’’قرطاسِ وطن‘‘ سے ’’امام الکلام‘‘ تک(1)

’’قرطاسِ وطن‘‘ سے ’’امام الکلام‘‘ تک(1)
’’قرطاسِ وطن‘‘ سے ’’امام الکلام‘‘ تک(1)

  


چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ کی رُباعی گوئی

پاکستان کے عظیم شاعر اور علمِ عروض کے ماہر جناب عارف عبد المتین نے قومی رباعیات پر مشتمل ہماری رباعیات کے پہلے مجموعے ’’قرطاسِ وطن‘‘ کا دیباچہ سپردِ قلم کرتے ہوئے اپنے محققانہ اسلوب کے مطابق فرمایا کہ:۔

’’(شہنشاہِ الفاظ) چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ ہمارے عہد کے ان چند ’’قادر الکلام‘‘ شعراء میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی قدرتِ اظہار کی غیر معمولی صلاحیت کا لوہا منوانے کے لئے رباعی کی اس صنفِ سخن کو اپنایا ہے جسے بہت سے سخن وروں نے عجزِ ابلاغ کی شرمساری سے بچنے کے لئے عمر بھر ہاتھ تک لگانے کا خطرہ مول نہیں لیا ۔۔۔ واضح رہے کہ علامہ چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ نے رباعی جیسی اَدَق ہیئتِ شعری کو صرف شعوری سطح پر اپنے قبول سے نہیں نوازا بلکہ اسے ان کی طبعِ مشکل پسند نے لاشعوری انداز میں اپنے جذبات و افکار کی ترسیل کے لئے اختیار کیا ہے اور ہونا بھی یونہی چاہیے تھا۔ کیونکہ سچی اور سُچی شاعری اپنی تخلیق کے لئے کسی شعوری کاوش کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ (تاجدارِ سخن) چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ کی رباعیات کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک لمحے کے لئے بھی ان کی طرف سے میکانکی کارکردگی کے مظاہرے کا احساس نہیں ہوتا بلکہ ہم لفظ لفظ مصرعے مصرعے اور رباعی رباعی پر محسوس کرتے ہیں کہ ان کے تخلیقی ریلے کے آگے رباعی کا مزاحمت پسند ڈھانچہ پرِکاہ کی طرح بہتا چلا جا رہا ہے اور ایسا کرتے ہوئے فن کار کی پرُمایہ کامرانی کو عملاً خراجِ تحسین پیش کر رہا ہے ۔

چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ کی رباعیات کے زیر نظر شعری مجموعے (قرطاسِ وطن) کی ایک امتیازی معنوی خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کو انہوں نے حبِ وطن کے حوالے سے مرتب کیا ہے اور ہر رباعی ان کی اس بے پایاں شیفتگی کی آئینہ دار ہے جس کی قدر و قیمت کا ادراک صرف انہی لوگوں کا مقدر ہے جو اس دھرتی (پاکستان) کے (وفادار و جاں نثار و فدا کارو) دلداد گان میں سے ہیں۔ جس نے انہیں اپنی پَوِتّر کوکھ سے جنم دیا ہے ۔ اپنی پاکیزہ آغوش میں پالا ہے اور اپنے انمول رنگ و نور سے ان کی شخصیتوں کو پروان چڑھایاھا ہے‘‘۔

حقیقت وہ ہے کہ جن قومی و ملّی جذبات و احساسات اور پاکستان سے بے پایاں محبت و جاں نثاری کی جس وارفتگی نے ’’قرطاسِ وطن‘‘ میں جنابِ عارف عبد المتین جیسی عظیم اور محبِ وطن پاکستانی شخصیات کو دل کی اتھاہ گہرائیوں تک متاثر کیا ہے ۔ اس کی تابندگی و درخشندگی کی سرمدی تجلیاتِ افکار و خیالات میرے ہر مجموعۂ کلام (غزلیات و رباعیات) کی مستحکم اساس و غیر فانی بنیاد ہیں۔ ’’امام الکلام‘‘ میں اسی احساس کے متلاطم سمندر کے موجہ و طوفان کی شدت موجود ہے گویا ایک قاری کو واشگاف انداز اور واضح اسلوب کی حدود کے اندر کلام کی ندرت و بے ساختگی سے قطعاً معلوم ہو جاتا ہے کہ علامہ چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ پاکستان کی سلامتی و تحفظ و بقا و ارتقا کے لئے اپنی زندگی اور اپنی زندگی کی تمام مثبت اور تعمیری قوتیں وقف کئے ہوئے ہیں۔

تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ ’’امام الکلام‘‘ میں قومی و ملّی جذبات و احساسات کے ساتھ زندگی کے کچھ اور رنگ بھی نمایاں نظر آتے ہیں جو شاعرانہ مفاہیم و مطالب کو قوسِ قزح کا حسن عطا کرتے چلے جاتے ہیں۔ وہ عشق و جنوں اور محبوب و مطلوب کے سحر و فسوں کی گرفت میں تڑپتے ہوئے عاشقِ مہجور کو اذیت میں راحت سے محظوظ ہونے کا ضبط و صبر بھی عطا کرتے چلے جاتے ہیں اور زمین کے اعماق میں بھی ہجر کو وصال کا تصور دینے والے عاشق زار کو رفعتِ گردوں سے ہمکنار بھی کر دیتے ہیں۔ پھر اس حقیقت کو بھی اظہر من الشمس کرتے چلے جاتے ہیں کہ ازل ہی سے عشق کی تدریس و تہذیب کرتے رہنے کا عمل جاری ہے ۔ مگر وہ ایک مجذوبِ محبت، ایک عاشقِ زارِ اذیت و کرب اور فرقت و ہجر و جدائی کے دشت و بیاباں میں اپنے ابدی سفر کو جاری رکھنے والا ایک دیوانہ بھی ہے جو اپنی آبلہ پائی کو بصد شوق نوکِ خارِ مغیلاں سے ہم آغوش کر دیتا ہے ۔ تا کہ بے آب و گیاہ اور خشک وگرد آباد دشت و صحرا میں بھی ایک عاشق کے خون آلود پاؤں لالہ و گل آفریں نظر آتے چلے جائیں۔ در اصل خیالات و تصورات کا تنوع ایک ایسا بو قلموں صاحبِ کمال ہے کہ جو ’’امام الکلام‘‘ کو رنگ و خوشبو اور الفاظ و معانی کے موجہ و طوفان سے اتنا متنوع کر دیتا ہے کہ قرطاس و قلم ایک یگانۂ روز گار متاعِ فن و ہنر کے مخازن نظر آنے لگتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کہیں تو میں حق بیان و پابندِ دار و رسن ہوں ۔تو کہیں امن کے قیام و دوام کے لئے بھی شمشیر بکف ہوں مگر اس کے ساتھ ہی کہیں تو اللہ تعالیٰ کا بے پایاں شکر گزار ہوں اور کہیں سراپا حُسن پرور ہوں، کہیں ابلیس سے متصادم ہوں تو کہیں دولتِ ایمان کا تذکرہ کناں ہوں۔ کہیں بطورِ گنہگار رحمت طلب ہوں تو کہیں پیکرِ تسلیم و رضا ہوں ۔ کہیں جہنم سے خائف ہوں تو کہیں پورا متوکل ہوں۔ کہیں شوقِ گناہ کی گرفت میں ہوں تو کہیں عازمِ عشقِ بُتاں نظر آتا ہوں۔ کہیں ناقدِ تدریسِ حاضرہ ہوں تو کہیں قوتِ دیوانگئ عشق کا مظہر ہوں۔ کہیں رندوں سے ربط و سرو کا ر ہے تو کہیں میرا دل صوفی و ملا سے بیزار ہے ۔کہیں جنابِ شیخ کے ساتھ مل کے شغلِ جام و سبو کر رہا ہوں تو کہیں تشنہ لب و سیراب خُو ہوں۔ کہیں مے خانۂ چشمِ مست میں ڈوبا ہوا ہوں اور کہیں برسرِ عام گنہَ کا مرتکب نظر آتا ہوں تو کہیں گناہ و معصیت سے مکمل طورپر گریزاں بھی ہوں۔ کہیں زخم�ئ شمشیرِ نظر ہوں اور کہیں تسخیرِ مہر و مہ کے لئے جنوں کیش و عشق افزا ہوں۔ کہیں ایک شعلہ بیاں ہوں تو کہیں الفاظِ دل آزار سے گریزاں بھی نظر آتا ہوں۔ کہیں انسان کی بدنامی سے بے نیاز و آزاد ہوں تو کہیں عقل و خرد کا مداح ہوں۔ کہیں عشق و جنوں کو ادراک و شعور کا وارث گردانتا ہوں تو کہیں انسان کی تقدیس کے تحفظ کا طالب ہوں۔ کہیں مہتاب کو سرِ چرخ تماشائی دیکھتا ہوں تو کہیں محبت کا پرچارک ہوں۔ کہیں رنگین�ئ اندازِ بیاں کا شیدائی ہوں تو کہیں محبوب کی ادا بن کرلہک رہا ہوں۔ کہیں دریائے عشق کی روانی و طغیانی میں غرقاب و غلطاں ہوں اور کہیں میرا عہدِ شباب افلاس و بے چارگی کی گرفت میں بسمل و مضطرب نظر آتا ہے۔

