اگر فاروق ستار استعفوں پر اصرار کرتے رہے تو مینڈیٹ کسی نہ کسی کے پاس تو چلا ہی جائیگا

اگر فاروق ستار استعفوں پر اصرار کرتے رہے تو مینڈیٹ کسی نہ کسی کے پاس تو چلا ہی ...
اگر فاروق ستار استعفوں پر اصرار کرتے رہے تو مینڈیٹ کسی نہ کسی کے پاس تو چلا ہی جائیگا

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری:

ایم کیو ایم کے مستعفی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ہمارا مینڈیٹ کسی اور کو دیا گیا تو کراچی کے عوام قبول نہیں کریں گے، ان کا یہ کہنا بالکل درست ہے ان کے ارکان کو کراچی کے عوام نے ووٹ دے کر منتخب کیا، اگرچہ مخالفین ان پر طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی اس حیثیت کو کسی نے چیلنج نہیں کیا، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کا مینڈیٹ کس کو دیا جا رہا ہے اور کون دے رہا ہے، پھر اسی سے جڑا ہوا دوسرا سوال یہ ہے کہ قومی اسمبلی، سینیٹ اور سندھ اسمبلی کی رکنیت سے ان کے ارکان نے استعفے خود دئیے ہیں، اور انہوں نے سپیکر کے روبرو تسلیم کیا تھا کہ استعفوں کے سلسلے میں ان پر کوئی دباؤ نہیں، انہوں نے اپنی آزادانہ مرضی سے اور برضاو رغبت استعفے دئیے بعض ماہرین قانون کے مطابق اصولاً تو ان کے استعفے منظور ہو چکے کیونکہ جب کوئی رکن مستعفی ہو جاتا ہے اور پھر یہ اقرار بھی کر لیتا ہے کہ اس نے استعفا کسی دباؤ کے تحت نہیں دیاتو اس رکن کی رکنیت ختم ہو جاتی ہے، اور سپیکر اس امر کا پابند ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے کہ فلاں فلاں نشستیں خالی ہو گئی ہیں۔اس لئے ان نئے الیکشن کا انتظام کیا جائے، اب ایم کیو ایم کے استعفوں کی پوزیشن یہ ہے کہ یہ سپیکر کو پیش ہو چکے، ان کی تصدیق بھی ہو گئی، اس کے باوجود اگر ان ارکان کی نشستیں خالی قرار نہیں دی گئیں تو اس میں ایم کیو ایم کا کوئی کمال نہیں یہ ساری مہربانی سپیکر، حکومت یا پھر حکمران جماعت کی قیادت کی ہے جنہوں نے آئینی پوزیشن واضح ہونے کے باوجود معاملہ لٹکا دیا اور بائیس دن گزرنے کے باوجود اس ضمن میں کوئی فیصلہ نہیں کیا بلکہ دیکھا جائے تو کسی نہ کسی انداز سے استعفے دینے والوں کے ناز نخرے برداشت کئے جا رہے ہیں، جہاں تک ڈاکٹر فاروق ستارکا تعلق ہے انہوں نے تو اسلام آباد میں مذاکرات کرتے کرتے اچانک ایک ہنگامی پریس کانفرنس بلا لی، اور ایسے وقت بلا لی جس وقت ابھی صحافی سو کر بھی نہیں اٹھتے کہ انہیں رات رات بھر جاگ کر کام کرنا پڑتا ہے اس ہنگامی پریس کانفرنس میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ مذاکرات ختم کر رہے ہیں اس لئے استعفے منظور کر لئے جائیں، انہوں نے پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ ان کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے ان کے قائد کی تقریریں نشر نہیں ہونے دی جارہیں انہیں صدقہ فطرجمع نہیں کرنے دیا گیا۔ اور اب قربانی کی کھالیں جمع کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے تو اپنی جانب سے اتمام حجت کر دی تھی اس کے باوجود اگر اب تک استعفوں کا معاملہ لٹکا ہوا ہے تو اسے حکمرانوں کی مہربانی کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے؟ لگتا ہے کہ حکومت تو چاہتی ہے کہ ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی میں آئیں۔ اب اگر ڈاکٹر فاروق ستار ہی اصرار کرتے رہیں کہ ہمارے استعفے منظور کئے جائیں تو پھر آپ ہی بتائیے، اگر منظوری ہو ہی گئی تو ذمے دار کون ہو گا؟

