لاہور اور لودھراں کے ضمنی انتخابات

لاہور اور لودھراں کے ضمنی انتخابات
 لاہور اور لودھراں کے ضمنی انتخابات

  

لاہور اور ملتان کے دو الیکشن ٹربیونلوں نے قومی اسمبلی کے دو حلقوں میں انتخابی عذر داریوں کا فیصلہ سناتے ہوئے ان حلقوں میں دوبارہ الیکشن کا حکم دیا۔ یہ حلقے لاہور میں این اے122اور لودھراں میں این اے154 ہیں، جن میں بالترتیب سردار ایاز صادق اور صدیق خان بلوچ منتخب ہوئے تھے۔ ان میں سردار ایاز صادق کا حلقہ دو وجوہات کی وجہ سے زیادہ ہائی پروفائل تھا، ایک یہ کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو شکست دی تھی، دوسری یہ کہ انہیں قوی اسمبلی میں سپیکر کا عہدہ دیا گیا تھا۔ ٹریبونل کے فیصلے سے نہ صرف ایک ممبر قومی اسمبلی، بلکہ سپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب کالعدم قرار دیا گیا۔ صدیق خان بلوچ نے آزاد حیثیت میں پی ٹی آئی اے کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کو شکست دی تھی، لیکن بعد میں وہ اپنا حق استعمال کر کے پاکستان مسلم لیگ(ن) میں شامل ہو گئے۔ پہلی نظر میں ان دونوں حلقوں کی ایک اہمیت یہ تھی کہ ان میں پی ٹی آئی اے کے چیئرمین اور سیکرٹری جنرل کو شکست ہوئی تھی۔ الیکشن ٹریبونل نے قومی اسمبلی کے ان دو حلقوں میں انتخابی عذر داریوں کا فیصلہ سنایا، تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنماؤں کی اکثریت نے رائے دی کہ سپریم کورٹ کی بجائے عوام کی عدالت سے رجوع کیا جائے، جس پر میاں نواز شریف نے اکثریتی رائے کا احترام کرتے ہوئے عوام کی عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا۔ اب ان دونوں حلقوں میں 11 اکتوبر کو پولنگ ہوگی۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان جب الیکشن کمیشن کے ممبران کے استعفا کی بات کرتے ہیں تو وہ ایسا تاثر دیتے ہیں، جیسے ان ممبران کی وجہ سے وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت بن گئی ہے۔ مجھے حیرانی اس بات پر ہوتی ہے کہ اسی الیکشن کمیشن کے تحت کرائے گئے الیکشن میں خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت بنی تھی، اس لئے اگر وفاق اور پنجاب کی منتخب کردہ حکومتوں میں کوئی خرابی ہے، تو یہی خرابی خیبرپختونخوا کی منتخب کردہ حکومت میں بھی ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو کا طریقہ اپناتے ہوئے صرف وفاق اور پنجاب پر انگلی اٹھائی جائے اور خیبرپختونخوا کا ذکر نہ کیا جائے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، کیونکہ خیبرپختونخوا میں کرائے گئے حالیہ بلدیاتی انتخابات اور پورے مُلک میں کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات بھی اِسی الیکشن کمیشن اور انہی ممبران نے کرائے تھے۔ اگر یہ ممبران اتنے غلط تھے، توخیبرپختونخوا کی حکومت نے بلدیاتی الیکشن کیوں کروائے اور اب ان نو منتخب بلدیاتی اراکین نے حلف بھی اُٹھا لئے ہیں اور یہ سب پی ٹی آئی حکومت کے تحت ہی ہو رہا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ممبران کا ایشو ان دونوں حلقوں کے ضمنی الیکشن کے وقت ہی کیوں اٹھایا جا رہا ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے نہ صرف خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کرائے، جس کے ہزاروں اراکین اب اپنے عہدوں کا حلف بھی لے چکے ہیں،بلکہ پچھلے سال والے دھرنے کے بعد ہونے والے نصف درجن سے زائد ضمنی انتخابات میں بھی اِسی الیکشن کمیشن اور انہی ممبران کے تحت حصہ لے چکی ہے۔ بات بہت سیدھی ہے، پچھلے چند ماہ میں ہونے والے ضمنی انتخابات اور کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن کے نتائج عمران خان کے سامنے ہیں، جن میں مسلم لیگ(ن) نے تقریباً ہر جگہ پی ٹی آئی کو شکست دی ہے اور ان دونوں حلقوں این اے122، اور این اے154 کا بھی کوئی مختلف نتیجہ متوقع نہیں ہے۔ الیکشن ٹریبونل نے قومی اسمبلی کے دو حلقوں میں انتخابی عذر داریوں کا فیصلہ سنایا، تو اس کے بعد پی ٹی آئی نے اس کا اتنا زیادہ جشن منایا ہے کہ اب ان حلقوں میں الیکشن ہارنا ان کے لئے کافی شرمندگی کا باعث ہو گا۔ اگر عمران خان ان عذرداریوں کے نتائج کو نارمل طریقے سے لیتے، تو شائد اتنی مشکل نہ ہوتی، لیکن ان کا ردعمل بہت حد تک آپے سے باہر ہونے والا تھا اور اب وہ متوقع نتائج کو اپنے خلاف جاتا دیکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اطلاعات پرویز رشید کو کہنا پڑا ہے کہ وہ عمران خان کو میدان سے بھاگنے نہیں دیں گے، اگر اس صورتِ حال کو سیاسی تناظر میں دیکھا جائے، تو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی ایک عجیب مصیبت میں پھنس چکی ہے، کیونکہ میدان سے راہِ فرار بھی ایک ایسا آپشن ہے،جس کا فائدہ تو ایک بھی نہیں ہو گا، لیکن سیاسی نقصانات بے شمار ہوں گے۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) اِن دونوں۔۔۔ حلقوں این اے122 اور این اے154 میں جیت کے بارے میں اگر اتنی پُرامید ہے تو یہ اتنا غلط بھی نہیں ہے، کیونکہ یہ دونوں اس کے مضبوط حلقے ہیں۔ موجودہ حلقہ بندیاں 1998ء کی مردم شماری کے نتیجے میں2002ء کے الیکشن سے پہلے کی گئی تھیں، ان حلقوں میں 2002، 2008ء اور2013ء میں عام انتخابات ہو چکے ہیں۔ اگر ان دونوں حلقوں کے تینوں انتخابات میں نتائج دیکھے جائیں، تو ساری صورت حال واضح ہو جاتی ہے۔ 2002ء کے الیکشن میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا اور مسلم لیگ(ن) کی قیادت جلاوطنی میں تھی،لیکن ان نامساعد حالات میں بھی مسلم لیگ(ن) کے سردار ایاز صادق نے یہاں سے الیکشن جیتا تھا، انہوں نے37531ووٹ لئے تھے، جبکہ شکست کھانے والوں میں پی ٹی آئی کے عمران خان نے 18638، پیپلزپارٹی کے چودھری غلام قادر نے 17561 اور مسلم لیگ(ق) کے امین چودھری نے 12098 ووٹ لئے تھے۔ صاف ظاہر ہے کہ سردار ایاز صادق کے ووٹ عمران خان سے دوگنا سے بھی زیادہ تھے۔2008ء کے الیکشن میں مسلم لیگ(ن) کے سردار ایاز صادق نے ایک بار پھر بھاری مارجن سے الیکشن جیتا، انہوں نے 79506 ووٹ حاصل کئے، جبکہ ہارنے والوں میں پیپلزپارٹی کے میاں عمر مصباح الدین نے 24963 اور مسلم لیگ(ق)کے میاں محمد جہانگیر نے 10657 ووٹ حاصل کئے۔ پی ٹی آئی نے2008ء کے الیکشن کا بائیکاٹ کر کے میدان سے راہِ فرار اختیار کی تھی۔ 2013ء کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے سردار ایاز صادق نے ایک بار پھر عمران خان کو شکست دے کر اس حلقے سے جیتنے کی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔

سردار ایاز صادق نے93389 اور عمران خان نے 84517ووٹ حاصل کئے، جبکہ کسی اور پارٹی کے کسی امیدوار نے قابلِ ذکر ووٹ حاصل نہیں کئے، جہاں تک لودھراں کے حلقہ این اے154 کا تعلق ہے،2002ء کے انتخابات میں مسلم لیگ(ق) کے نواب امان اللہ خان نے 94651 اور پیپلزپارٹی کے مرزا ناصر بیگ نے 76939 ووٹ حاصل کئے۔2008ء کے الیکشن میں صدیق خان بلوچ نے مسلم لیگ(ق) کے ٹکٹ پر 81983 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ پیپلزپارٹی کے مرزا ناصر بیگ نے ایک سخت مقابلے میں 79611 ووٹ حاصل کئے۔ 2013ء کے الیکشن میں آزاد امیدوار صدیق خان بلوچ نے86177ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کر کے قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) میں شمولیت حاصل کی۔ پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین نے75955 اور مسلم لیگ (ن) کے رفیع الدین بخاری نے45634 ووٹ لئے۔ 2013ء سے پہلے جہانگیر ترین اپنا الیکشن رحیم یار خان سے اپنے برادر نسبتی مخدوم احمد محمود کے حلقے سے لڑا کرتے تھے، لیکن جب ان کی آپس میں لڑائی ہو گئی، تو جہانگیر ترین کو وہاں سے بے دخل کر دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے لودھراں سے الیکشن لڑا، جہاں ان کے وسیع و عریض زرعی فارم ہیں۔ عمران خان ایک قابلِ احترام سیاست دان اور کرکٹ کے حوالے سے قومی ہیرو ہیں، لیکن میرے خیال میں سیاسی فیصلے کرتے ہوئے انہیں نسبتاً زیادہ بلوغت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ عوام کی عدالت سے فرار یقیناًایک غلط راستہ ہو گا، وہ2008ء میں بھی یہ غلطی کر کے بھاری سیاسی نقصان اُٹھا چکے ہیں۔ سردار ایاز صادق این اے 122 سے لگاتار تین بار جیت کر ہیٹ ٹرک کر چکے ہیں۔ *

مزید : کالم