گویا کہ ایک بلو قلمونئ و تنوع میری قسمت و سرشت میں ہے ۔یعنی ’’امام الکلام‘‘ گو نا گوں خیالات و احساسات کا مظہر ہے اور مختلف اوزانِ رباعی کا مرقعِ فن و ہنر بھی ہے ۔ مگر اصل معرکہ اس وقت قائم ہوتا ہے اور میدانِ گار زارِ دقیق و اَدَق اس وقت پیکر انِ فن و ہنر کی حیرت و استعجاب کا محور و مرکز بنتا ہے جب شجرہ ہائے ’’اخرب‘‘ و ’’اخرم‘‘ کے تمام اوزان یعنی پورے چوبیس اوزان میں سے الگ الگ ہر وزن میں رباعیات کی تخلیق کے عمل کا آغاز ہوتا ہے ۔ چنانچہ ہر وزن میں گویا کہ ہر خالص وزن میں تین تین رباعیات تخلیق کر کے ’’امام الکلام‘‘ کی زینت بنا دی گئی ہیں اور اس طرح پوری دنیائے شعر و ادب کو حیران و متحیّر کر دیا گیا ہے کیونکہ آج تک بّرِصغیرِ پاک و ہند کے کسی شاعر یا ایران میں بھی کسی شاعر نے پورے چوبیس اوزان میں رباعیات کہہ دینے کی کوئی مثال قائم نہیں کی ہے گویا کہ پاکستان اور بھارت اور ایران یا افغانستان کے فارسی گوشعراء میں سے کسی نے بھی آج تک اخرب و اخرم کے چوبیس اوزان میں سے ہر وزن میں الگ الگ رباعیات تخلیق کر کے اپنے کسی مجموع�ۂ رباعیات میں شامل کرنے کی روایت قائم نہیں کی ہے اور نہ ہی ’’امام الکلام‘‘ کے اس معرکے کی کوئی مثال و نظیر ’’امام الکلام‘‘ کی اشاعت سے پہلے تک شائع ہو جانے والے دواوینِ رباعیات میں کہیں ملتی ہے ۔ گویا محمد قلی قطب شاہ کہ جن کا عہد شعر و ادب 988ھ سے 1030ھ تک شمار کیا جاتا ہے اور جو اردو زبان کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر بھی متصور ہوتے ہیں اور صنفِ رباعی کے بھی اولین سخنور گردانے جاتے ہیں ان سے اب تک کسی شاعر کے کلام میں رباعی کے چوبیس اوزان میں سے ایک ایک وزن میں الگ الگ کہی ہوئی رباعیات نہیں ملتی ہیں۔ (چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ کے رباعیات کے دوسرے مجموعہ کلام’’ امام الکلام‘‘ کے دیباچہ سے ماخوذ)

