کشمیریوں کے لئے پیلٹ گن کے بعد پاوا بم

کشمیریوں کے لئے پیلٹ گن کے بعد پاوا بم
کشمیریوں کے لئے پیلٹ گن کے بعد پاوا بم

  


انڈیا نے مقبوضہ جموں اور کشمیر میں مظاہرین کو منتشر اور مفلوج کرنے کا ایک ایسا نیا طریقہ ایجاد کیا ہے جو ہندو کے خبثِ باطن کا واضح ثبوت کہا جا سکتا ہے۔ کل بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سری نگر پہنچے اور انہوں نے بارڈر سیکیورٹی فورس اور ریزرو پولیس فورس کے کمانڈروں سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ انڈین گورنمنٹ نے باقاعدہ سرکاری طور پر پیلٹ گنوں (Pellet Guns) کی جگہ ’’پاوا بموں‘‘ (PAVA Bombs)کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔۔۔۔

آپ کو معلوم ہے کہ چند روز پہلے (24اگست) کو انہوں نے ریاست کا دورہ کیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ یونین منسٹر، ان سینکڑوں مسلمان کشمیری مظاہرین کی عیادت کرنے آئے ہیں جو ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ سری نگر اور دیگر بڑے شہروں کے ہسپتالوں کے آنکھوں کے شعبوں (Eye Wards) میں سات آٹھ برس کے بچوں سے لے کر جوان عمر کے مردوں تک سینکڑوں مریض زیر علاج تھے اور ہیں۔ ان کو ریاست کی سیکیورٹی فورسز نے چھرّہ رائفلوں کے ذریعے یا تو بالکل ہی اندھا کر دیا ہے یا ایک آنکھ کی بینائی ضائع کر دی ہے۔ علاوہ ازیں بھارتی حکومت ایک عرصے سے یہ بھی سوچ رہی تھی کہ ان کے کشمیر میں 60، 70 ہزار مسلمان شہدا کی قبریں، غیر ملکی میڈیا کے لئے تحریکِ آزادی کے ایک ثبوت کے طور پر موجود ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ ان مجاہدین نے بھارتی تسلط سے جدوجہدِ آزادی میں اپنی جانیں تو قربان کر دیں لیکن غاصب ہندو سے اپنا پیدائشی حق مانگنے سے باز نہ آئے۔ موجودہ تحریکِ آزادی بھی اسی ماضی کا تسلسل ہے۔ بھارتی حکومت نے کئی تھنک ٹینک بٹھائے کہ کوئی ایسی تدبیر سوچی جائے کہ ان مسلمان کشمیری مظاہرین کو جان سے مارنے کی بجائے، زندہ کھا جائے، لیکن عمر بھر کے لئے اپاہج کر دیا جائے۔۔۔۔ یہ پلان، مسلم شہدا کے قبرستانوں کی تعداد اور وسعت کم کرنے کے لئے بنایا گیا تھا!

چنانچہ سیکیورٹی فورسز کو وسیع پیمانے پر شوٹنگ رائفلوں کے ساتھ چھرّہ رائفلیں بھی ایشو کر دی گئیں۔ گزشتہ دو ماہ سے جب سے کشمیر کی کرشماتی اور نوجوان شخصیت برہان وانی کی شہادت ہوئی ہے، ساری وادئ کشمیر دھواں دھواں ہے۔ آج کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مسلسل 58روز سے کرفیو جاری ہے اور مظاہرین کا غم و غصہ قابو میں نہیں آ رہا۔ پیلٹ گنوں سے سینکڑوں ہزاروں نوجوان اندھے اور کانے (یک چشم) ہو چکے ہیں اور ان کے چہرے مسخ کر دیئے گئے ہیں۔ آنکھوں کی بینائی کی یہ معذوری ان کو گورستانوں میں تو نہیں لے گئی، لیکن زندہ درگور کر گئی ہے۔ جب ان پیلٹ گنوں کے بے محابا استعمال کی خبریں غیر ملکی میڈیا پر عام ہوئیں تو وزیر داخلہ سری نگر جا پہنچے اور سیکیورٹی فورسز کو یقین دلایا کہ اپنا مشن جاری رکھو۔ حکومت پیلٹ گنوں کی جگہ مظاہراتی ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک متبادل ہتھیار ایشو کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔۔۔۔ تازہ ترین خبر یہ ہے کہ یہ متبادل ہتھیار اب فورسز کو دیا جا رہا ہے اور ہدایت کی جا رہی ہے کہ چھرّہ رائفل کی بجائے ’’پاوا بم‘‘ اور پاوا رائفل استعمال کی جائے!

