سرتاج عزیز اور اشرف غنی کی ملاقات ،پاکستا ن ا ور افغانستان کا ایک دوسرے کیخلاف بیانات نہ دینے پر اتفاق

سرتاج عزیز اور اشرف غنی کی ملاقات ،پاکستا ن ا ور افغانستان کا ایک دوسرے ...

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن) پاکستان نے افغان قیادت سے پاکستان مخالف مہم بند کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ مشیر خارجہ کی افغان قیادت سے ملاقات کے دوران دونوں ملکوں میں ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور بیانات نہ دینے پر اتفاق ہو گیا۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی اور اپنے فغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی سے ملاقاتوں میں پاک افغانستان تعلقات سمیت خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ سرتاج عزیز نے اشرف غنی سے ملاقات میں انہیں افغانستان کے پاکستان مخالف بیانات پر تشویش سے آگاہ کیا۔پاکستانی سفارتخانے کی سکیورٹی سے متعلق بات چیت بھی ہوئی۔ بات چیت کے دوران دونوں ملکوں کا ایک دوسرے پر الزمات نہ لگانے اور مخالفانہ بیانات نہ دینے پر اتفاق ہو گیا، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ ملاقات کے دوران دونوں ملکوں میں باہمی اعتماد بحال کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ افغان وزیر خزانہ نومبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی سے ملاقات میں سرتاج عزیز نے پاکستان مخالف مہم بند کرنے کا مطالبہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مختلف شہروں میں ہونے والی ہونے والی پاکستان مخالف وال چاکنگ روکی جائے۔سرتاج عزیز نے یہ مطالبہ بھی دہرایا کہ پاکستانی سفارتخانے کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ پر امن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن واستحکام چاہتا ہے اور افغان مفاہمتی عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے کیلئے اب بھی تیار ہے۔سرتاج عزیز نے افغان وزیر خارجہ کو باور کرایا کہ افغان طالبان کے خلاف طاقت کا استعمال دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہو گا۔ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان 35 سال سے افغانستان کے لئے قربانیاں دے رہا ہے۔دوسری طرف مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے چھٹی علاقائی اقتصادی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ پاکستان افغانستان سمیت خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتا ہے ،کاسا 100اور تاپی گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت خوش آئند ہے دونوں ممالک کے تعاون سے مختلف منصوبوں پر کام شروع ہے جن میں بنیادی ڈھانچے ،توانائی ،تجارت وسرمایہ کاری شامل ہے ان منصوبوں کی تکمیل سے افغانستان کی معشیت میں ترقی ہو گی ،انہوں نے کہا کہ طورخم ،جلال آباد اضافی کیرج وے کا کام دسمبر 2016میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ پشاور سے کابل موٹروے کی فیزیبلٹی سٹڈی کا جائزہ لیا جا رہا ہے ،پشاور ،جلال آباد اور چمن میں بھی ریل کے پلوں پر کام جاری ہے ،پاکستان سڑکوں کے اس نیٹ ورک کو وسطی اشیاء تک پھیلانا چاہتا ہے ،سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاک چین راہداری منصوبے سے افغانستان سمیت پورے خطے میں خوشحالی آئے گی اور ہر گھر ترقی کرے گا ، انہوں نے کہا ہے کے پاکستان خطے کے ممالک سے رابطوں کو مزید مظبوط بنانے کیلئے منصوبوں پر کام کر رہا ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان دریائے کنڈ پر افغانستان کے ساتھ ملکر بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شروع کرنے کا جائزہ لے رہا ہے ۔

مزید : صفحہ اول