے ہوئے تھے، دوسری طرف سے 125فوجی اور مجاہدین تھے۔ان مجاہدین نے نہایت ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے ان کا گھیرا تنگ کر دیا اور ان کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا، دشمن کے سپاہی لاشیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔

حقیقت یہ ہے کہ جنگ ستمبر افواج پاکستان کی شجاعت ، دلیری اور جانبازی کی وہ تاریخ رقم کر گئی،جس نے خلافت عثمانیہ کے بعد دُنیا کے نقشے پر ملت اسلامیہ کی ایک قوت کو زندہ کیا۔ 1965ء کی جنگ کا ہر محاذ جذبہ حریت کی داستان رقم کر گیا۔ اس جنگ میں پوری قوم فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی تھی۔ ہمیں سوچنا چاہئے،جس قوم نے رات کے اندھیرے میں حملہ کرنے والے اپنے سے چار گنا بڑے دشمن کو شکست سے دوچار کر کے بازو مسلم کا زور دکھایا۔ آج بھی وہ قوم دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی لئے تیار ہے۔

مزید : کالم