چنانچہ شعر و ادب کی تاریخ کے محقق تو وہ سمجھتے ہیں کہ اردو زبان میں دیگر اصنافِ سخن کے ساتھ ہی رباعی تخلیق کرنے کی کاوش کا آغاز تو ہو گیا تھا مگر محمد قلی قطب شاہ سے علامہ چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ تک اردو زبان کی ترقی و ترویج کے ساتھ ساتھ دیگر اصنافِ سخن کی طرح رباعی بھی ارتقا پذیر تو چلی آ رہی ہے ۔ مگر دونوں شجروں یعنی ’’اخرب‘‘ اور ’’اخرم‘‘ کے چوبیس اوزان میں کسی شاعر کی رباعیات بطور ثبوت موجود نہیں ہیں۔ چنانچہ محققین کے مطابق اردو رباعی کے ابتدائی دکنی دور میں بھی کم و بیش ہر اچھے شاعر کے کلام میں رباعیات موجود تو ہیں مگر رباعی کی تعمیر اور ایوانِ رباعی میں فانوس کی طرح جگمگانے کی کاوش نظر نہیں آتی۔ چہ جائیکہ کسی شاعر نے رباعیات کی تخلیق میں چوبیس اوزان ہی میں اتر جانے کا معرکہ سر کر لیا ہو اور اس کی وجہ بھی واضح ہے کہ ایک تو رباعی کے اوزان آسانی سے دماغی حیطۂ گرفت میں نہیں آتے دوسرے ہر شاعر جب لوحِ اظہار پر بطورِ سخن ور ابھرنے کے عمل سے گزرنے کا آغاز کرتا ہے تو غزل گوئی میں دماغ آزمائی کو اوزان کے اعتبار سے مقابلتاً آسان سمجھتے ہوئے اپنی ساری مشقِ سخن کے دوران اپنی مکمل توجہ غزل ہی کی طرف منعطف کر دیتا ہے ۔ میں خود بھی ایک طویل مدت تک غزل کے بھنور میں چکر کاٹتا رہا ہوں اور رباعی کہنے کے عمل سے کنارہ کش رہا ہوں۔ مگر جب رباعی گوئی کی گرفت میں آ چکا تو کئی سال تک اسی کا اسیر رہا ہوں اور رباعیات کی تخلیق کے دوران میں نے اپنے دماغ کو رباعی گوئی کے لئے قطعاً موزوں پایا۔ چنانچہ بصد عجز و انکسار عرض کرتا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و کرم سے رباعی گوئی کے میدان میں بھی دیگر اصنافِ سخن کی طرح مجھے ایک شہسوارو نابغ�ۂ روزگار بنا دیا اور مجھے رباعی گوئی کے ایوان میں ایک تاریخ رقم کرنے کا اعزاز عطا فرما دیا ہے کہ مجھے رباعی کے دونوں شجروں یعنی ’’اخرب‘‘ اور ’’اخرم‘‘ کے چوبیس اوزان میں سے ہر وزن میں تین تین رباعیات کہنے کی توفیق عطا فرما دی ہے ۔ یہ تو محض اپنی صلاحیتِ رباعی گوئی کے اظہار کے لئے بطور نمونہ و مثال ہر وزن میں تین تین رباعیات تخلیق کر کے میں نے ’’امام الکلام‘‘ کا ناقابلِ فراموش حصہ بنا دی ہیں ورنہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے میں رباعی کے ہر شجرے کے ہر وزن میں جتنی چاہوں رباعیات بفضلہ تخلیق کر سکتا ہوں۔ میدانِ غزل گوئی میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی طرح مجھے ایک یگانۂ روز گار معرکہ آرائی کی توفیق عطا فرمائی ہے کہ ’’بحرِ وافر‘‘ میں مجھے غزلیات سپردِ قرطاس کر دینے کی توفیق ارزاں ہو گئی جبکہ متقدمین و متوسطین و متاخرین میں سے شاید ہی کسی شاعر نے کبھی اپنی کوئی غزل ’’بحرِ وافر‘‘ میں کہی ہو اور علمِ عروض کی کتب اس حقیقت کا شافی ثبوت ہیں اور میں اپنے مطالعہ کی حد تک وہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ علامہ چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ کے سوا پاکستان یا بھارت کے کسی اردو شاعر نے بھی ’’بحرِ وافر‘میں کبھی کوئی غزل نہیں کہی ورنہ اس کی کوئی مثال کہیں تو موجود ہوتی۔ چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے اور اس حقیقت کو تسلیم بھی کر لیا جانا چاہیے کہ علامہ چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ ہی وہ شاعر ہیں جنہوں نے بحرِ وافر میں متعدد غزلیات کہہ دی ہیں اور بحرِ وافر پر اتنا قابو پا لیا ہوا ہے کہ اس بحر میں وہ جتنی غزلیات مزید چاہیں کہہ سکتے ہیں ۔ گویا وہ رباعی کی طرح غزل کے میدان میں بھی اسی طرح ایک تاریخ رقم کر چکے ہوئے ہیں جس طرح اب رباعی گوئی کے میدان میں معرکہ آرائی کر رہے ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ بر صغیر میں اردو کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر محمدقلی قطب شاہ کی رباعی گوئی کے بعد ہر دور میں بڑے بڑے نامور شعرائے کرام میدان میں اترے اور انہوں نے جہاں غزل اور دیگر اصنافِ سخن میں اپنے علم و ہنر کے پرچم لہرائے وہاں رباعی کو بھی موضوع تخلیق بنایا۔ چنانچہ ایک زمانے میں خواجہ میر دردؔ ، محمد رفیع سوداؔ ، میر حسن اور میر تقی میرؔ نے دیگر اصنافِ سخن کے ساتھ فروغِ رباعی کی طرف بھی قابلِ ستائش توجہ مبذول کی مگر حیدر علی آتش نے ایک طویل مدت تک رباعی کی طرف کوئی توجہ نہ دی جبکہ انیسؔ و دبیرؔ نے اس صنف سخن میں بھی معرکہ آرائی کی کامیاب کوشش کی ۔ اسی طرح امام بخش ناسخ نے بھی قابلِ ذکر رباعیات کہی ہیں جبکہ ا نشاء اللہ خان انشاؔ نے بھی جاتے جاتے رباعیات کی ایک مختصر سی محفل جمائی اور ان کے کلیات میں کم و بیش چالیس رباعیات ملتی ہیں۔ پھر جرأتؔ اور نظیر اکبر آبادی کا کلام بھی رباعیات سے خالی نہیں ہے ۔ چنانچہ رباعی گوئی میں غالبؔ ، ذوقؔ ، مومنؔ اور ظفرؔ بھی جلوہ نما ہوئے مگر مومنؔ کی رباعیات بہت بہتر متصور ہوتی ہیں۔ غالبؔ کے شاگرد مہدی مجروح نے بھی مختلف موضوعات پر چند رباعیات سپردِ قلم کیں مگر خواجہ الطاف حسین حالیؔ ، اکبر الہٰ آبادی اور اسماعیل میرٹھی نے تو رباعی میں اپنی جودت طبع کے اظہار کی قابلِ ستائش کوشش کی اور اپنی رباعیات میں اصلاحی اور تعمیری مضامین کو بھی سمو دیا۔ جب رباعی کا دائرۂ تفکر وسیع ہو گیاتو امیر مینائی اور پیارے صاحب رشید میاں نے بھی اپنے کلام کو رباعی سے محروم نہ رہنے دیا۔ مرزا داغ دہلوی نے بھی رباعی گوئی کے میدان میں طبع آزمائی تو کی مگر وہ چونکہ خالصتاً غزل کے شاعر تھے شاید اس لئے ان کے کلام میں رباعیات کی تعداد زیادہ نہیں ملتی ہے البتہ ریاض خیر آبادی، سرور جہاں آبادی، نظم طباطبائی، چکبست، شوق قدوائی اور عزیز لکھنوی کے کلام میں رباعیات موجود ہیں۔

