عدلیہ میں خرابیوں کی اصلاح؟

عدلیہ میں خرابیوں کی اصلاح؟

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ وہ پوری سچائی اور دیانتداری سے کہہ سکتے ہیں کہ عدلیہ ہر سطح پر آزاد ہے، عدلیہ میں صرف میرٹ کو بنیاد بنا کرخامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، عدالتیں لوگوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے پوری محنت کر رہی ہیں، جس طرح مُلک کے دیگر شعبوں میں بدانتظامی کرپشن اور میرٹ کا فقدان ہے اِسی طرح شعبہ تعلیم اور عدلیہ بھی اس سے مُبرّا نہیں، مُلک میں خصوصاً شعبہ تعلیم میں طبقاتی نظام تیزی سے پھیل رہا ہے، جس سے اعلیٰ تعلیم صرف ایک مخصوص طبقے کی اولادوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور غریبوں کے بچے اِس سے محروم ہیں، بحیثیت قوم ترقی کرنے کے لئے یکساں نظامِ تعلیم رائج کرنا ہو گا۔ وہ کراچی میں شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی تعلیم کا معیاری ہونا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ کمزور بنیادوں پر کبھی مضبوط عمارت کھڑی نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل251 کے نافذ العمل نہ ہونے کے باعث عدالتوں کو دشواری کا سامنا ہے، تاہم وہ یقین دلاتے ہیں کہ عدلیہ اپنی خامیوں کو دور کرنے میں مصروف عمل ہے۔

جناب چیف جسٹس نے عدلیہ کی جس آزادی کا ذکر کیا ہے وہ تو ججوں کے بہت سے فیصلوں سے واضح ہے، کیونکہ ایسے فیصلے آزاد عدلیہ کے دور میں ہی سامنے آ سکتے ہیں، جب ایسا نہیں تھا تو یہ صورتِ حال عدالتوں کے فیصلوں سے بھی جھلکتی تھی اور نظریۂ ضرورت کا سہارا لے کر ایسے ایسے فیصلے کر دیئے جاتے تھے جو آئین و قانون کی روح اور منشا سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ تاہم اب اگر عدلیہ پوری طرح آزاد ہے تو یہ سب اعلیٰ سطح کے فیصلوں سے بھی مترشح ہوتا ہے البتہ مختلف سطحوں پر عدلیہ میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے، خصوصاً لوئر عدلیہ میں بہتری کی خاصی گنجائش موجود ہے، جس کی اصلاح کے لئے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے عہدہ سنبھالتے ہی کوششوں کا آغاز کر دیا تھا تاہم یہ کام بڑا دِقت طلب ہے اور اس کے لئے کئی برس کی ریاضت درکار ہے۔

ہمارے عدالتی نظام میں مقدمات کے فیصلے بڑی تاخیر سے ہوتے ہیں اور بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ تاخیری حربے وکلا ء بھی استعمال کرتے ہیں انہیں جس مقدمے کے متعلق یقین ہوتا ہے کہ اس کا فیصلہ ان کے مؤکل کے حق میں ہونا مشکل ہے وہ کوشش کرتے ہیں کہ اِسے جتنا لمبا کھینچ سکتے ہیں کھینچ لیں۔وہ تاریخوں پر تاریخیں لیتے رہتے ہیں اور بسا اوقات سال ہا سال مقدمے کی سماعت کی نوبت ہی نہیں آتی۔ ایسا عموماً جائیدادوں اور زمینوں کے مقدمات میں ہوتا ہے جہاں جائیداد کے جائز مالک کے پاس قبضہ نہیں ہوتا اور کسی دوسرے فریق نے اس پر عدالتی حکم امتناہی کے ذریعے اپنا قبضہ برقرار رکھا ہوتا ہے۔ ناجائز قابض کا شاطر وکیل اِسی حکمِ امتناہی کی بنیاد پر ناجائز قبضہ برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور اگر کسی ایک عدالت سے اس کے خلاف فیصلہ صادر ہوتا ہے تو وہ فوری طور پر دوسری اعلیٰ عدالت سے حکم امتناہی لے آتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جائیداد کا جائز مالک تو در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہوتا ہے اور جس نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہوتا ہے وہ زمین اور جائیداد کی آمدنی سے مستفید ہوتا رہتا ہے، حالانکہ وکیل کا منصب اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ کسی بھی مقدمے میں انصاف کی راہ ہموار کرے لیکن وہ انصاف کے لئے نہیں اپنے موکل کے لئے مقدمہ لڑ رہا ہوتا ہے اور اس مقصد کے لئے اسے اگر بنچ کو دھوکے میں بھی رکھنا پڑتا ہے تو وہ اس سے گریز نہیں کرتا۔

