کیا تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی قریب آئیں گی یا دوریاں بڑھیں گی؟

کیا تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی قریب آئیں گی یا دوریاں بڑھیں گی؟

تجزیہ:قدرت اللہ چودھری

یار لوگ امید لگائے بیٹھے تھے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے مفاہمت کی سیاست کو خیر باد کہنے اور آصف زرداری کے وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف سخت بیان کے بعد پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف قریب آ جائیں گی لیکن ایسا لگتا ہے ابھی وہ شبھ گھڑی نہیں آئی، یا پھر دونوں جماعتوں کی کنڈلی ملنے کی تاریخ دور ہے، کیونکہ عمران خان نے شکار پور میں ہرن کے لذیذ گوشت سے لُطف اندوز ہو کر جو شیریں گفتگو کی، پیپلز پارٹی کے رہنما اسے سن کر بد مزہ ہو گئے، عمران خان کا انداز تکلم یہ تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت کو تورگیدتے رہے لیکن مرحومین کی مدح سرائی کرنا بھی ضروری سمجھا، انہوں نے کہا سندھ میں کرپشن نہیں لوٹ مار ہو رہی ہے، اور لوٹ مار کی اس رقم سے دبئی میں محل خریدے جا رہے ہیں اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ختم ہو چکی ہے اور سندھ کے عوام بھی اب تبدیلی مانگ رہے ہیں، عمران خان سندھ کے دورے پر ہیں اور وہاں براہ راست عوام سے رابطے کے ذریعے ممکن ہے انہوں نے محسوس کیا ہو کہ سندھ کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں، لیکن یہ تبدیلی آئے گی کیسے؟ اس کا کوئی راستہ تحریک انصاف نے نہیں بتایا۔ تبدیلی کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ جو جماعت سندھ میں تبدیلی کی خواہش مند ہے وہ پہلے خود کو پورے سندھ میں منظم کرے، پیپلز پارٹی اندرون سندھ سے الیکشن جیت کر سندھ پر حکومت کر رہی ہے، اسے دیہی سندھ بھی کہا جاسکتا ہے، کراچی حیدر آباد سمیت شہری سندھ میں ایم کیو ایم مضبوط جماعت ہے۔ تحریک انصاف سمیت باقی جماعتوں کی سندھ اسمبلی میں نمائندگی برائے نام ہے۔ عمران خان کی جماعت کو اس کا تجربہ کراچی کے ضمنی الیکشن میں بھی ہوگیا ہوگا۔ اس سے پہلے ان کی جماعت عام انتخابات میں کراچی سے ایک نشست جیتنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔ ان کی پارٹی کے سینئر رہنما مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی سندھ سے الیکشن لڑا تھا مگر جیت نہیں سکے، اس وقت ممکن ہے کچھ ”پاکٹس“ ایسی ہوں جہاں تحریک انصاف کے رہنماﺅں کا اثر و رسوخ ہو، لیکن یہ تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ عمومی طور پر تحریک انصاف اس پوزیشن میں نہیں کہ پیپلز پارٹی کو بڑے پیمانے پر کسی ایسی شکست سے دوچار کرسکے کہ وہ سندھ میں بھی حکومت بنانے کے قابل نہ رہے۔ لیکن اگر عمران خان نے یہ کہا ہے کہ پیپلز پارٹی ختم ہوگئی ہے تو سوچ سمجھ کر ہی یہ رائے قائم کی ہوگی۔ اگر سندھ سے پیپلز پارٹی واقعی ختم ہوگئی ہے تو پھر کیا تحریک انصاف اس کی جگہ لینے کے لئے تیار ہے۔ اس سوال کو یہیں چھوڑ کر آگے چلتے ہیں۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی خدمات کا اعتراف کیا تو جواب میں پیپلز پارٹی نے انہیں یاد کرایا کہ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر وہ ایسا بیان دینے سے پہلے ان کی قبروں پر حاضری دیں، فاتحہ پڑھیں تاکہ پیپلز پارٹی والوں کے دل ٹھنڈے ہوں۔ اب دیکھیں عمران خان، پیپلز پارٹی کی اس خواہش کو کب اور کس طرح پورا کرتے ہیں۔ ویسے اگر خان صاحب چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ان کی جماعت کے فاصلے کم ہو جائیں تو پہلی فرصت میں فاتحہ خوانی کے لئے جاکر پوائنٹ سکور کرسکتے ہیں۔ عمران خان نے یہ اعلان بھی کیا کہ کراچی کو صوبہ نہیں بننے دیں گے۔ اس سے اندرون سندھ والے تو خوش ہوں گے، جن کا کہنا ہے ”مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں“ لیکن اس پر ایم کیو ایم کا فوری ردعمل یہ سامنے آیا ہے کہ عمران خان کو یہ بیان دینے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لینا چاہئے تھا کہ آئین میں نئے صوبے بنانے کا راستہ بند نہیں کیا گیا بلکہ ایک طریق کار طے کیا گیا ہے جس پر چل کر کسی بھی صوبے میں نیا صوبہ بنایا جاسکتا ہے۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ عمران خان خود آئین پڑھ لیں یا اپنی جماعت کے جسٹس وجیہہ الدین اور حامد خان جیسے نامور ماہرین آئین سے پوچھ لیں کہ صوبہ بنانے کا آئینی طریقہ کار کیا ہے؟ اور اگر کوئی جماعت اس راستے کو اپنا کر صوبہ بنانا چاہے تو اس کی راہ میں کیا رکاوٹ ہے؟

