پاکستان میں زراعت اور پولٹری کے شعبے ترقی کے ضامن ہیں

پاکستان میں زراعت اور پولٹری کے شعبے ترقی کے ضامن ہیں

 پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے چیئرمین رائے منصب علی کھرل کا شمارپی پی اے کی نمایاں شخصیات میں ہوتا ہے، شیخوپورہ کی تحصیل مریدکے کے زمیندار گھرانے کے سپوت اور مکمل طور پر سیلف میڈ انسان ہیں اورکئی دہائیوں پر محیط جہد مسلسل اورکڑی محنت کے بعد پولٹری کے حلقوں میں انتہائی معتبر مقام رکھتے ہیں۔ پولٹری کے کار وبار میں انہوں نے ابتداء ایک پولٹری فارم سے کی اور تقریباً 4 ماہ بعد فیڈ ڈسٹری بیوشن شروع کر دی ، خاندان کا تعلق زراعت کے شعبے سے ہونے کے باعث رائے منصب علی کھرل نے پولٹری فارمننگ سے کاروبار کا آغاز توکیا لیکن بعد ازاں کنٹرول فارمنگ آئی تو 2006-07 ء میں ’’آر بی چکس‘‘ کے نام سے کنٹرول ہاؤس بنا لئے ۔سیلز میں وسیع تجربہ ہونے کے باعث پی پی اے کی مارکیٹنگ کمیٹی کے کنوینر ہیں اس کے علاوہ بھی صنعت کی خدمت کیلئے دوستوں نے جو بھی ذمہ داری سونپی اسے بھرپور طریقے سے نبھانے کی کوشش کی ۔ رائے منصب کی گراں قدر خدمات کے پیش نظر پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کی سینئر قیادت نے انہیں سال 2015-16 ء کیلئے چیئرمین (نارتھ) منتخب کیا ہیے۔روزنامہ’’ پاکستان ‘‘سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی پی اے رائے منصب علی کھرل کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے زراعت کے بڑے حصے کو سہارا مرغبانی کی صنعت نے دے رکھا ہے، صنعت مرغبانی میں ہونیوالی جدت کے حوالے سے چیئرمین پی پی اے کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں میں اس فیلڈ میں بہت تیزی سے گروتھ ہوئی ہے تاہم ہر چند سال بعد نئے نئے بحرانوں کے باعث شرح نمو متاثر ہوئی ۔ایک زمانہ تھا جب ایبٹ آباد، شنکیاری، مانسہرہ ،مری، اوردیگر شمالی علاقے بریڈر فارمنگ کیلئے آئیڈل سمجھے جاتے تھے ان دنوں میں ابھی کنٹرول ہاؤسز نہیں آئے تھے ۔ تاہم آج اس صنعت کا شمار پاکستان کی بڑی صنعتوں میں ہوتا ہے اس کے حجم کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ صنعت مرغبانی میں سرمایہ کاری کا حجم 700 ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکا ہے جبکہ یہ صنعت 22لاکھ لوگوں کو براہ راست روزگار مہیا کر رہی ہے اس کے علاوہ درجنوں صنعتیں اور شعبے ایسے ہیں جن کی بقاء کا انحصار پولٹری انڈسٹری پر ہے پولٹری کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتاہے کہ اس کی وجہ سے آج تک اس ملک میں خوراک کا بحران پیدا نہیں ہوا اور اگر خدانخواستہ پولٹری تباہ ہوئی تو اس سے ملک میں غذائی قلت کا اندیشہ ہے۔

پاکستان میں حیوانی لحمیات کے استعمال کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ترقی یافتہ دنیا میں ایک عام آدمی روزانہ 110 گرام حیوانی لحمیات استعمال کرتا ہے جبکہ انسانی جسم کی ضرورت 27 گرام لحمیات روزانہ ہے جبکہ ہمارے ہاں لحمیات کا فی کس استعمال صرف 17 گرام ہے جس میں سے چالیس فیصد حصہ پولٹری کا ہے ۔ اس لئے حکومت کو چاہیے کہ پاکستان کی پولٹری انڈسٹری کی ترقی کیلئے خصوصی اقدامات کرے۔

