محبوبہ مفتی کی حریت رہنماؤں کو کل جماعتی پارلیمانی وفد کے ساتھ مذاکرات کی دعوت

محبوبہ مفتی کی حریت رہنماؤں کو کل جماعتی پارلیمانی وفد کے ساتھ مذاکرات کی ...

سری نگر ( اے این این ) مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے حریت رہنماؤں کو ریاست کے دورے پر آنے والے کل جماعتی پارلیمانی وفد کے ساتھ مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہاہے کہ وادی کی موجودہ صورتحال انتہائی مخدوش ہے اور ہم سب نے مل کر اس کا حل تلاش کرنا ہے ٗ بامعنی بات چیت سے جمود توڑنے اور مذاکراتی عمل بحال کرنے میں مدد ملے گی ٗ ہمیں پارٹی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر کشمیریوں کے بارے میں سوچنا ہوگا ٗ ہم سب ریاستی عوام کی خواہشات اور امنگوں کے ترجمان ہیں ۔ سینئر حریت رہنماؤں کے نام لکھے گئے ایک کھلے خط میں محبوبہ مفتی نے تحریک حریت، حریت کانفرنس، حریت کانفرنس جموں اینڈ کشمیر، جے کے ایل ایف، نیشنل فرنٹ ، جماعت اسلامی بشمول سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق، محمد یٰسین ملک، پروفیسر عبدالغنی بٹ، مولوی عباس انصاری، شبیر احمد شاہ، بلال غنی لون، آغا حسن، نعیم احمد خان ، امیر جمعیت اہلحدیث جموں وکشمیر اور دیگران تک پہنچ کر ریاست جموں وکشمیر کے پر امن حل کے لئے ان کا رول اور تعاون طلب کیا۔

مزاحمتی و مذہبی لیڈران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم وادی کی موجودہ صورتحال سے سخت تشویش میں ہیں۔اس بات سے قطع نظر کہ آپ اور میرے بالکل الگ الگ سیاسی نظریات ہیں، مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ ہم سب کے دماغ میں ریاستی عوام کے بہترین مفادات ہیں،یہ صحیح ہے کہ ہماری سیاست اور پروگرام ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں لیکن عوام اور سماج کے لئے بالعموم اور ہمارے نوجوانوں کے مفادات کے لئے ہم بالخصوص تشویش میں ہیں،اس لئے میں جموں وکشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر کی حیثیت سے مخاطب ہوکر آپ سے گذارش کرتی ہوں کہ ریاست کے دورے پر آنے والے کل جماعتی پارلیمانی وفد کے ساتھ بات کرنے کے لئے آگے آئیں۔اس سے جمود کو توڑنے اور بامعنی سیاسی مذاکرات اور بحالی کے عمل کو شروع کرنے میں مدد ملے گی۔خط میں محبوبہ مفتی نے مزید لکھا ہے کہ پارٹی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر ملک کی سیاسی قیادت آگے آئی ہے اور اسے اعتقاد دینا ہمارے ہاتھ میں ہے،ہم سب چاہے مین سٹریم سیاسی جماعتیں ہوں یا علیحدہ ایجنڈا رکھنے والی سیاسی جماعتیں ہوں، ریاستی عوام کی خواہشات اور امنگوں کی ترجمان ہیں ۔ ہم سب مسائل کا حل اپنے اپنے نظریات سے دیکھتے ہیں۔محبوبہ مزید رقمطراز ہیں میری پارٹی نے ہمیشہ اس بات پر یقین رکھا ہے کہ حریت کانفرنس ریاست کے امن اور ترقی کے لئے شراکت دار ہے۔درحقیقت ہماری پارٹی کے بنیادی اقرار نامے میں تمام شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کو واحد راستہ قرار دیا گیا ہے،جب ہم نے کانگریس پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا ہمارے کم سے کم مشترکہ پروگرام کا بنیادی جز تمام نظریات سے تعلق رکھنے والی پارٹیوں سے بات چیت کرنا تھا۔اس کو بعد میں اس وقت کے وزیر اعظم شری اٹل بہاری واجپائی اور نائب وزیر اعظم شری ایل کے اڈوانی کی قیادت میں بلا شرط بات چیت کے ذریعے آگے بڑھایا گیا،حالیہ پارلیمانی انتخاب میں ہمارے پارٹی منشور میں بالکل واضح کیا گیا تھا کہ پی ڈی پی مسئلہ کے حل کے لئے حریت کانفرنس کو اعتماد میں لے گی۔اسے اسمبلی انتخابات کے دوران پارٹی منشور میں دہرایا گیا۔ انہوں نے لکھا کہ درحقیقت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ طے پائے گئے ایجنڈا آف الائنس میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ ریاستی سرکار تمام مسائل کے حل کے لئے موافق ماحول قائم کرکے تمام متعلقین بشمول ریاست کی سیاسی جماعتوں بلا لحاظ سیاسی وابستگیوں، بامعنی اور نتیجہ خیز بات چیت شروع کرنے میں مدد کرے گی تاکہ جموں وکشمیر کو درپیش تمام مسائل کا متفقہ طور پر جامع حل نکالا جاسکے،جموں وکشمیر کو ترقی اور امن کا گہوارہ بنانے کا ہمارے عزم اور اعتماد کو دوام بخشنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے خیالات اور تاثرات اس پارلیمانی وفد کے ساتھ بانٹیں جو نہ صرف حکومت ہند بلکہ ملک کے عوام کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔خط کے آخر میں وہ لکھتی ہیں مجھے پوری امید ہے کہ آپ میری اس رائے پر ضرور دھیان دیں گے اور اپنا وقت اور اپنی مناسبت کی جگہ چن کر اس وفد کے ساتھ تبادلہ خیال کر کے اپنے خیالات بانٹیں گے۔

مزید : عالمی منظر