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

آئین میں نیا صوبہ بنانے کا جو طریق کار طے ہے موجودہ حالات میں تو ایم کیو ایم اس پر چل کر کامیابی حاصل نہیں کرسکتی لیکن اگر وہ اپنی نمائندگی کا دائرہ کار وسیع کرلے اور سندھ کے عوام بھی اس کے ساتھ ہوں تو آئینی طریقے سے صوبہ بنانے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے، یاد آیا سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اپنے دور میں سرائیکی صوبہ بنانے کے بڑے پرجوش حامی تھے، اور کہتے تھے کہ اگر ان کے دور میں بھی صوبہ نہ بنا تو کب بنے گا؟ لیکن صوبہ تو خیر کیا بننا تھا حالات کے جبر نے انہیں 2013ءکا الیکشن لڑنے کے بھی قابل نہ چھوڑا، انہوں نے اپنے جن بیٹوں اور بھائیوں کو الیکشن لڑوایا وہ سب بھی بری طرح ہار گئے اور یوں یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا، بہرحال پنجاب اور دوسرے صوبوں میں نئے صوبوں کے لئے آواز اٹھتی رہتی ہیں، کراچی کو باقاعدہ صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی ایم کیو ایم نے کر رکھا ہے، لیکن اس وقت تو ایم کیو ایم کو صوبے سے زیادہ قربانی کی کھالوں سے دلچسپی ہے۔ اگر یہ بات درست ہے کہ حکومت کے ساتھ اس کے جو مذاکرات ختم ہوئے ہیں، ان کے ٹوٹنے کا سب سے بڑا سبب کھالیں تھیں تو یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ لمحہ موجود میں ایم کیو ایم کے لئے بڑا مسئلہ صوبہ نہیں، کھالیں ہیں۔ اب دیکھئے نا اگر حکومت بظاہراتنابے ضرر سا مطالبہ نہیں مان سکتی تو صوبے جیسا بڑا مطالبہ کیسے مانا جائے گا۔ اب اصل امتحان مولانا فضل الرحمن کا ہے جنہیں ایم کیو ایم کے استعفے واپس کرانے ہیں، اور امید یہی ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہو جائیں گے، ویسے ایم کیو ایم کی قیادت سے یہ پوچھنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اگر ان کے استعفے منظور ہوگئے اور ضمنی الیکشن کا اعلان ہوگیا تو کیا ایم کیو ایم ان انتخابات میں دوبارہ حصہ لے گی یا میدان مخالفین کے لئے خالی چھوڑ دے گی؟ اوراگر دوبارہ الیکشن کی مشقت ہی برداشت کرنی ہے تو پھر اس ساری مشق کا کیا فائدہ؟

مزید : تجزیہ