بطور چیئرمین پی پی اے اپنی اوّلین ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولٹری کو ہمیشہ 2 بڑے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے جن میں پہلا بیماریوں کی روک تھام جبکہ دوسرا پاکستان میں مرغی اور انڈے کی فی کس کھپت بہتر بنانے کیلئے سرگرمیاں پیدا کرنا ہے۔ لہٰذا انہی دونوں معاملات پر تمام تر توانائیاں صرف کی جائیں گی اس حوالے سے UVAS اور VRI جیسے ریسرچ کے اداروں سے مل کر کام کریں گے۔ امریکہ میں مرغی کا گوشت کھپت کے لحاظ سے سر فہرست ہے جبکہ 2030 ء تک پوری دنیا میں مرغی کا گوشت کسی بھی دوسرے گوشت کے مقابلے میں سب سے زیادہ استعمال کیا جائے گا ، مرغی کے گوشت کا پروٹین پروفائل بہت اچھا ہے، اسے پکانا اور ہضم کرنا بہت آسمان ہے یہی وجہ ہے کہ اب بھی پوری دنیا میں گوشت کی مجموعی کھپت کا 25 فیصد مرغی پورا کر رہی ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ یعنی 40 فیصد تک ہے۔ اس لحاظ سے اگر حکومت مداخلت نہ کرے تو پاکستان میں پولٹری کا مستقبل بہت اچھا ہے ۔ ملکی معیشت کی درستگی اور لوگوں کا معیار زندگی بھی پولٹری کی کھپت کے حوالے سے نہایت اہم ہے مرغی کے گوشت کی کھپت بڑھنے کا انحصار بھی لوگوں کی قوت خرید پر ہے۔ پاکستان میں فی کس سالانہ آمدنی 1400 ڈالر ہے جبکہ مرغی کے گوشت کی فی کس کھپت ساڑھے پانچ کلو ہے۔ دوسری طرف امریکہ میں فی کس آمدنی 45000 ڈالر سالانہ ہے اور مرغی کے گوشت کی فی کس کھپت 45 کلو ہے لہٰذا اگر پاکستان میں فی کس آمدنی بہتر ہو جائے تو بھی پولٹری انڈسٹری کیلئے بہت زیادہ مارجن پیدا ہوگا۔

مرغی کے گوشت کی موجودہ کم ترین قیمتوں کے حوالے سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طویل عرصہ سے مرغی پیداواری لاگت سے کم قیمت پر فروخت ہو رہی ہے اور ان حالات میں فارمر کا کاروبار جاری رکھنا بھی مشکل نظر آ رہا ہے کیونکہ فارمر میں اب مزید نقصان برداشت کرنے کی سکت نہیں رہی۔پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کوبذریعہ خط قیمتوں کے بحران سے آگاہ کرتی رہتی ہے۔اس وقت مرغی کی پیداواری لاگت135سے165 روپے ہے جبکہ فارمر اسے 20 سے 30 روپے خسارے میں بیچنے پر مجبور ہے اور فارمر کو ایک شیڈ پر لاکھوں روپے خسارے کا سامنا ہے اس امر کو میڈیا اور حکومتی اداروں تک پہنچانا از حد ضروری ہے ہمارا المیہ یہ ہے کہ پورے سال میں ایک یا دو ماہ جب مرغی کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو سرکاری محکمے فوری طور پر اسے کنٹرول کرنے کیلئے میدان میں آ جاتے ہیں، مرغی کا گوشت بیچنے والوں کے چالان کئے جاتے ہیں اور ڈیلروں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو جاتی ہے جو غیر منصفانہ عمل ہے۔ مرغی ایک انتہائی’’ پیریش ایبل آئٹم ‘‘ ہے اورمخصوص وزن کے بعد اسے کسی طور بھی ہولڈ نہیں کیا جا سکتا لہٰذامرغی کی قیمتوں کا تعلق خالصتاً طلب و رسد پر منحصر ہے اور ’’فری مارکیٹ ‘‘کے اس بنیادی اصول کے تحت ہی منڈیوں میں قیمتیں طے ہوتی ہیں۔ اگر حکومت قیمتیں زیادہ ہونے پر حرکت میں آتی ہے تو قیمتیں انتہائی سطح سے کم ہونے پر بھی فارمر کی مدد کو آنا چاہیے کیونکہ اگر حکومت ’’کنٹرولڈ مارکیٹ ‘‘ چاہتی ہے تو مرغی کی پیداواری لاگت ، بجلی ، پٹرول کے نرخ اور دیگر لوازمات کو جمع تفریق کر کے اس کی کم از کم قیمت بھی فکس کردے اور زیادہ سے زیادہ بھی۔بعض حکومتی شخصیات کی مرغی کے کاروبار سے وابستگی کے سوال پر چیئرمین پی پی اے رائے منصب علی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے ارکان اس چیز کو بے جا ہدف تنقید بناتے ہیں جن سے عوامی سطح پر یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شاید مرغی کی قیمتوں کو اپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کیا جا سکتا ہے حالانکہ ایسا کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔

