ضمانت کے مقدمات میں لاہور ہائیکورٹ سے ناقص فیصلے آرہے ہیں: سپریم کورٹ

ضمانت کے مقدمات میں لاہور ہائیکورٹ سے ناقص فیصلے آرہے ہیں: سپریم کورٹ

لاہور(نامہ نگارخصوصی)سپریم کورٹ نے سانحہ کوٹ رادھا کشن کے مقدمہ میں ملوث 2 ملزموں کی ضمانت کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے قراردیاہے کہ بطور شہری ان ملزموں کا فرض تھا کہ مسیحی جوڑے کی جان بچاتے مگر یہ خود اشتعال انگیزنعرے لگاتے رہے۔ ضمانت کے مقدمات میں لاہور ہائی کورٹ سے ناقص فیصلے آرہے ہیں جس کے باعث سپریم کورٹ نے شریک ملزموں کی ضمانت کی بنا پر مقدمہ کے دیگر ملزموں کی ضمانتیں منظور کرناچھوڑدیا ہے ۔سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں مسٹرجسٹس اعجاز احمد چودھری اور مسٹر جسٹس عمر عطا ء بندیال پرمشتمل دو رکنی بنچ نے ملزموں نثار اور اکرم کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی، ملزموں کے وکیل اکرم قریشی نے موقف اختیارکیا کہ ان دونوں ملزموں کا مسیحی جوڑے کو جلانے میں کوئی کردار نہیں، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ان کا کردار صرف نعرے لگانے اور توڑ پھوڑ کرنے کی حدتک لکھا ہے۔راہگیر ہونے کی بنیاد پر لاہور ہائیکورٹ نے اس مقدمہ کے دیگر 2 ملزموں حنیف اور تجمل کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہاکرنے کا حکم دیا ہے،نثار اور اکرم کو بھی ضمانت پر رہا کیا جائے جس پر مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری نے ریمارکس دیئے کہ جن 2ملزموں کی ضمانت منظور کی گئی ہے اس کیس میں لگتا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فاضل بنچ کو راہگیر کی تعریف کاعلم ہی نہیں ہے،انہوں نے خود سے ہی ملزموں کو راہگیر بنا کر ضمانتیں لے لیں جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے کہیں بھی کسی ملزم کو راہگیر نہیں لکھا،فاضل بنچ نے مزید ریمارکس دیئے کہ شریک ملزموں کی بنیاد پر دیگر ملزموں کی ضمانتیں لینے سے متعلق لاہور ہائیکورٹ سے فیصلے بہت ناقص آ رہے ہیں،اس لئے سپریم کورٹ نے شریک ملزموں کی ضمانتوں کی بنیاد پر دیگر ملزموں کی ضمانتیں لینا چھوڑ دیا ہے، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے نثار اور اکرم سے متعلق واضح طو ر پر لکھا ہے کہ یہ دونوں اشتعال انگیزی اور توڑ پھوڑ میں ملوث ہیں، بطور پاکستانی شہری ان دونوں ملزموں کا فرض بنتا تھا کہ یہ مسیحی جوڑے کی حفاظت کی کوشش کرتے مگر یہ خود اشتعال انگیز نعرے لگاتے رہے۔ فاضل بنچ نے دلائل سنے اور ریکارڈ دیکھنے کے بعد ملزم نثار اور اکرم کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دیں۔

مزید : صفحہ آخر