ذرا پاکستان تک (آخری حصہ )

ذرا پاکستان تک (آخری حصہ )
ذرا پاکستان تک (آخری حصہ )

  

بچپن حرف و لفظ کے کھلونوں سے بہلایا اور لڑکپن زمین پر ننگے پاؤں کھڑے ہو کر آسمانِ صحافت کے ستاروں اور کہکشاؤں کو تکتے کاٹا۔ایک تحریکی کمیونٹی کے ہفت روزہ کی کالم نگاری اور پھراسی کے ادارتی صفحے کی ذمے داری بھی نبھائی،چنانچہ اب تواپنے پاؤں کے بجائے پرائے کندھوں پراورگرد آلود عینکوں کی اوٹ سے ہی سہی ، نوے سالہ بابوں کے بیت اللہ دیکھنے کی آخری خواہش کی طرح اس عاجز کی بھی بس کالم نگار بن مرنے کی خواہش ہی باقی رہ گئی تھی ؂

ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی

اب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی

کالمی صفحے تک دراندازی کی کہانی بھی بڑی سادہ ہے۔احسان صاحب ہمارے ہفت روزہ کے پیج میکر تھے۔یہ پہلے ’پاکستان‘ میں تھے اور اب صحافت کی ’نئی بات ‘میں ہوتے تھے۔بارہا ان سے گزارش کی کہ کوئی مناسب سا ہومیو پیتھک کالم لے جائیں اور کہیں ہمارا بھی عقدِ اولیں کروا ڈالیں، یعنی کہیں بھی !ان قریب البزرگی شادی کو ترسے تہمت بر جوانی نوجوانوں کی طرح ، جو تھک تھکا کے شادی کروانے والی اماں کو بیزار لہجے میں کہتے ہیں ’’اما ں جی ! لڑکی ہو ، زندہ ہو اور بس ! احسان صاحب ہفتے کے ہفتے آتے اور بس یہی ایک بات بھول جاتے ۔پھر ایک دن جانے انھیں یابراہِ راست اللہ ہی کو ہم پر ترس آیا ۔یہ کالم لے گئے ۔اور وہ چھپ بھی گیا۔یعنی عاقبت سنور گئی۔ان دنوں ویسے بھی ’نئی بات ‘ سمجھ کے شاید کالم نگار اس اخبار سے بدکتے تھے۔اور ادھر اپنا یہ عالم تھاکہ ؂

پھرتے ہیں حشر میں تیرے داد خواہ خراب

تو پوچھتا نہیں تو کوئی پوچھتا نہیں

خیر ایسی محنت اوراس باقاعدگی سے لکھا کہ گویاایک بھی ناغہ ہو گیا تو، یا تواہلِ صحافت ہماری کالم نگاری مشکوک قرار دے کرکوچۂ صحافت ہی سے عاق کر ڈالیں گے یا پھرعین ممکن ہے اخبارہی کا بھٹہ بیٹھ جائے ۔ آخر نیا نیا ہی تو نکلا تھا۔یہاں تو بعض دفعہ کسی چھوٹی سی حرکت پر بڑے بڑوں کی حرکت قلب بیٹھ جاتی ہے ، اس میں تو پھر ایک کالم کے ناغے کی تاریخی و ناقابلِ تلافی وجہ ہوتی۔ خیال یہ بھی تھاکہ چونکہ اب باتصویر کالم نگار تو بن ہی گئے ہیں ۔ چنانچہ عطا صاحب کی صحافت و ادارت کا تو خیراخلاقاً ، قانوناً اور احتیاطاً عین فرضِ اولیں ہی ہماری تشہیر و فلاح کے لئے اپنی جملہ صلاحتیں وقف فرما دینا ٹھہرا ،کہ آخر ان کے اخبار کی بندش کو ہم ہی توپھولے سانس سے کالم پہ کالم لکھ لکھ کر ٹالے جاتے تھے۔ علاوہ ان کے لاکھانی صاحب ،مجیب الرحمٰن شامی صاحب اورمرحوم نظامی صاحب (کہ اس وقت جناب مرحوم نہ تھے ، قریب المرحوم تھے) کا خیر سگالی و معاملہ بندی کا فون اب آیا کہ اب آیا،چلئے میر شکیل الرحمٰن صاحب کا ذرا دیر سے سہی کہ مان لیجئے ذرا بڑا اخبارہے ،اورپھرکراچی میں رہ کے ہماری نسبت وہ اہلِ زبان بھی ہیں ، اور اہلِ زبانوں کے بارے حفیظ غیر تائب نے بتا رکھاہے کہ اہلِ زر کی طرح یہ بھی کب مانتے ہیں، اور پھرویسے بھی لاہور کی نسبت کراچی سے فون کو آتے کچھ وقت تو لگتاہی ہے نا۔ویسے اتنے توامید ہے آپ بھی سمجھ دار ہی ہوں گے ۔خیر الحمدللہ پہلی ہی بارش میں امیدوں کے اس شجر سے بھی غلط فہمیوں کی ساری گرد دھل گئی ؂

مجھ کو معلوم ہے انجام اپنی کٹیا کا

زندگی اس کی بھی برسات کے آنے تک ہے

ممکن ہے حفیظ صاحب کے دور میں صحافت کا یا قلم کا یا شاعر کا کچھ زور شور چل چلا جاتاہو یا عین ممکن ہے یہ محض ان کی اجتہادی و فقہی غلطی ہواور بس ۔القصہ ،پلان بی کے تحت اب آ جا کے اہل صحافت کی اک پذیرائی کی موہوم سی امید بچی تھی، سو تھی۔آہ مگر جلد ہی اس مسلک کی بے نیازی کا عالم بھی جدا دیکھ لیا، یہاں بھی بفضل اللہ یہ جانا کہ عام قارئین کے برعکس ان کے ہاں سے فیڈ بیک آنے کا مروجہ انحصار بھی پی آرشب یعنی ذاتی روابط پر اور ادھر اپنا یہ عالم کہ

اے روسیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا!

