آئی ٹی بزنس، معاشی سفارت کاری کا بہترین ہنر

آئی ٹی بزنس، معاشی سفارت کاری کا بہترین ہنر

تعارف :

(آئی ٹی میں پاکستان ٹیکسٹائل اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے دو گنا زیادہ زرمبادلہ کما سکتا ہے: سلیم غوری پاکستانی سوسائٹی کے نئے ہیرو ہیں جنھوں نے کم سرمائے مگر بھرپور حکمت عملی سے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ وہ آج پاکستان کے لاکھوں نوجوانوں، خاص طور پر وہ جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں، کے رول ماڈل ہیں۔ سلیم غوری نے اس بات کو ثابت کر دکھایا ہے کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کہاں بیٹھ کر محنت کرتے ہیں، فرق اس سے پڑتا ہے کہ آپ کتنی محنت کرتے ہیں اور کس انداز سے اس محنت کو اپنی کامیابی میں بدل لیتے ہیں۔ )

پاکستان کے مایہ ناز لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب تک لاہور ان کو تسلیم نہیں کرتا ، دنیا تسلیم نہیں کرتی ۔ سلیم غوری بھی ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جن کو لاہور نے تسلیم کیا، سر آنکھوں پر بٹھایااور پھر دنیا بھر نے ان کو ہاتھوں پر اٹھالیا۔ آج کل سلیم غوری یوں انٹرنیشنل فلائٹس جھولتے پھرتے ہیں جس طرح بچے تین پہیوں والی سائیکل جھولتے پھرتے ہیں۔

سلیم غوری کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو کبھی انڈر اسٹیمیٹ کیا اور نہ کبھی اوور اسٹیمیٹ کیا ہے۔ اس کے برعکس انہوں نے اپنی خامیوں اور کمزوریوں کو مانتے ہوئے ان پر قابو پانے کی سرتوڑ کوشش کی ہے اور اپنے اندر بہتری پیدا کرتے ہوئے آج اپنے رہن سہن کو ایک آئیڈیل شخصیت میں تبدیل کرلیا ہے۔ ان کی آٹو بائیو گرافی ’’غوری‘‘ کے 310صفحات کی ہر سطر نوجوانوں کو کچھ کر گزرنے کی ترغیب دیتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ آج پاکستان کے ہر بڑے بک سٹو ر پر ان کی کتاب Motivatioinal Booksکی شیلف میں سرفہرست سجی نظر آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’میری ساری زندگی کا تجربہ یہ ہے کہ اگر کوئی اچھی نیت، پورے جذبے اور محنت کے ساتھ کام کرے تو ساری کائنات آپ کا ساتھ دیتی ہے۔‘‘