مثال کے طور پراگر معمول کے مطابق 100 مرغیوں کی طلب ہے تومحرم الحرام کے دوران وہ کم ہو کر 40فیصد رہ جائے گی یعنی 60 فیصد تک کمی واقع ہو جائے گی یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات میں مرغی کی کم ترین قیمتوں کو کسی ریفرنس کے طور پر نہیں لینا چاہیے اور سال میں3.2 ماہ جب مرغی کی طلب بڑھے تو یہی وہ وقت ہوتا ہے جس میں فارمر کا نقصان پورا ہو سکتا ہے ورنہ حالات یہ ہیں کہ لاہور اور اس کے مضافات میں 40 فیصد کنٹرول ہاؤسز (فارم) تقریباً بند ہو گئے ہیں ان کے مالکان کاروبار میں نقصان کر کے کام چھوڑ چکے ہیں ۔آج حکومت کیلئے سوچنے کا مقام ہے اگر فارمر کیلئے کچھ کر سکتی ہے تو آج ہی کرے ورنہ جب مرغی کے گوشت کی طلب بڑھے گی اور پیداوار کم پڑ جائے گی تو قیمتوں کو کنٹرول کرناکسی بھی شخص یا ادارے کے کنٹرول میں نہیں رہے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں بزنس فرینڈلی پالیسیاں نہیں بنائی جاتیں، یہاں صنعتوں کو وہ ماحول فراہم نہیں کیا جا سکا جس کی ضرورت ہے تاہم اس کے باوجود ملک میں کوئی کاروبار چل رہا ہو تو ایف بی آر جیسے ادارے اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مشکل حالات کے باوجود انڈسٹری کیوں چل رہی ہے۔ اس کی مثال پولٹری سیکٹر پر حالیہ ٹیکسوں کا نفاذ ہے پولٹری سیکٹر چلنے سے جہاں لوگوں کو سستی پروٹین ملی وہیں روزگار بھی ملا لیکن حکومت نے انڈسٹری کے خام مال پر نئے ٹیکس لگا کر عوام کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ ان ٹیکسز کے نفاذ سے مرغی کی پیداواری لاگت بے تحاشا بڑھ جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں پولٹری انڈسٹری گرو کرنے کی وجہ سے سستی مرغی مہیا ہو رہی ہے، حکومت کو چاہیے کہ چکن کی ہر قسم کی امپورٹ پر پابندی عائد کرے تا کہ انٹرنیشنل فوڈ چین چکن کو امپورٹ کرنے کی بجائے مقامی مارکیٹ سے چکن خریدیں کیونکہ وطن عزیز میں بھی عالمی معیار کے چکن پراسیسنگ پلانٹس لگ چکے ہیں جو عالمی معیار کے صحت کا ضامن فری ہائی جینک گوشت مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس صورتحال میں چکن کی بے تحاشا درآمد کا جواز نہیں بنتا ہمسایہ ملک بھارت میں انٹرنیشنل فوڈ چین مقامی مارکیٹ سے گوشت خریدتے ہیں لیکن پاکستان نے درآمد کی اجازت دے کر مقامی انڈسٹری کو عدم تحفظ کا شکار کیا ہوا ہے جبکہ لوکل پولٹری انڈسٹری سالانہ اربوں روپے کے ٹیکسز اور لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کر رہی ہے۔علاوہ ازیں اگر حکومت مناسب قانون سازی کرے تو آئندہ برسوں میں پولٹری مصنوعات کی مجموعی برآمدات 2 سوارب روپے سے بڑھائی جا سکتی ہیں، برآمدات کے حوالے ’’او آئی ای‘‘ جیسے عالمی ادارے کی پابندی ختم ہونے کے بعد بھی پاکستان کے دیگر ملکوں سے معاہدے نہیں ہوئے تھے تاہم اب حکومت اور پی پی اے کی کوششوں سے مشرق وسطیٰ اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ پاکستان سے پولٹری مصنوعات برآمد کرنے کے معاہدے ہوئے ہیں تاہم برآمدات کے فروغ کیلئے ضروری ہے حکومت انڈسٹری کو سہولتیں فراہم کرے پاکستان میں پراسیسنگ پلانٹس کی حوصلہ افزائی کیلئے انہیں آسان شرائط پر قرضے فراہم کئے جائیں جہاں عالمی معیار کا چکن پراسیس ہو جبکہ اسے برآمد کرنے کیلئے فریٹ سبسڈی دی جائے کیونکہ فروزن گوشت کو باہر بھجوانے کیلئے کرائے بہت زیادہ ہیں بھارت اپنی پولٹری انڈسٹری کو فریٹ سبسڈی دے رہا ہے اس لئے بیرونی دنیا کی مارکیٹ تک رسائی کے لئے پاکستان کو بھی ایسے اقدامات کرنا ہونگے۔

