فضائیہ نے بھارتی فوج کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر لاہور بچایا: ائیر مارشل (ر) ارشد چودھری

فضائیہ نے بھارتی فوج کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر لاہور بچایا: ائیر مارشل (ر) ...
فضائیہ نے بھارتی فوج کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر لاہور بچایا: ائیر مارشل (ر) ارشد چودھری

  

اسلام آباد (ویب ڈ یسک) جنگ ستمبر کے دوران پاک فضائیہ نے 1965ءمیں پیشقدمی کرنے والی بھارتی فوج کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر لاہور کو بچا لیا۔ بھارت کے لڑاکا طیاروں کو اڑنے سے پہلے ہی پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر تباہ کر دیا اور بغیر کسی مزاحمت کے سرینگر ہوائی اڈے کو بمباری سے تباہ کر کے ناقابل استعمال بنا دیا۔ اٹھارہ برس قبل وائس چیف آف ا?رمی سٹاف کی حیثیت سے ریٹائر ہونے والے ائر مارشل ارشد چودھری نے تیئس سالہ فلائنگ آفیسر کے طور پر جنگ ستمبر کے دوران کل بتیس فضائی معرکوں میں حصہ لیا۔ اخبار نوائے وقت کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے تین اہم فضائی معرکوں کا احوال سنایا۔ ریٹائرڈ ائرمارشل اب تہتر برس کے ہیں لیکن بھارت کے خلاف جنگ کی تفصیلات بتاتے ہوئے وہ نوجوان فلائنگ آفیسر دکھائی دے رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں چمک، لہجے میں گھن گرج تھی اور چہرہ تمتما رہا تھا۔ تاہم وہ 1971ءکی جنگ میں شہید ہونے والے اپنے بھائی اسلم چودھری شہید کے ذکر پر آبدیدہ ہو گئے۔ ان کے دوسرے بھائی نے بھی شمالی علاقہ جات میں خدمات سرنجام دیتے ہوئے شہادت کا درجہ حاصل کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ ستمبر شروع ہونے سے پہلے ہی جنگ کے آثار نمایاں تھے اور پشاورمیں متعین فضائیہ کے انیسویں سکواڈرن کو پٹھان کوٹ کا بھارتی ہوائی اڈہ تباہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔ ہم نے اس کام کی خوب پریکٹس کی۔ سکواڈرن لیڈر سجاد حیدر جنہیں پیار سے نوزی حیدر کہا جاتا تھا، بہترین قائد، استاد اور ساتھی تھے۔ چھ ستمبر ہمارے لئے بہت اہم دن تھا کیونکہ چار ستمبر کو ہمارے ساتھ چھمب کوڑیان میں دو بھارتی طیارے گرا کر ہیرو بن گئے تھے۔ ہمیں بھی معرکہ کارزار میں کودنے کی جلدی تھی۔ چھ ستمبر کو حکم ملا کہ بھارتی دستوں کی واہگہ کی جانب پیشقدمی کی اطلاع ملی ہے۔ سرگودھا سے جہاز اڑے ہیں لیکن صبح کی دھند میں کچھ دکھائی نہیں دیا اب آپ جائیں۔ ہمارے طیاروں میں چار چار راکٹ نصب تھے جو ہم نے کبھی فائر نہیں کئے۔ معلوم ہوا کہ رائل برٹش ائر فورس سے حصہ میں ملنے والے راکٹ ہیں جو شائد کام دے جائیں۔ صبح نو بجے چھ طیاروں پر مشتمل ہمارے فارمیشن نے پرواز کی۔ دو دو طیارے آگے اور کور کیلئے دو طیارے عقب میں اڑ رہے تھے۔ بی آر بی عبور کرنے کے بعد ناقابل یقین منظر دیکھا کہ ہم بھارتی فوج کے سر پر پہنچ چکے ہیں۔ بھارتی ٹینک آگے تھے۔ ساتھ پیدل فوجی چل رہے تھے۔ پیچھے فوجی ٹرک، ان کے پیچھے ڈبل ڈیکر اور عام بسوں میں سوار لاہور کو فتح کرنے کیلئے بھارتی چلے آ رہے تھے۔ ہم نے بھارتی فارمیشن اور پیشقدمی کے انداز کا جائزہ لیا۔ نوزی حیدر نے پوزیشنیں سمجھائیں اور سب سے پہلے ہم نے راکٹوں سے بھارتی ٹینکوں کو عمدگی سے نشانہ بنایا۔ بھارتیوں کو خوش فہمی میں خود پر پڑنے والی افتاد کا کوئی اندازہ نہیں تھا لیکن ٹینکوں کی تباہی نے انہیں بوکھلا دیا۔ ہمارے لئے ہدف کی کوئی کمی نہیں تھی۔ دوسرے حملہ میں پھر ٹینکوں کو نشانہ بنایا۔ اس دوران بھارتی پیش قدمی رک چکی تھی اور فوجیوں کی پسپائی کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ مزید حملوں میں ہم نے بھارتی فارمیشنوں پر فائر شروع کر دیا۔ ہر طرف بھارتیوں کی لاشیں، تباہ شدہ ٹینک، ٹرک اور بسیں پڑی تھیں۔ مفرور بھارتیوں کو نشانہ بنانے کیلئے ہم نے وسیع علاقہ میں پھیلے کماد کے کھیتوں میں ان کا تعاقب کیا۔ جب ایندھن اور اسلحہ بارود ختم ہونے لگا اس وقت تک ہم جی بھر کے بھارتیوں کو نقصان پہنچا چکے تھے۔ واپس ائر بیس پہنچے تو ساتھیوں نے ہمیں کندھوں پر اٹھا لیا۔ یہیں علم ہوا کہ جنگ باقاعدہ شروع ہو چکی ہے۔ اسی دوران چائے پی تو حکم ہوا کہ اسی شام پٹھانکوٹ کا مشن مکمل کرنا ہے۔ ہمارے جذبے جوان، جوش انتہا پر پہنچا ہوا تھا۔انتہائی بلندی پر اڑنے والے دو جاسوس طیاروں کی بدولت پاکستان کے پا س پٹھانکوٹ کے اڈے کی مکمل تفصیلات موجود تھیں۔ تربیت نے خوف سے بے نیاز کر دیا تھا۔ رہی سہی کسر جذبہ شہادت نے نکال دی۔ پٹھانکوٹ مشن کی روانگی سے پہلے قران حکیم کی چھوٹی کاپی ہمیں دی گئی جو میں نے دائیں بازو کی جیب میں ڈال لی اور ہمیشہ ساتھ رہی۔ آٹھ طیاروں کی فارمیشن چار، چار کی ٹکڑیوں میں تھی۔ طویل فاصلہ کے سبب ہمیں صرف ایک ایک حملہ کرنا تھا۔ فضا میں بلند ہوئے، پھر اترنا شروع کر دیا اور بھارتی راڈار سے بچنے کیلئے درختوں کی بلندی تک آ گئے اور بغیر کسی مزاحمت کے شام پانچ بج کر پانچ منٹ پر پٹھانکوٹ پہنچ گئے۔ہم نے بھارتیوں کو مکمل سرپرائز دیا۔ ہوئی اڈے پر پہنچ کر اپنے اہداف تلاش کئے، پوزیشن لی۔ اس وقت صرف اللہ کا خوف دل میں تھا۔ مشن لیڈر نے آواز دی کہ اڈے پر موجود طیارے مگ 21 ہیں۔ یہ اس وقت کے جدید ترین طیارے تھے۔ طے ہوا کہ سب کو تباہ کرنا ہے چاہے ایک سے زائد حملے کرنے پڑیں۔ میرے حصہ میں پہلے ایک مسٹیئر طیارہ آیا جسے نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد ایک ٹرانسپورٹ اور دو عدد مگ طیارے تباہ کئے۔ سامنے ائر پورٹ کا کنٹرول ٹاور نظر آیا تو اسے تباہ کیا۔ میرے اور ساتھیوں کے حملوں سے تباہ ہونے والے طیارے آگ کے گولے بن چکے تھے۔ نیچے سے گن فائر آیا لیکن ہمارا بال بیکا نہیں ہوا اور تمام طیارے مشن مکمل کر کے کامیابی سے واپس آ گئے۔ فضائی جنگوں کی تاریخ کے یہ کامیاب ترین کارروائی تھی جس میں منصوبہ کے مطابق ایک ہوائی اڈہ بغیر کوئی نقصان اٹھائے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ ائر بیس پر ائر چیف، نور خان کی اہلیہ ہمارے لئے دودھ کے جگ لے کر موجود تھیں۔ مزید ایک اہم مشن سرینگر کے ہوائی اڈے پر حملہ تھا۔ حملہ بمبار طیاروں نے کرنا تھا۔ ہم ان کی حفاظت پر مامور تھے۔ سرینگر پہنچتے ہیں، خوبصورت کوہستانی چوٹیاں، فضا میں دھند اور جھیل ڈل کے نیلے پانی پھیلے ہوئے تھے۔ اس ماحول میں ہمارے بمبار طیاروں نے عمدگی سے ائر پورٹ کو نشانہ بنایا اور واپس ائر بیس پر پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فضائیہ کے مورال کا یہ حال ہو گیا تھا کہ بھارتی طیارے، پاکستانی طیاروں کو دیکھ کر ہی رخ بدل لیتے تھے۔ متعدد بار بھارتی طیاروں نے تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود پسپائی اختیار کی۔ ان کاکہنا تھا کہ 1971ءکی جنگ میں پاک فضا ئیہ نے پہلے سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی لیکن سقوط ڈھاکہ کے باعث اس کارکردگی کا زیادہ چرچا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فضا ئیہ کے موجودہ نوجوان ہواباز زبردست تربیت اور جوش و جذبہ کے حامل ہیں جو وقت آنے پر دشمن کے دانت کھٹے کر سکتے ہیں۔

مزید : اسلام آباد