سلیم غوری کا یہ بھی کمال ہے کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ ان کے والد محترم رحمت اللہ غوری نے بہاولپور شہرسے ایک سیلز مین کے طور پر اپنا کیریئر شروع کیا اور محنت کو عادت بناتے ہوئے کراچی ، لاہور اور پوری دنیا میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے ۔ دیکھا جائے تو سلیم غوری اپنے والد محترم کے نقش قدم پر گامزن ہیں ، فرق صرف یہ ہے کہ ان کے پاس اعلیٰ تعلیم ڈگری تھی جس کی بنا پر ان کے لئے دنیا کی بڑی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں میں اپنی شگفتہ، چٹ پٹی مگر حقائق اور دلائل سے بھرپور باتوں کے جوہر دکھائے ہیں اور اپنی کمپنی NetSol Technologiesکے لئے وہ وہ کنٹریکٹ جیتے ہیں کہ جن کو پالینا ایک خواب لگتا ہے۔ سلیم غوری خود اپنے سٹاف کو بار بار کہتے ہیں کہ خواب دیکھو، کامیاب وہی ہوتا ہے جو خواب دیکھتا ہے، اونچے اڑنے کے خواب، کامیابی کے خواب ، کچھ کر دکھانے کے خواب، کچھ کر گزرنے کے خواب، خواب سلیم غوری کی اساس ہیں لیکن ایسا نہیں کہ وہ جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتے ہیں، اس کے برعکس وہ جاگتی آنکھوں سے دنیا کی حقیقت کا سامنا کرتے ہیں اور ان تلخ حقائق کو اپنے خوابوں کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ ان کے اندر صبر، استقامت اور Patienceکا ایسا تال میل ہے جو عام انسان کا خاصہ نہیں ہو سکتا۔ ان کی کامیابی میں ان کی یہی خوبیاں ہراول دستے کا کردار ادا کرتی ہیں۔ سلیم غوری کامیاب ہی نہیں ، کامیاب ترین انسان ہیں۔ پاکستان سلیم غوری کی پہچان ہے مگر سلیم غوری نے پاکستان سے متعارف بھی کروایا ہے۔ ان کی کمپنی نے دنیا کی بہترین کاریں بنانے والی کمپنیوں، بڑے بڑے بینکوں اور فنانشل انسٹی ٹیوشنز سے لیزنگ فنانس کے ایسے معاہدے کئے ہیں کہ یقینی طور پر دنیا کہ یہ بہترین کمپنیاں بھی سوچتی ہوں گی کہ انہوں نے ایک پاکستانی کو کیسے یہ کنٹریکٹ دے دیا ہے۔ یہی نہیں دنیا بھر میں چین کا طوطی بولتا ہے ، جہاں چلے جائیے چینی پراڈکٹس کی بھرمار ہے ، ہر مارکیٹ چین کی مارکیٹ ہے مگر سلیم غوری کی مارکیٹ چین ہے۔ چین جیسے بڑی معاشی قوت کے بڑے بڑے بینک آج سلیم غوری کی آئی ٹی فرم کی بنی ہوئی پراڈکٹس استعمال کر رہے ہیں ، سلیم غوری سے بہتر پاکستان کا سفیر کوئی اور نہیں ہے ۔ ان کی معاشی سفارت کاری کے ہنر کو مانتے ہوئے آسٹریلیا جیسے بڑے ملک نے انہیں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے لئے اپنا آنریری قونصل مقرر کیا ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سلیم غوری نے اپنی جوانی کے دنوں میں آسٹریلیا کو اپنا مسکن بنایا اور پیسہ کمانے کے لئے زیادہ تر جدوجہد ووہیں کی تھی۔

سلیم غوری خالی کامیاب بزنس مین ہی نہیں ہیں ، ایک مشہور آدمی بھی ہیں۔ ان کی باتیں، ان کی تقاریر، ان کے اقوال ہماری یونیورسٹیوں کے طلباء کو زبانی یاد ہیں ، آج پاکستان کی ٹاپ کی یونیورسٹیاں سلیم غوری سے وقت کی خواہش مند رہتی ہیں کہ وہ ان کے طلباء کو لیکچر دیں، زندگی کرنے کا ہنر سکھائیں، کامیابی کے گر بتائیں اور سلیم غوری انتہائی سادہ مگر دلکش زبان سے طلباء سے بات چیت کرتے جاتے ہیں اور ان کے دل میں گھر کرتے جاتے ہیں۔

سلیم غوری کی کمپنی NetSol Technologiesآج امریکہ کی سٹاک ایکسچینج NASDAQپر لسٹڈ ہے۔ امریکی اس کمپنی کے شیئر شوق سے خریدتے ہیں ، یہی نہیں ان کی کمپنی دبئی اور کراچی سٹاک ایکسچینج میں بھی لسٹڈ ہے اور کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہی ہے۔ بھارت ہم سے آئی ٹی کے شعبے میں بہت آگے ہے، پچاس کی دہائی سے وہاں آئی ٹی کی تعلیم دی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود ایک اکیلا سلیم غوری پوری بھارتی آئی ٹی انڈسٹری پر بھاری ہے ، ان کی کمپنی کا بنایا ہوا سافٹ ویئر NetSol Financial Suiteامریکہ، یورپ، مشرق وسطیٰ، چین اور فارایسٹ کے ممالک میں اپنی دھاک بٹھائے ہوئے ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں لیزنگ فنانس کا کام ہوتا ہے وہاں وہاں سلیم غوری کی کمپنی کا برانڈ آپ کو ضرور نظر آئے گا۔