یہ جو آئے دن ہم عدالتوں میں دیکھتے ہیں کہ وکیل حضرات اپنے حق میں فیصلہ نہ ہونے پر ججوں سے لڑنے جھگڑنے لگتے ہیں یا برسر عدالت ان سے بدتمیزی سے پیش آتے ہیں یہ اسی طرز عمل کا شاخسانہ ہے۔ اگرچہ ابھی تک یہ وبا صرف ماتحت عدالتوں تک محدود ہے تاہم ہائی کورٹوں میں بھی کبھی نہ کبھی اس طرح کا ’’سین‘‘ بن جاتا ہے اور یہ جوسینئر وکیلوں کے لائسنس معطل ہونے کی خبریں آ جاتی ہیں، ان کے پس منظر میں بھی یہی بات ہوتی ہے ۔وکلاء کی ایک بڑی تعداد کے بارے میں یہ شکایت بھی سامنے آ چکی ہے کہ ان کی اسناد جعلی ہیں اور وہ انہی کی بنیاد پر پریکٹس کا حق استعمال کرتے چلے جا رہے ہیں، جعلی دستاویزات کا روگ بہت پرانا ہے اور تشکیل وطن کے ساتھ ہی لوگوں نے جائیدادوں کی الاٹمنٹ کے لئے جعلی دستاویزات کا سہارا لینا شروع کر دیا تھا اور بہت سے لوگوں نے اس سے استفادہ کیا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے جعلی دستاویزات پورے معاشرے میں اس قدر عام ہو گئیں کہ زندگی کا کوئی شعبہ اس سے محفوظ نہ رہا یہاں تک کہ اب عدالتوں میں بھی جعلی دستاویزات پیش کئے جانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔

کئی سینئر وکیلوں کے چیمبروں کی شہرت اس سلسلے میں خاصی داغدار ہے اور عدالتوں نے حکم دے رکھا ہے کہ ان کی کوئی فوٹو کاپی تصدیق کے بغیر قبول نہ کی جائے۔ ایسے میں یہ اطلاع تو بہرحال تشویشناک ہے کہ وکیلوں نے وکالت کے لائسنس بھی جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر حاصل کر رکھے ہیں، لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ فاضل جج صاحبان نے اس سلسلے میں کسی کارروائی کا آغاز کیا ہے یا نہیں؟ اگر کیا ہے تو اس کی تفصیلات سامنے آنی چاہئیں اور اگر نہیں کیا گیا تو جلد ہی اس کا آغاز ہو جانا چاہئے تاکہ جو وکلاء جعلی دستاویزات کی بنیاد پر معزز بنے پھرتے ہیں ان کا اصل چہرہ قوم کے سامنے آ سکے۔

جناب چیف جسٹس نے طبقاتی تعلیم کے جس پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے وہ اگرچہ پہلے شخص نہیں ہیں، جنہوں نے اس خرابی کی نشاندہی کی ہے ان سے پہلے بھی بہت سے لوگ اس جانب توجہ دلا چکے ہیں، لیکن اصلاحِ احوال کے لئے کوئی قدم اب تک نہیں اٹھایا گیا، بلکہ ہر گزرتے دِن کے ساتھ یہ خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی جا رہی ہے ۔تعلیم ایک ایسا کاروبار بن کا چکا ہے جس میں سرمایہ کاری کم اور منافع کی شرح بہت زیادہ ہے، روزانہ کی بنیاد پر ایسے تعلیمی ادارے وجود میں آ رہے ہیں جہاں بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں، ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ایسے تعلیمی ادارے طالب علموں سے تو بھاری فیسیں لیتے ہیں لیکن اساتذہ کو پوری تنخواہ بھی نہیں دیتے اور اگر حکومت ان کی آمدنی پر ٹیکس لگا دے تو ہڑتالوں پر اُتر آتے ہیں۔

چھٹیوں کے مہینوں کی فیسیں طلبا سے تو ایڈوانس وصول کی جاتی ہیں، لیکن اساتذہ کو ان مہینوں کی تنخواہ دینے کی بجائے جون کے مہینے سے ان کی ملازمت ختم کر دی جاتی ہے اور چھٹیوں کے بعد اُنہیں دوبارہ ملازم رکھا جاتا ہے یہ استحصال کی بدترین قسم ہے،جو بلا روک ٹوک جاری ہے اور حکومت اسے روکنے کی کوشش کرتی ہے تو تعلیمی اداروں کے بااثر مالکان مزاحمت پر اُتر آتے ہیں۔ ایسے تعلیمی اداروں میں عموماً اُن لوگوں کے بچے جاتے ہیں جو یا تو کامیاب کاروباری ہوں یا پھر ایسے سرکاری عہدوں پر فائز ہوں، جہاں بالائی آمدن بے حد و حساب ہو۔ جناب چیف جسٹس نے اس خرابی کی درست نشاندہی تو بجا طور پر کر دی ہے اور یہ بھی فرما دیا ہے کہ غریب غُربا کے بچے اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ رہے ہیں، لیکن کیا وہ اس سلسلے میں کوئی عملی اقدام بھی کریں گے؟ بظاہر تو نہیں لگتا کہ حکومت اس طبقاتی نظامِ تعلیم کو ختم کرنے کی کوئی کوشش کرے گی، لیکن کیا جناب چیف جسٹس کے پاس اِس مسئلے کا کوئی حل ہے؟

مزید : اداریہ