کمی فیس میں ملوث ریونیو سٹاف سیٹون پر برا جمان ، ریکوری نہ ہو سکی

کمی فیس میں ملوث ریونیو سٹاف سیٹون پر برا جمان ، ریکوری نہ ہو سکی

 لاہور(عامر بٹ سے)انکم ٹیکس،اے جی آفس ،انسپکٹر جنر ل آف رجسٹریشن پنجاب اور سٹیمپ برانچ کی آڈٹس ٹیموں کی جانب سے کی جانے والی انسپکشن کے نتیجے میں رجسٹریشن فیس،سٹیمپ ڈیوٹی اور سی وی ٹی کی مد میں نکلنے والی '' کمی فیس''میں ملوث ضلع لاہور کے بااثر سب رجسٹرار اور طاقتور رجسٹری محرروں کو کو مکمل چھوٹ دے گئی،پچھلے 5سالوں سے کمی فیس میں ملوث تمام چہیتے رجسٹری محرر پوری آب و تاب سے سیٹوں پر براجمان ہو گئے،واہگہ ٹاؤن کے حافظ ندیم،عزیز بھٹی ٹاؤن کے راجا ندیم،سمن آباد کے چوہدری اکرم،گلبرک ٹاؤن کے رمضان سمیت دیگر ذمہ دار سٹاف کی نااہلی،غفلت اور بدنیتی ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن لاہور نے نظر انداز کر دی ، بورڈ آف ریونیو کے ممبر ٹیکسز پنجاب ،ممبر جوڈیشل 6سمیت دیگر آڈٹ ایجنسیز کی رپورٹس اور ہدایات بھی پس پشت ڈال کر تمام قوانین و ضوابط کی دھجیاں بکھیر دی گئیں، گزشتہ 5سالوں کے دوران ایک روپیہ کی ریکوری بھی حکومتی خزانے میں جمع نہ کروائی جا سکی، روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق ممبر ٹیکسز پنجاب، ،چیف سٹیمپ انسپکٹر پنجاب،اے جی آفس اور انسپکٹر جنرل آف رجسٹریشن برانچ انتطامیہ کی جانب سے دی جانے والی تحریری ہدایات بھی مسلسل نظر انداز کئے جانے کی روایت قائم کر دی گئی ،پنجاب کے ماتحت ڈیپارٹمنٹ بورڈ آف ریونیو ،اے جی آفس ،انکم ٹیکس کی تشکیل کردہ انسپکشن آڈٹ ٹیموں کی جانب سے کئی کئی گھنٹوں ،دنوں اور سالوں کی مشقت کے بعد رجسٹریشن برانچوں میں نکالی جانے جانے والی کمی فیس پر محکمہ ریونیو کی ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن لاہور ریکوری کرنے کی بجائے نااہل ،کرپٹ اور سفارشی اہلکاروں کی بد نیتی پر پردہ ڈالنے کی پریکٹس کو ناصرف جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ فرضی اعدود شمار اور کاغذی کاروائی پر مبنی رپورٹس مرتب کرتے ہوئے بورڈ آف ریونیو سمیت ڈی سی او اور کمشنر لاہور جیسے افسران کو بھی گزشتہ پانچ سالوں سے اندھیرے میں رکھے ہوئے ہیں ،ذرائع کے مطابق سب رجسٹرار واہگہ ٹاؤن آفس میں یکم جنوری 2015تک رجسٹریشن کمی فیس 91ہزار 2سو 79،سٹیمپ ڈیوٹی کمی فیس 1لاکھ 77ہزار 519،سی وی ٹی کمی فیس 16لاکھ 86ہزار 69،سب رجسٹرار نشتر ٹاؤن مارچ 2015تک رجسٹریش فیس کمی فیس 38لاکھ 16ہزار61روپے،سٹیمپ ڈیوٹی کمی فیس 25لاکھ 45ہزار 405،سی وی ٹی کمی فیس59لاکھ 87ہزار 878،سب رجسٹرار عزیز بھٹی ٹاؤن ستمبر 2014تک رجسٹریشن فیس 23ہزار 15روپے،سٹیمپ ڈیوٹی 2150روپے،سی وی ٹی ،12لاکھ 84ہزار 580روپے،سب رجسٹرار سمن آباد ٹاؤن جون 2014تک رجسٹریشن کمی فیس 43 ہزار 805روپے ،سٹیمپ ڈیوٹی کمی فیس 87ہزار 610روپے،سی وی ٹی کمی فیس 12لاکھ 190روپے،سب رجسٹرار علامہ اقبال ٹاؤن مئی 2014تک 3لاکھ 53ہزار 88روپے ،سٹیمپ ڈیوٹی کمی فیس 7لاکھ 4ہزار 633روپے،سی وی ٹی کمی فیس 16لاکھ 83ہزار 890روپے،سب رجسٹرار داتا گنج بخش ٹاؤن مارچ 2014تک رجسٹریشن کمی فیس 11 لاکھ 79ہزار 298روپے،سٹیمپ ڈیوٹی کمی فیس 19لاکھ 10ہزار 837روپے،سی وی ٹی کمی فیس 94لاکھ 12ہزار 607روپے،سب رجسٹرار گلبرگ ٹاؤن جنوری 2014تک رجسٹریشن کمی فیس 625،سی وی ٹی کمی فیس 7لاکھ 95ہزار 75روپے ہے لیکن پانچ سالوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ریکوری کرنے کے سے لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے جبکہ ،انسپکٹر جنرل آف رجسٹریشن ،سٹیمپ ،انکم ٹیکس اور اے جی آفس کی جانب سے کئے جانے والے آڈٹس اور ان کے نتیجے میں نمایاں ہونے والی ''کمی فیس'' کے تمام ریفرنس بھی ایچ آر سی برانچ میں التواء کا شکار کردیئے گئے ہیں اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور کی عدم توجہ بھی'' کمی فیس'' میں ملوث اہلکاروں کے تحفظ کا باعث بنی ہوئی ہے چونکہ 100فیصد رجسٹریشن برانچوں کے آڈٹس کی ذمہ داری ڈی سی او پر عائد ہوتی ہے اور پنجاب حکومت کی دیگر انسپکشن آڈٹس ایجنسی اپنے محدود لاء میں رہ کر آڈٹس رپوٹس مرتب کرتی ہوئی دیکھائی دیتی ہیں اس ضمن میں بورڈ آف ریونیو پنجاب کے سینئر ممبر اورممبر ٹیکسز پنجاب کو بھی کاغذی کاروائیوں تک محدود کردیا گیا ہے، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب ندیم اشرف اور ممبر ٹیکسز پنجاب ساجد یوسفانی کی جانب سے بھی متعدد مرتبہ آن ریکارڈ اور تحریری طورپر ہدایت کی جا چکی ہے جو کہ مسلسل نظر انداز کی جارہی ہے ،ریونیو ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر''ریونیو'' لاہور عرفان نواز میمن ،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر جنرل اسفند یار بلوچ اور ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر )محمد عثمان کو کمی فیس میں ملوث تمام سرکاری ملازمین سے بروقت ریکوری کروانے کیلئے سخت اقدامات کرنے ہوں گے اور ان کو تحفظ فراہم کرنے والی لابی کے خلاف بھی ایکشن لینا ہو گا جس کی وجہ سے حکومتی خزانہ کئی سالوں سے زیر التواء ریکوری سے محروم ہو چکا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1