پھر پہلی جنگِ عظیم نے شعرائے کرام کے حیطۂ خیال کو جب متنوع اور بوقلموں کر دینے کا ماحول پیدا کر دیا تو رباعی کے دامن میں بھی رنگا رنگ پھول کھلنے لگے اور جواہراتِ موضوعات بھی پھولوں کی کیاری کی طرح مختلف سیارگانِ مضامین کی تجلیات سے بھر گئے ۔ چنانچہ اس دور میں اور دوسری عالمگیر جنگ کے اثرات سے متاثر ہونے تک متعدد عظیم شعرائے کرام نے رباعی کے میدان مین تاریخی انداز میں اپنے جوہر دکھائے ۔ ان میں علامہ سیماب اکبر آبادی، امجد حیدر آبادی، جوش ملیح آبادی، فراق گورکھپوری، تلوک چند محروم، یاس یگانہ چنگیزی، فانی بدا یونی، عبد الباری آسی، حامد حسن قادری، کشن پرشاد شاد اور اثر لکھنوی نے بھی اپنی اپنی استعدادِ فکر اور جوہرِ تخلیق و صلاحیتِ شعر گوئی کے مطابق تجلیاتِ رباعیات کو دنیائے شعر و ادب پر نچھاور کیا۔ پھر خواجہ دل محمد جو کہ ایک ماہرِ تعلیم اور ریاضی دان تھے مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو شعر کہنے کی صلاحیت سے بھی مالا مال فرما دیا تھا ’’صد پارۂ دل‘‘ کے نام سے اپنی رباعیات کا مجموعہ منصۂ شہود پر لائے اور ان کے بعد کے دور میں پاکستان کے ایک ممتاز آرٹسٹ صادقین نے اپنی رباعیات کا ایک خوبصورت مجموعہ بھی اپنے فن پاروں کی طرح اپنی یاد گار چھوڑا ۔ مگر ان سے پہلے اثر صہبائی نے بھی اپنی رباعیات کے کئی مجموعے زمانے کی بارگاہ میں پیش کیے ۔ قیامِ پاکستان سے پہلے رگھویندر راؤ جذبؔ عالم پوری کی رباعیات کا مجموعہ بھی 1939ء میں شائع ہوا۔ اسی دور میں ڈاکٹر آر آر سکسینہ الہامؔ کا مجموعۂ رباعیات بھی میدان میں آیا جبکہ جوش ملیح آبادی کی حقیقی بھانجی صفیہ شمیم نے بھی مختلف مضامین کی حامل رباعیات کہی ہیں۔ مگر اخگر مراد آبادی ان سے پہلے رباعیات نگاروں میں شامل ہو چکے تھے اور نریش کمار شاد بھی رباعیات میں طبع آزمائی کر رہے تھے ۔ گویا کہ میدانِ شعر میں اترنے والے کم و بیش ہر شاعر نے رباعی کہنے کی کوشش کی ہے ۔ چنانچہ حیدر دہلوی، وحشت کلکتوی، صوفی غلام مصطفی تبسم، ساغر نظامی، جگن ناتھ آزاد، شاعر لکھنوی، عبد الحمید عدم، ماہر القادری اور رعنا اکبر آبادی نے بھی رباعیات کہی ہیں اور اب مَیں یعنی علامہ چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ اس میدانِ رباعیات میں جلوہ گر ہوا ہوں۔ قبل ازیں میں 1993ء میں ’’قرطاسِ وطن‘‘ کے عنوان سے اپنی قومی رباعیات کا ایک مجموعہ منصۂ شہود پر لا چکا ہوں اور قومی سطح پر داد بھی حاصل کر چکا ہوں اور اب امام الکلام کی تجلیاتِ فکر و فن سے دنیائے شعر و ادب میں چراغاں کرنے آیا ہوں۔ دیکھیئے ’’امام الکلام‘‘ کی درخشندگی و تابندگی کہاں تک پہنچتی ہے ۔ بہر حال :

ہو کوئی بھی معرکہ میں برسرِ میدان ہوں

پیکرِ جہد و عمل ہو جو میں وہ انسان ہوں

مزید : اداریہ