اب انہیں ایک دوسری شکایت پیدا ہو ئی ہے کہ ان کا مینڈیٹ کسی اور کو دیا جا رہا ہے وہ خدا لگتی کہیں کہ استعفے انہوں نے خود دئیے، بغیر کسی دباؤ کے دیئے، اب تک منظور بھی نہیں ہوئے آپ منظوری پر اصرار بھی کر رہے ہیں اس لئے اگر طوعاًو کرہاً یہ منظور ہو جائیں اور خالی نشستوں پر ضمنی انتخاب بھی ہو جائیں تو قصور وار کسے ٹھہرایا جائے گا، اور کوئی نہ کوئی تو ان کا مینڈیٹ لے ہی جائے گا۔

اول تو اہم بات یہ ہے کہ جو حضرات اتنے اصرار اور جوش و جذبے سے استعفے دے رہے ہیں۔ انہیں تو خوش ہو جانا چاہیئے کہ ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے انہیں منظور کر لیا گیا ہے۔

ابھی تک تو حکومت استعفے منظور کرنے کی خواہش مند نظر نہیں آتی، البتہ اگر کسی وقت ایسا ہو جاتا ہے تو پھر دو صورتیں ہوں گی، خالی نشستیں پر کرنے کے لئے ضمنی انتخابات ہو ں اور ایم کیو ایم کے ارکان دوبارہ الیکشن لڑیں اور جیت کر پھر اسمبلی میں آ جائیں لیکن پھر سوال پیدا ہو اگا کہ اتنے جتنوں سے استعفے منظور کرانے کے بعددوبارہ الیکشن لڑنے کی کیا تک ہے؟ جب ایم کیو ایم کے ارکان نشستیں خالی چھوڑ دیں گے تو پھر ’’ خانہ خالی را دیو می گیرند‘‘ ان کی جگہ کوئی تو لے گا، ایم کیو ایم کی عدم موجودگی میں کوئی نہ کوئی تو جیت ہی جائے گا، بلکہ ہو سکتا ہے کچھ ایسے لوگ بھی جیت جائیں جو عمومی حالات میں جب ایم کیو ایم مقابلہ کر رہی ہو جیت کا کوئی تصور نہیں کر سکتے ایسی صورت میں اگر ایم کیو ایم کا مینڈیٹ کوئی دوسرا لے اڑے گا تو کسے قصور وار ٹھہرایا جائے گا؟

ایم کیو ایم کو اگر یہ شکوہ ہے کہ اس کا مینڈیٹ کسی دوسرے کو دیا جا سکتا ہے یا کوئی دوسرا خود لے اڑے گا تو اس کا بہترین طریقہ تو یہی ہے کہ ایم کیو ایم یہ میدان خالی ہی نہ چھوڑے،میدان خالی ہو گا تو کوئی نہ کوئی آدھمکے گا، ایسی صورت میں ایم کیو ایم کو یہ حق نہیں ہو گا کہ وہ کسی دوسرے سے گلہ کرے، کیونکہ پھر جو صورت حال پیدا ہو گی اس کی ذمہ دار تو وہ خود ہو گی، اس کا حل بظاہر یہی ہے کہ ایم کیو ایم استعفوں پر اصرار نہ کرے، حکومت کے ساتھ مذاکرات کا بند دروازہ دوبارہ کھولے ، مولانا فضل الرحمان کو بھی اس صورت حال سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ ثالثی کے کردار سے دستبردار ہو گئے ہیں انہیں شکوہ ہے کہ فریقین نے ان کی باتوں کا پاس نہیں رکھامولانا اب بھی کردار ادا کر سکتے ہیں بشرطیکہ فریقین ان سے درخواست کریں۔

مزید : تجزیہ