لیکن پھر یوں ہواکہ جس طرح بغیر کسی خاص جرم اور تیاری کے اُس بااختیار و خود مختار قوتِ قاہرہ نے اس بے سروساماں کوبحرِصحافت میں دھکا دینا منظور فرما لیا تھا، عین اسی طرح قدرت کاملہ والے رب نے انا کی عظمت اورمصروفیت کی چوٹی پر فائز لوگوں کی خورد نوازی اور اعلیٰ ظرفی کے ذریعے سے اپنی قدرت کے ظہور کابھی منصوبہ مرتب فرما لیا۔اس خدائی منصوبے کے تحت جن شخصیات کو اپنا معمول چھوڑ کے یہ غیر معمولی کام سرانجام دیناپڑا ، ان میں حافظ شفیق الرحمٰن اور عطا الرحمٰن صاحبان کے علاوہ ڈاکٹر امجد ثاقب ، افتخار مجاز ، حسن نثار کے استاداورکالم نگار ابرا ر بھٹی ،عامر ہاشم خاکوانی ، سعدا للہ شاہ ،مزاح نگار گلِ نوخیز اختر اورناصر ملک صاحبان کے نام نمایاں ہیں ۔ اللہ ان سب کواس سلسلے کی مزید پکڑ سے چھوٹ دے ۔ ورلڈ کالمسٹ کلب کے رکنِ رکین اور کالم نگارِ دل نشیں عبدالستار اعوان صاحب ایک سرکاری ادارے میں ہوتے ہیں۔ ایک دن فون پر فرمانے لگے کہ آج ان کے ادارے کے آفیسر نے ان سے خصوصا اس عاجز کے حج پر لکھے تمام کالم یکمشت مانگ لئے ہیں ۔اب جہاں سیاست میں کاغذاتِ نامزدگی کے وقت علاوہ زرِ ضمانت کے ایک دو لوگوں کی تائید سے آدمی ٹی وی پراپنی ہار کا اعلان کروانے کا مستحق سمجھا جائے ، وہاں خدائی نظام کے تسلط میںآئے اتنے جید لوگوں کی ضمانت کیا ہمارے کالم کی گاڑی کو رواں نہیں کر سکتی ؟ کر سکتی تھی یا نہیں ہم نے مگر اسے رواں رکھا ۔جہاں تک کالم کے عنوان ’ذرا پاکستان تک‘ کی بات تو اس سلسلے میں ہمارا فرض بات کو کھینچ تان کے شامی صاحب تک لے آنا ہے، آگے وہ پاکستان کے مالک ۔ وہ جانیں او ر ان کا پاکستان جانے۔ سب سے پہلے تو فنِ خطاطی کے منحرف اور مجتہد استاد رشید قمرکے ہاتھ سے لکھی پیشانی ’پاکستان ‘نے ہمیں پاکساتن کی طرف متوجہ کیا۔ شامی صاحب سے پہلی باقاعدہ بات ٹیلی فونک تھی اور یہ آنجناب کی نورِ نظر سویرا شامی صاحبہ کی شادی کے موقع پر تھی۔ شادی کارڈ کسی اورکاتب سے کتابت کرواکے قومی پریس پرچھپے تھے اور متداول کاتب نے اس پر ازراہِ غصہ ایک مذہبی نکتۂ اعتراض تلا ش کرکے سارے کا رڈ شامی صاحب کی ایک جنبش لب سے مسترد کروا دئیے تھے۔ اب مسئلہ اس پراجیکٹ کے ذمے دار کو تھا کہ گو خرچہ تو شامی صاحب کا ہی ہوتا، پر محنت انھیں پھر کرنا پڑتی۔ کسی طرح اس کی یہ بپتا اس عاجز تک پہنچی ۔چنانچہ فون ملاتے ہی عرض کی : شامی صاحب آپ کے ذوق جمال کا حسین مظہر شادی کارڈ اس وقت میرے ہاتھوں میں ہے ۔ باقی کام آسان ثابت ہوا، مختصراً شامی صاحب کے پیسے اور ان صاحب کی محنت بچانے کا سہر ااس خاکسار کے سر بندھا۔ دوسری قدرے تفصیلی ملاقات سروسز کلب میں امجد ثاقب صاحب کی دعوت میں ہوئی ۔ تقریب لیٹ تھی اور شامی صاحب کے قرب سے فائدہ اٹھا تا یہ شخص تھا۔ الحمدللہ یہی اس خاکسار کا فون نمبر آنجناب کے قیمتی موبائل میں جا کے مزید قیمتی ہو گیا۔لیجئے ناظرین ، آپ کو مرعوب و متاثر کرنے کے لئے جتنی پونجی پاس تھی ۔ اس سے زیادہ لگاکے میں اپنا تماشا بنا چکا۔اللہ کرے آ پ تھوڑ ے کو بہت سمجھیں ۔ اس سے زیادہ جھوٹ بولنا اور پاؤں پسارنا ویسے بھی ممکن نہیں ۔آخر اس سے زیادہ کوئی شریف کالم نگار حیلوں بہانوں کس حد تک اپنی انااور ایگوکی رہنمائی ،خود ستائی اور خود نمائی کر سکتاہے۔ اس سے زیادہ کی تو شاید شامی صاحب بھی اجازت نہیں دیں گے۔ ملتے ہیں باقاعدہ کالم پر ۔ان شااللہ !

مزید :

کالم -