’’پاوا‘‘ بظاہر پنجابی زبان کا لفظ معلوم ہوتا ہے جو اچھے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔ لیکن یہ ’’پاوا‘‘ پنجابی کا پاوا نہیں بلکہ انگریزی کے چار الفاظ کا مخفف ہے جو یہ ہیں (Pelargonic Acid Vanillyl Amide):۔۔۔ اس بم میں سرخ مرچیں پیس کر بند کر دی گئی ہیں۔ اسے جب مظاہرین پر پھینکا جاتا ہے تو یہ سفوف اُڑ اور بکھر کر ان کی آنکھ، ناک اور گلے پر حملہ آور ہوتا ہے اور ان کو چند گھنٹوں کے لئے بے حال اور بے سدھ کر دیتا ہے، لیکن ہلاک نہیں کرتا۔ عرفِ عام میں اسے ’’مرچی بم‘‘ (Chilly Bomb) بھی کہا جا سکتا ہے اور شائد عوام میں اب یہی نام’’پاوا بم‘‘ کی جگہ مستعمل ہو جائے! پیلٹ گن اور پاوا بم کا موزنہ کیا جائے تو موخر الذکر ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے ایک بہتر اور کارگر ہتھیار ہے جو ہدف کو نہ جان سے مارتا ہے اور نہ ہی زخمی کرتا ہے لیکن چند گھنٹوں کے لئے اسے بے حس و حرکت کر دیتا ہے۔ اہلِ جموں و کشمیر کے لئے بھارت کے وزیر داخلہ یہ تازہ تحفہ لے کر سری نگر پہنچے ہیں۔ اس کا استعمال آنے والے ایام میں کیا جائے گا۔

ویسے تو ہم جانتے ہیں کہ اس ’’مرچی بم‘‘ کا استعمال مدتوں سے برصغیر میں چوروں اور ڈاکوؤں کے لیول پر رائج رہا ہے۔آنکھوں میں دھول جھونکنا تو باقاعدہ اردو زبان کا محاورہ ہے لیکن آنکھوں میں مرچیں ڈال دینا ایک ایسا اوچھا ہتھیار ہے جو یا تو نچلے اور کمینے درجے کے چور ڈاکو استعمال کرتے ہیں یا اب بھارت کے اونچی جاتی کے ہندو برہمن اپنے فوجی جوانوں کو دے رہے ہیں اور ان کو باقاعدہ اجازت دی جا رہی ہے کہ اسے انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی پیمانے پر استعمال کرو۔ یعنی اجتماعی پیمانے پر انڈین آرمی(اور اس کی نیم عسکری تنظیمیں) چوروں اور ڈاکوؤں کی سی ٹیکٹکس استعمال کر کے کمینگی اور بزدلی کا کھلا مظاہرہ کر رہی ہے!