ان سے باتیں کریں تو آپ کو لمحے بھر کو احساس نہیں ہوتا کہ آپ کسی موڈی اور نخرے باز شخص سے باتیں کر رہے ہیں ۔ اس کے برعکس ان کی گفتگو چٹکلوں ، ہلکے پھلکے لطیفوں اور قہقہے لگانے والی باتوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سلیم غوری مصنوعی باتیں نہیں کرتے، اقوال زریں نہیں سناتے، گھڑے گھڑائے لطیفے نہیں دہراتے بلکہ زندگی کی حقیقتوں سے قریب ترین گفتگو کو انتہائی ہلکے پھلکے انداز میں کرتے ہیں۔ ان کی باتیں چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں مگر وہ چھوٹی بات نہیں کرتے، ہمیشہ اپنے مخاطب کو حوصلہ دیتے ہیں ، اسے کامیاب ہونے اور کامیاب رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔

سلیم غوری کا ادارہ پاکستان کے اند چند اداروں میں سے ہے جہاں نوجوانوں کا راج ہے ، آئی ٹی کا بزنس یوں بھی تازہ خون کا متقاضی ہوتا ہے ، اسی لئے سلیم غوری کی کمپنی پاکستان بھر کی آئی ٹی یونیورسٹیوں کے نوجوانوں کی آئیڈیل کمپنی ہے ۔ یہی نہیں بلکہ NetSol Technologiesان چند پاکستانی کمپنیوں میں سے ہے جس میں انگریز، امریکی اور دیگر یورپی ممالک کے لوگ کام کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے سلیم غوری نے نیا پاکستان کب کا بنادیا ہے اور اس خواب کو سچ کردکھایا ہے کہ آ ج پاکستانی کمپنیوں میں انگریز نوکریاں ڈھونڈتے ہیں۔

پاکستان میں آئی ٹی کے مستقبل کے حوالے سے سلیم غوری بہت امید افزا ہیں۔ ان کے نزدیک پاکستان کا مستقبل آئی ٹی سے جڑا ہوا ہے ، وہ پاکستانی نوجوانوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ آئی ٹی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور ایسے پراڈکٹس ایجاد کریں کہ پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن ہو سکے۔

سلیم غوری کی کمپنی کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ یہاں پر ملازمین کو گھر کے افراد سمجھا جاتا ہے ، ان کے لئے دوپہر کے لنچ کا اہتمام کیا جاتا ہے اور کسی سے ایک روپیہ بھی چارج نہیں کیا جاتا۔ اس کے علاوہ نوجوان لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد بھی ان کی کمپنی میں کام کرتی ہیں جن کو گھر سے لانے اور لے جانے کا انتظام کیا ہوا ہے، پھر کمپنی کے ملازمین کے لئے جم اور تفریح کے دیگر سامان بھی مہیا کیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنی صحت کو برقرار رکھتے ہوئے کمپنی کے لئے اور پاکستانی معاشرے کے لئے بہترین کردار ادا کرسکیں۔ خود سلیم غوری ساٹھ کے ہونے ہوں گے مگر ان کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ کوئی چالیس پنتالیس برس کا نوجوان سیڑھیوں پر گھوم رہا ہے، بہترین صحت سلیم غوری کے لئے اللہ کا بہترین انعام ہے ، یہ ایک ایسا عطیہ ہے جس کے لئے وہ خدا کے شکرگزار رہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی نوجوان دنیا کے بہترین جوانوں میں شمار ہوتے ہیں اور مختلف ممالک میں اپنی کامیابیوں، محنت اور شرافت کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ حکومت اگر آئی ٹی انڈسٹری کو ترجیح دے تو پاکستان آئی ٹی کے شعبے میں برآمدات کو بڑھا کر ٹیکسٹائل اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے دو گنا زیادہ زرمبادلہ کما سکتا ہے ۔

مزید : ایڈیشن 2