پولٹری انڈسٹری کی ترقی میں ’’پی پی اے‘‘ کے کردار کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روز اوّل سے ہی پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کا کردار بہت اہم رہا ہے اور کمیونٹی کے کسی بھی فرد کو جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوا یا حکومتی سطح پر انڈسٹری کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا تو ایسوسی ایشن نے نہایت مثبت اور فعال کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پی پی اے کے وجود میں آنے کے بعد، پہلے سے موجود لیئر ، برائلر اور کنٹرول ہاؤس والوں کی دیگر ایسوسی ایشنیں بھی پی پی اے میں ضم ہو گئیں اور آج الحمدللہ ساری برادری پولٹری ایسوسی ایشن کی چھتری تلے یکجاں ہو کر صنعت اور معیشت کی ترقی میں کردار ادا کر رہی ہیں، یہاں پر کوئی سیاست نہیں اور تمام قیادت بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے آگے سے آگے لے کر جا رہی ہے، خوش قسمتی سے پولٹری انڈسٹری کو مخلص قیادت میسر آئی ہے جس کے باعث ہماری کامیابیوں کی فہرست بھی بہت طویل ہے اس ایسوسی ایشن کا سب سے بڑا معرکہ ’’پولٹری کا سالانہ میلہ آئی پیکس ہے ۔اس کے علاوہ پولٹری کی سدا بہار شخصیت رضا محمود خورسند کی قیادت میں گزشتہ برس پنجاب حکومت کے تعاون سے پولٹری فوڈ فیسٹیول کا کامیاب انعقاد کیا گیا تھا جو آئندہ برس پھر بھرپور انداز میں منایا جائے گا اس قسم کے ایونٹس کے ذریعے لوگوں کو مرغی اور انڈے کی مزیدار ڈشیں کھانے کو ملتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ پولٹری ایسوسی ایشن کے ماہرین پولٹری مصنوعات سے متعلق لوگوں کو جدید ریسرچ سے آگاہ کرتے ہیں جس سے صارفین میں پائے جانیوالے خدشات بھی دور ہوتے ہیں، پولٹری کی سالانہ نمائش اور فوڈ فیسٹیول جیسے میلے لوگوں میں آگہی پھیلاتے ہیں اور کنزیومر ایجوکیشن کا بہترین ذریعہ ہیں۔

رائے منصب علی کھرل کا کہنا تھا کہ فارمرز کی فلاح و بہبود ہمیشہ ایسوسی ایشن کا نصب العین رہی ہے کیونکہ فارمر کی بقاء میں ہی انڈسٹری کی بقاء ہے، آخر میں فارمرز کیلئے اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ آنیوالے دنوں میں ’’ونٹر ونٹی لیشن‘‘ کا مسئلہ درپیش ہوگا کیونکہ شدید موسم میں مرغیوں کی دیکھ بھال مشکل مرحلہ ہوتاہے فارمرز کو اس قسم کا انتظام کرنا چاہیے کہ مرغیاں سردی سے بھی بچی رہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کیلئے تازہ ہوا کا بھی بندوبست رہے ۔ تاکہ ان کی نگہداشت بہتر طریقہ سے ہو سکے۔

مزید : ایڈیشن 2