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ وزیر داخلہ جب نئی دہلی سے 24اگست2016ء کو سری نگر آئے تھے اور صورتِ حال کا جائزہ لیا تھا تو دہلی واپس جا کر فوراً ہی محکمے کے چیدہ چیدہ افسروں کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا اور ان کو ٹاسک دیا تھا کہ چونکہ فارن میڈیا میں پیلٹ گنوں کے استعمال سے وزیراعظم مودی کی اخلاقیات کو سخت تنقید کا سامنا ہے اور گلوبل پریس میں بھارت کی مذمت کی جا رہی ہے کہ وہ آزادی مانگنے والوں کو اندھا اور کانا کر کے ہسپتالوں میں پہنچا رہا ہے تو اس لئے جلد از جلد کوئی ایسا متبادل ہتھیار دریافت کریں جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی بچ جائے۔۔۔ لیکن ہندو جس سانپ کو مارنا چاہتا ہے وہ بہت سخت جان ہے اور اتنی آسانی سے مرنے والا نہیں۔ وہ جب تک حملہ آوروں کو مار نہیں دے گا، واپس بل میں نہیں جائے گا۔۔۔۔ راقم السطور نے اپنے گزشتہ کالم میں بین الاقوامی پریس میڈیا سے چند حوالے پیش کئے تھے جو کشمیری مسلمانوں کی حالتِ زار اور آزادی کا مطالبہ کرنے والے مسلم نوجوانوں پر پیلٹ گنوں کے اثرات پر مبنی تھے۔ اب یہ نیا ’’پاوا بم‘‘ جب استعمال ہو گا (اور خیال ہے کہ جلد ہو گا) تو فارن میڈیا اس صورتِ حال پر بھی تبصرے کرے گا لیکن یہ یاد رہے کہ غیر ملکی میڈیا جب ایسے تبصرے کرتا ہے تو اسے کشمیری مجاہدین کی حمایت یا طرفداری منظور نہیں ہوتی۔ ان کو خوف یہ ہوتا ہے کہ یہ پیلٹ گن اگر یورپ اور امریکہ میں عام ہو گئی تو اس کے معاشرتی اثرات کا کیف و کم کیا ہوگا اور اگر اب یہ ’’مرچی بم‘‘ مغربی مظاہرین کے ہاتھ لگ گیا تو اس کا نشانہ کون کون بن سکتا ہے اور اجتماعی معاشرتی ہلچل کہاں تک پہنچ سکتی ہے۔۔۔۔ وہاں مغرب میں توآئے روز مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔

’’پاوا بم‘‘ میں دو قسم کے بارود ہوتے ہیں یعنی ایک تو وہ بارود ہے جو بم (گرنیڈ) کو بھک سے اڑاتا ہے اور دوسرے گرنیڈ میں انڈیا کی تلخ ترین سرخ مرچوں کا پاؤڈر بھی ایک تھیلی میں بند کر کے رکھ دیا جاتا جو بم کے پھٹنے سے اردگرد کے علاقے میں اس ’’مرچی پاؤڈر‘‘ کو بکھیر دیتا ہے۔ یعنی جو کام گئے وقتوں میں چور اور ڈاکو اپنی مٹھی سے لیتے تھے وہی کام اس مرچی تھیلی اور گرنیڈ سے لیا جائے گا۔ بھارت کی ریاست مدھیا پردیش کے شہر گوالیار میں یہ ’’پاوا بم‘‘ تیار کئے جا رہے ہیں اور حکومت نے فی الحال 50 ہزار بموں کی پروڈکشن کا آرڈر اس فیکٹری کو دے دیا ہے۔

پہلے پہل یہ بم انڈیا کے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپ منٹ آرگنائزیشن (DRDO) میں بننا شروع ہوا تھا۔ جب اس کے ابتدائی تجربات کامیاب ہوئے تو بارڈر سیکیورٹی فورس کے ہیڈ کوارٹر نے اس کا ہاتھوں ہاتھ سواگت کیا اور لکھنؤ میں قائم (Texicology) کے انسٹیٹیوٹ میں اس پر مزید کام جاری رکھا گیا۔ پچھلے دنوں (29 اگست 2016ء) دہلی میں اس بم کا زندہ تجربہ راج ناتھ سنگھ کو دکھایا گیا۔ وہ اس کی تاثیر اور اس کے فوری اثرات دیکھ کر بے انتہا خوش ہوئے اور وہی فقرہ ان کی زبان سے نکلا جو ہٹلر کی زبان سے نکلا تھا۔

