موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے قابل عمل منصوبوں سے متعلق تجاویز طلب

موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے قابل عمل منصوبوں سے متعلق تجاویز طلب

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں موثر اقدامات نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست پرکلائمیٹ چینج کمیشن کے قیام اورموسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے قابل عمل منصوبوں سے متعلق تجاویز طلب کرلی ہیں ۔فاضل جج نے محکمہ موسمیات کو گزشتہ 47 برس کا موسمیاتی تبدیلی کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم بھی دیاہے۔ عدالت نے شہری اصغر لغاری کی درخواست پر سماعت شروع کی تو درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیاگیا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔موسمیاتی تبدیلیوں سے بارشوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے سیلاب کی شدت بڑھ گئی ہے۔ عدالتی حکم پر وزارت ماحولیات کے جوائنٹ سیکرٹری سجاد بھٹہ نے نیشنل کلائمیٹ چینج پالیسی 2013ء پر عمل درآمد رپورٹ عدالت میں پیش کی۔.انہوں نے کہا کہ گرین ٹیکنالوجی کے بغیر ماحولیاتی عفریت سے نہیں نمٹا جا سکتا،وزارت پانی و بجلی کے افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملک میں سیلابوں سے نمٹنے کے لئے 7بڑے اور 36 درمیانے درجے کے ڈیم بنانے کی فوری ضرورت ہے جس پر فاضل عدالت نے ذمہ دار محکموں کے ایڈیشنل سیکرٹریز اور متعلقہ افسران کو دسمبر تک قابل عمل منصوبوں سے متعلق سفارشات لے کر پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت14ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔فاضل جج نے محکمہ موسمیات سے گزشتہ 47سال کا موسمیاتی تبدیلیوں کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے ۔

مزید : صفحہ آخر