ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس، منطقی انجام کی طرف، ایک ملزم کا اعتراف؟

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس، منطقی انجام کی طرف، ایک ملزم کا اعتراف؟

تجزیہ : چودھری خادم حسین

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے دورہ برطانیہ کے دوران ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان کی طرف سے ایم۔ کیو۔ ایم کے سابق سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے ملزم محسن علی سے تفتیش کے لئے سکاٹ لینڈ یارڈ کو اجازت دی گئی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم نے اس سے قبل مبینہ سہولت کار معظم علی سے انٹر ویو کیا تھا اور ایک وقفے کے بعد محسن علی تک رسائی دی گئی ہے ایک خبر رساں ایجنسی کے مطابق محسن علی نے اعتراف جرم کیا اور بتایا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو اس کی موجودگی میں کاشف حسین نے قتل کیا اور معظم علی سہولت کار تھے جنہوں نے دونوں کو لندن بھجوانے اور کراچی میں وصول کرنے میں تعاون کیا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم ملزم کاشف حسین سے بھی بات کرنا چاہتی ہے تاہم کاشف کے حوالے سے خاموشی ہے کہ بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اب زندہ نہیں ہے جبکہ بعض ذرائع کہتے ہیں کہ پاکستانی وزارت داخلہ سودے بازی چاہتی ہے اور دونوں ملزموں کو سکاٹ لینڈ یارڈ کے حوالے کرنے کے عوض تبادلے میں کچھ اپنی ریاست کے مطلوب مانگتی ہے جو برطانیہ میں پناہ گزین ہیں۔

بہر حال ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا جب سراغ نہیں مل رہا تھا تو کچھ حضرات مایوس تھے اور ان کا خیال تھا کہ یہ بھی داخل دفتر ہوگا۔ ہم نے گزارش کی تھی کہ برطانیہ میں درج مقدمے کی فائل بند نہیں ہوتی تاوقتیکہ اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو جائے اور ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی فائل اور تفتیش بھی سرد خانے میں نہیں جائے گی کہ یہ ہائی پروفائل کیس ہے ۔

بالآخر سکاٹ لینڈ یارڈ ہی نے ڈاکٹر عمران فاروق کی آمدورفت کے حوالے سے ان کے راستے میں نصب عام سی سی ٹی وی کی مدد لی اور شہریوں سے تعاون حاصل کیا۔ برطانیہ میں شہری اعتماد اور تعاون کرتے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے محسن علی اور کاشف کا سراغ ملا کہ یہ کئی بار ڈاکٹر عمران فاروق کا پیچھا کرتے نظر آئے۔ پھر فوٹیج سے تصویر اور تصویر سے امیگریشن والوں کا تعاون حاصل ہوا تو ان دونوں کی آمدورفت اور قیام کا پورا ریکارڈ مل گیا اور پھر یہ دونوں معظم علی سمیت کراچی ایئرپورٹ سے حساس اوا رے کی تحویل میں چلے گئے اور اب نوبت اعتراف جرم تک آگئی ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ جب تک ملزم سکاٹ لینڈ یارڈ کے حوالے نہ کئے جاءں بات آگے نہیں چلے گی۔ بہرحال یہ ملبہ بھی ایم کیو ایم پر ہے، آگے کیا ہونے والا ہے وہ بھی نظر آنے لگا ہے، اور دیکھنا یہ ہے کہ ملزم حوالے کئے جاتے ہیں اور کاشف کہاں ہے۔ اس کے بارے میں بھی معلوم ہونا چاہیئے۔ اس سلسلے میں ایم کیو ایم (حقیقی) کے سربراہ آفاق احمد کا کہنا ہے کہ بڑے ملزم تک پہنچنے کے لئے شکایت کا جڑنا اور ثبوت ضروری ہے اور یہ کافی مشکل ہوگا۔

ملک کے اندر ایم کیو ایم اپنے موقف پر ڈٹ گئی ہے جبکہ حکومت استعفوں اور زیادہ ضمنی انتخابوں کے چکر سے بچنا چاہتی ہے۔ اس لئے اب بھی استعفے منظور کرنے میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ حکومتی حلقوں میں مشاورت جاری ہے، ایک اور کوشش ہوگی کہ استعفے واپس ہوں جائیں۔

بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا بھی شیڈول جاری ہوگیا۔ تمام جماعتوں نے اپنے اپنے طور پر تیاری شروع کی ہے۔ چونکہ انتخابات سندھ اور پنجاب میں ہونا ہیں۔ اس لئے مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے علاوہ جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ق) کچھ تیاریاں کر رہی ہیں۔ پہلے مرحلے کے لئے کاغذات نامزدگی حاصل کئے جا رہے ہیں، جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے تو بلاول بھٹو نے ان پر توجہ مبذول کی ہے، وہ اسلام آباد میں تو مختلف اضلاع کے عہدیداروں اور کارکنوں کے ساتھ تنظیمی امور پر بات کرتے رہے۔ تاہم بلاول ہاؤس کراچی اور بے نظیر ہاؤس نوڈیرو میں سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اجلاسوں کی صدارت کرتے اب لاہور آرہے ہیں۔ ابھی ان کا پروگرام سامنے نہیں آیا، وہ آج یا کل یہاں پہنچیں گے اور پھر ایک پروگرام کے تحت مختلف اضلاع کے عہدیداروں اور کارکنوں سے مل کر بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے عمل کا مطالعہ کریں گے۔ یہاں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ق) بھی حرکت میں ہے۔ مسلم لیگ (ق) تو مسلم لیگوں کا اتحاد بنانے کی کوشش بھی کر رہی ہے، جو ایک مشکل مرحلہ ہے۔ بہرحال آنے والا وقت اپنے اندر بہت کچھ لے کر آرہا ہے۔

مزید : تجزیہ