بنگلہ دیش میں ایک اور غیر قانونی پھانسی

بنگلہ دیش میں ایک اور غیر قانونی پھانسی

بنگلہ دیش میں قائم نام نہاد اور متنازعہ جنگی ٹربیونل کے حکم پر جماعت اسلامی کے ایک اور بزرگ رہنما میر قاسم علی کو پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی سے قبل میر قاسم علی کے اہلخانہ کے ساتھ آخری ملاقات کرائی گئی۔ اہلِ خانہ کے مطابق آخری ملاقات کے دوران بھی میر قاسم علی پوری طرح حوصلے اور نظریاتی استحکام کے ساتھ باتیں کرتے رہے۔ متنازعہ جنگی ٹربیونل میں میر قاسم علی پر بھی یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے 1971ء میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی تھیں جبکہ اس مقدمے کی ابتدا سے سزا سنائے جانے کے بعد تک میر قاسم علی نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنے کردار و عمل کو مروجہ آئین اور حب الوطنی کے تقاضوں کے مطابق قرار دیا۔ تاہم ٹربیونل نے ان کے دلائل کو تسلیم نہ کرتے ہوئے پھانسی کی سزا کا حکم سنا دیا۔ میر قاسم علی نے بنگلہ دیش کے صدر سے رحم کی اپیل کرنے سے انکار کر دیا تو ایک روز بعد انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ بنگلہ دیش میں وزیراعظم حسینہ واجد بھارتی حکمرانوں کے اشاروں پر ایسے کام کر رہی ہیں جن کی وجہ سے پاکستان اور نظریہ پاکستان کے حامیوں کی حوصلہ شکنی ہو اور وہ مایوسی کا شکار ہوتے چلے جائیں۔ علاوہ ازیں وہ اپنے والد شیخ مجیب الرحمان کے قتل کا بدلہ لینے کے جنون میں مبتلا ہیں۔ حسینہ واجد کا خیال ہے کہ ان کے والد شیخ مجیب الرحمان کو قتل کرنے والے اسلام اور نظریۂ پاکستان پر پختہ یقین رکھتے تھے۔ بدلہ لینے کے لئے انہوں نے ایک متنازعہ جنگی ٹربیونل بنایا، یہ ٹربیونل ملزموں کو اپنے دفاع کا پورا موقع نہیں دیتا ۔ جن لوگوں پر مقدمات چلائے جا رہے ہیں، ان میں بیشتر کا تعلق جماعت اسلامی بنگلہ دیش سے ہے، جس کی مذمت کرتے ہوئے کئی بار بنگلہ دیشی عوام کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر احتجاج کیا ہے۔ بنگلہ دیش کی سیکیورٹی فورسز نے ان کے احتجاج کو روکنے کے لئے شدید آنسو گیس کے استعمال کے علاوہ فائرنگ بھی کی،جس کے نتیجے میں کئی افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بنگلہ دیشی حکومت سے اس مسئلہ پر حکومتِ پاکستان احتجاج کر چکی ہے کہ سہ فریقی معاہدے کے تحت اس قسم کی کارروائیاں بند کی جائیں، تاہم بنگلہ دیشی حکومت نے جنگی ٹربیونل میں مقدمات کی سماعت اور پھانسی کی سزاؤں کو اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق، جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ اور دیگر رہنماؤں نے بنگلہ دیشی حکومت کے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکوانے کے لئے وزیراعظم حسینہ واجد پر دباؤ ڈالا جائے۔

مزید : اداریہ