جاپان سے سبق سیکھنے کی ضرورت

جاپان سے سبق سیکھنے کی ضرورت

یوم دفاع کی گولڈن جوبلی نہایت جوش و خروش منانے کی تیاریاں اپنے عروج پر ہیں۔ پاک فوج نے یوم دفاع جوش وخروش سے منانے کی بھر پور تیاریاں کی ہیں۔ حکومت نے بھی اس حوالے سے خصوصی تیاریاں کی ہیں۔ دوسری طرف بھارت میں بھی یہ دن منانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس وقت پاک بھارت تعلقات نہایت نچلی سطح پر ہیں۔ سرحدوں پر تناؤ ہے۔ محدود اور کھلی جنگ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر بھی فائرنگ معمول ہی بن گیا ہے۔ نہتے پاکستانیوں کا خون بہہ رہا ہے۔ یوم دفاع کے موقع پر ایک منٹ کی خاموشی بھی کی جا رہی ہے تا کہ پوری دنیا کو یہ بتا یا جا سکے ہم ایک ہیں۔ ہم متحد ہیں۔

بات کو آگے بڑھانے سے قبل میں جا پان کی ایک روائت لکھنا چاہتا ہوں۔ پاکستان اور جا پان کے درمیان سفارتی تعلقات کی پچاس سالہ تقریبات کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان صحافیوں کے ایک گروپ کا تبادلہ ہوا تھا۔ جس کا مقصد دونوں ممالک کے صحافیوں کو ایک دوسرے ملک کی ثقافت اور سیاست سے آگاہ کرنا تھا۔ مجھے اس گروپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حا صل ہوا۔ ہم سات صحافی تھے۔اس دورہ جا پان کے دوران ہمیں ہیروشیما بھی لے جایا یا گیا۔ ہیرو شیما وہ شہر ہے جہاں امریکہ نے جنگ عظیم دوئم میں ایٹم بم کا استعمال کیاتھا۔ وہاں کے لوگوں میں اب بھی ایٹم بم کی تابکاری کے اثرات موجود ہیں۔ہیرو شیماء میں مجھے ایٹم بم کی تباہ کاری کو سمجھنے کا موقع ملاء۔ لیکن ایک بات جس نے مجھے ہیرو شیما جا کر حیران کیا۔ کہ جا پان میں کوئی بھی طالبعلم سیکینڈری امتحان میں بیٹھ نہیں سکتا جب تک وہ ہیروشیماء میں ایک ہفتہ کا تعلیمی دورہ مکمل نہ کر لے۔

اسی لئے جب میں ہیرو شیماء کے اس تاریخی میوزیم پہنچا تو میں نے وہاں سینکڑوں طالبعلموں کو دیکھا۔ ہر طرف طلباء کے گروپ تھے۔ مجھے بتا یا گیاکہ ہر سکول اپنے بچوں کو یہاں بھیجنے کے لئے سپیشل بکنگ حاصل کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر اس کے بچے امتحان میں نہیں بیٹھ سکتے۔ میں حیران تھا کہ ہیرو شیما پر ایٹم بم مار کر امریکہ نے جاپان کو شکست دے دی تھی۔ اور جا پانی اپنی عبرت ناک شکست کی داستان اپنے بچوں کو کیوں بتاتے ہیں ۔ میں نے یہ سوال ہیرو شیما کے میئر سے اپنی ملاقات میں بھی کیا کہ آپ اپنے بچوں کو اپنی شکست کا یہ پہلو کیوں بتاتے ہیں۔ کیونکہ ہم پاکستان میں تو اپنے بچوں کو اپنی نا کامیاں اور شکست نہیں بتاتے بلکہ ان سے چھپاتے ہیں۔ تو اس نے مسکرا کر جواب دیا کہ آپ دیکھیں کہ دو ایٹم بم کھانے کے بعد بھی نصف صدی میں جا پان نے کس قدر ترقی کی ہے۔ ہم دنیاکی ایک بڑی معیشت اور قوم بن گئے ہیں۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنی نئی نسل اور قوم کے ساتھ سچ بو لا ہے۔