ہٹلر جب 1932ء میں جرمنی کا چانسلر بنا تو حکم دیا کہ ایک ایسا ہتھیار بنایا جائے جس پر دشمن کے چھوٹے ہتھیاروں کے جوابی وار (رائفل، گرنیڈ، مشین گن وغیرہ) کا اثر نہ ہو۔

جرمن آرمی ہیڈ کوارٹر کو معلوم تھا کہ برطانیہ میں ٹینک کا آئیڈیا حقیقت بن رہا ہے۔ جرمن انٹیلی جنس نے اس کی مزید تفصیلات اکٹھی کیں اور ہٹلر نے جنرل گڈیرین کو بلا کر حکم دیا کہ اس ہتھیار کو جلد از جلد ڈویلپ کیا جائے۔ چنانچہ ٹینک کی ایجاد جو در اصل برطانوی ذہن کی ایجاد تھی وہ جرمن ذہن میں پرورش پا کر ایک مکمل ہتھیار(ٹینک) میں ڈھل گئی۔ ٹینک کے چار اثرات (یا اوصاف) ایسے تھے جو جدید اہلِ لشکر کی تعریف و تحسین کا باعث بنے۔ ان میں ٹینک کی رفتار، چھوٹے ہتھیاروں کا اس پر بے اثر ہونا، شاک ایکشن اور زمینی نشیب و فراز کو خاطر میں نہ لانا شامل تھا۔ جنرل گڈیرین نے اپنے فیوہرر کے لئے ایک مظاہرے کا اہتمام کیا اور ہٹلر کے سامنے ٹینک کی قوتِ ضرب، رفتار، رسائی، گھن گرج اور سپاہیوں کے چھوٹے ہتھیاروں کی ضرب سے بے نیازی شامل تھی۔ابھی مظاہرہ جاری تھا کہ ہٹلر اُٹھ کھڑا ہوا اور سرخوشی اور مدہوشی کے عالم میں چیختے ہوئے کہا ہے ’’بس اسی کی تو مجھے تلاش تھی!۔۔۔ یہی تو وہ مقصود تھا جو میرا مقصودِ نظر تھا۔۔۔!!۔۔۔ یہی تو میرے دل کی آواز تھی!!!‘‘ ۔۔۔ سنا ہے بھارتی وزیر خارجہ نے ’’مرچی بم‘‘ کا زندہ مظاہرہ دیکھ کر اور اس کے اثرات کا جائزہ بچشم خود لے کر ہٹلر کی پیروی میں چیختے ہوئے کہا: ’’بس یہی تو میرے من کی آشا تھی!‘‘۔۔۔ ہندو کے من کی آشا یہ ہے کہ جموں اور کشمیر میں آزادی کے نام پر جو شخص بھی زبان کھولے، بازاروں کا رخ کرے یا گلیوں میں مظاہرہ کرے تو اس کی آنکھوں میں مرچیں ڈال کر اس کو عارضی طور پر اندھا کر دیا جائے، ناک میں مرچیں ڈال کر چھینکوں سے نڈھال کر دیا جائے اور گلے میں مرچیں ڈال کر ’’شکار‘‘ (Victim) کو مجبور کر دیا جائے کہ وہ گلا پکڑ کر بیٹھ جائے اور اس کے ہاتھ میں جو کنکر یا پتھر پکڑا ہوا ہے وہ زمین پر گر جائے!۔۔۔اس ایکسر سائز کا سارا کریڈیٹ بھارت کی وزارت داخلہ کے ان سات افسروں کی ایکسپرٹ کمیٹی کو دیا جا رہا ہے جس کی صدارت جوائنٹ سیکریٹری وزارت داخلہ مِسٹر ٹی وی این ایس پرساد (TVNS Parsad) کر رہے تھے!

بھارت نے یہ پاوا بم تیار تو کر لیا ہے لیکن دیکھتے ہیں کہ یہ پاوا انڈین چارپائی کے چاروں کونوں میں فٹ ہو کر اسے کتنی دیر تک سلامت رکھتا ہے اور کب اسے مین بوس کرتا ہے!

مزید : کالم