پنجاب اسمبلی: ارکان کو بلا امتیاز ترقیاتی فنڈز کی عدم فراہمی پر اپوزیشن تقسیم

پنجاب اسمبلی: ارکان کو بلا امتیاز ترقیاتی فنڈز کی عدم فراہمی پر اپوزیشن تقسیم

لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے ارکان کو ترقیاتی فنڈز کی عدم فراہمی پر اپوزیشن تقسیم ہو گئی پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کا ٹوکن واک آؤٹ لیکن تیسری اپوزیشن جماعت مسلم لیگ( ق) نے واک آؤٹ نہیں کیا ،پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز قائممقام سپیکر سردارشیر علی گورچانی کی زیر صدارت ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا تواپوزیشن ارکان نے فنڈز کی عدم دستیابی پر واک آؤٹ کیا جبکہ تحریک انصاف کے سبطین خان واک آؤٹ کے حق میں نہیں تھے مگر اپوزیشن لیڈر زبردستی انہیں باہر لے گئے جب کہ مسلم لیگ(ق) کے سراد وقاص حسن موکل اور احمد شاہ گھگہ نے واک آؤٹ میں پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کا ساتھ نہیں دیا ایوان میں ہی موجود رہے اور سردار وقا ص حسن موکل نے کہا کہ ہم واک آؤٹ نہیں کررہے۔ارکان اسمبلی کو بلا امتیاز فنڈز کی عدم فراہمی پر احتجاج کے حوالے سے قائمقام کا سپیکر رولنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ارکان اسمبلی کو فنڈز نہیں دئے جاتے نہ ہی اس سے ممبران اسمبلی کا استحقاق مجروح ہوتا ہے جہاں پر ممبران اسمبلی کا استحقاق محروح ہوگا تو میرا یہ فرض ہے کہ اس کا تحفظ کروں‘ترقیاتی سکیموں کے فنڈز صرف ضلعی حکومت کو ملتے ہیں اور وہی تمام اضلاع میں ترقیاتی کام کرواتی ہیں کسی بھی بیورکریٹ کو حق نہیں کہ وہ عوامی نمائندوں کی توہین کرے جو بیورکریٹ عوامی نمائندوں کے مسائل حل نہیں کرے گا خواہ وہ ڈی سی او،سیکرٹری اور ایس ایس پی ہی کیوں نہ ہوں ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔یہ رولنگ انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے فنڈز کی عدم دستیابی پربات کرتے ہوئے دی ۔ قبل ازیں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا ڈی سی اوز ہم سے شکست خوردہ لیگی رہنماؤں کی سکیمیں ڈی سی اوز منظور کررہے ہیں اور ان کو بلا کر فنڈز دیتے ہیں یہ سب بلدیاتی الیکشن سے پہلے عوام کو دل جیتنے کی تیاری ہے اس کی ہم مذمت کرتے ہیں ،کیا اپوزیشن کے ممبران اس پنجاب اسمبلی یا صوبے کا حصہ نہیں ہیں کیا وہ بھارتی پنجاب کا حصہ ہیں،میاں اسلم اقبال نے کہا میری حلقے میں آج بھی گلیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔،سراد وقاص حسن موکل نے کہا میرے حلقے میں مجھ سے ہارے ہوئے لیگی رہنما کو ڈی سی او نے بلا کر دو کروڑ کی ترقیاتی سکیموں کیلئے فنڈز جاری کیے ہیں کیا یہ پنجاب حکومت کی گڈ گورننس ہے ،سرادر شہاب الدین نے کہا لیہ میں بھی ایسی صورتحال ہے ۔وقفہ سوالات کے دوران سیکرٹری صحت کی گیلری میں عدم موجودگی پر محکمہ ہیلتھ کے بارے میں وقفہ سوالات موخر کر دئیے گئے جبکہ پارلیمانی سیکرٹری خواجہ عمران نذیر بار بار معافی مانگتے رہے مگرسپیکر نے کہا کہ وہ اپنی رولنگ کے خلاف نہیں چل سکتے لہٰذاسیکرٹری ہیلتھ کو اسمبلی فلور سے ہی ایوان کی طرف سے اظہار برہمی کا نوٹس بھیجا جائے،دریں اثناء اجلاس میں ممبران اسمبلی نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کی موجودہ پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے پنجاب کو تین زونوں میں تقسیم کرنے اور جنوبی پنجاب کا40فیصد کوٹہ بحال کا مطالبہ کردیا ہے اور اس سلسلہ میں آئندہ ہفتے قرارداد پیش کرنے کی بھی سپیکر نے ہدایت کردی۔محمد صدیق خان نے پنجاب کے موجودہ ٹیکنیکل تعلیم کے نظام کو بھی مسترد کر دیا ہے اور کہا کہ اس نظام میں عالمی سطح کی ایسی پالیساں لائی جائیں جس سے نوجوانوں میں بے روز گاری کا خاتمہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیکنیکل نظام تعلیم کی وجہ سے بے روز گاری میں خاتمے کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔وحید گل نے کہا کہ نظام کو بہتر کرنے کے لئے اردو اور انگریزی نظام تعلیم کے کلچر کا بھی خاتمہ کیا جائے ۔بعدازاں سپیکر نے اجلاس سوموار تک ملتوی کر دیا۔

مزید : صفحہ آخر