ہیرو شیما کے اس میوزیم میں ایٹم بم کی تباہی کے ایسے مناظر ہیں ۔ کہ ہر آنکھ نم ہو جائے۔ اندر داخل ہونے کے بعد ہر کوئی روتا ہے۔ اس میوزیم میں ایٹم بم سے پہلے کا ہیرو شیما اور ایٹم بم کے بعد کا ہیر و شیما دکھا یا گیا ہے۔ کیسے زندگی ختم ہو گئی۔ لوگ مر گئے شہر ختم ہو گیا۔ لیکن آج ہیرو شیما پھر ایک بڑا ترقی یافتہ شہر ہے۔ سکول کے بچے جب اس میوزیم کے دورہ پر آتے ہیں تو بزرگ انہیں ایٹم بم کی تباہی اور اپنی شکست کی داستان سناتے ہیں۔ بچے بھی روتے ہیں۔ لیکن اس دورہ سے ان کے دل میں اپنے ملک جا پان کے لئے ایسا جذبہ پیدا ہو تا ہے کہ وہ ساری عمر جا پان کے لئے کام کرتے ہیں۔

پاکستان کو جا پان سے سبق سیکھنا چاہئے۔ یوم دفاع منانا ایک خوش آئند اقدام ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی نئی نسل کے ساتھ سچ بھی بولنا ہو گا۔ انہیں بتا نا ہو گا کہ ہم نے کہاں فتح حا صل کی۔ کہاں شکست کھائی۔ کیا ہماری کامیابی ہے۔ اور کیا ہماری نا کامی ہے۔ تب ہی اپنی نئی نسل کو ایک روشن پاکستان کے لئے تیار کر سکیں گے۔

یوم دفاع منانا چاہئے۔ پر صرف سال میں ایک دن منانے سے مقاصد حاصل نہیں ہو نگے۔ ہمیں بھی یہ لازمی کرنا ہو گا کہ ہر بچہ میٹرک کے امتحان سے پہلے ملکی دفاع کی داستانوں سے روشناس ہو نا لازمی ہونا چاہئے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو بتا نا ہو گا کہ اس ملک کے لئے ہمارے ہیروز نے کیا کیا قربانیاں دی ہیں۔ جرات و بہادری کی داستانین نوجوان نسل تک پہنچانا ہمارا فرض ہے۔ لیکن اس کے ساتھ شکست اور نا کامیاں بتانا بھی ضروری ہیں ۔ تب ہی ہم ایک اچھی قوم تیا کر سکیں گے۔ آدھا سچ ۔ ایک اچھی قوم تیار نہیں کر سکے گا۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اس وقت پاکستان میں مقبولیت کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے تمام سیاسی قیادت اور اپنے پیش رو ء کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ عوام کی جنرل راحیل سے محبت ان کی سچائی کی وجہ سے ہے۔ کہ وہ قوم سے سچ بول رہے ہیں۔ اسی لئے عوام ان سے محبت اور ان پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ خبر بھی چل رہی ہے کہ جنرل راحیل شریف نے اپنا وہ پلاٹ جو انہیں بطور جنرل ملا تھا بیچ کر اس کے پیسے شہدا فنڈ میں جمع کروا دئے ہیں۔ جبکہ ان سے پہلے تمام جنرل ان پلاٹس پر گھر بنا چکے ہیں۔ ایسی خبریں ہی ان کی عوام کے دل میں محبت میں اضافہ کر رہی ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یوم دفاع کو اس قدر جوش و خروش سے منانا بھی ان کا فیصلہ تھا۔ تا ہم انہیں چاہئے اس حوالے سے ایک مربوط حکمت عملی بنائیں۔ جیسے جا پان نے اپنی نوجوان نسل کے لئے بنائی۔

مزید : کالم