جائیداد کی خرید و فروخت سے قبل واسا کا این او سی لازمی قرار ،رجسٹریشن برانچوں میں ریکوری ڈیسک قائم ہونگے

جائیداد کی خرید و فروخت سے قبل واسا کا این او سی لازمی قرار ،رجسٹریشن برانچوں ...

لاہور(جاوید اقبال)واسا نے اڑھائی ارب کے نا دہندگان سے ریکوری کے لئے نیا شکنجہ تیار کر لیا ہے ۔ واسا سے واجبات کی کلیئرنس کا این او سی جمع کروائے بغیر جائیداد کی رجسٹری اور انتقال نہیں ہو گا ۔اس کے لئے ایم ڈی واسا چوہدری نصیر کی ہدایت پر ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن رانا ٹکا خان نے ایل ڈی اے ون ونڈو میں بھی واسا کا ڈیسک قائم کر دیا ہے جس پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر عہدہ کے افسر کو تعینات کر دیا گیا ہے ۔دریں اثنا ء ڈی سی او آفس سمیت 9ٹاؤنوں کی رجسٹری برانچوں میں واسا ریکوری ڈیسک بھی قائم کئے جائیں گے جس کے لئے ڈائریکٹر ایڈمن نے ایم ڈی کی منظوری کے بعد ڈی سی او کو مراسلہ روانہ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ واسا اپنے واجبات کی وصولی کے لئے ای ڈی او ریونیو سمیت تحصیلوں اور ٹاؤنوں کی رجسٹری برانچوں میں ریکوری ڈیسک قائم کرنا چاہتا ہے جس کا مقصد ایسی جائیدادیں جو واسا کی نا دہندہ ہیں ان کی رجسٹری اس وقت تک پاس نہ کی جائے اور نہ ہی جائیداد کی منتقلی کا حکم جاری کیا جائے جب تک کسی جائیداد کا مالک واسا سے کلیرنس سرٹیفکیٹ اپنے کاغذا ت کے ساتھ نہیں لگاتا ۔ تجرباتی طور پر ایل ڈٰ اے ون ونڈو میں ایک واسا ریکوری ڈیسک میں گریڈ 17کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو انچارج لگایا گیا ہے ۔اس سلسلے میں ڈی جی ایل ڈی اے سے منظوری بھی حاصل کی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں واسا کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن رانا ٹکا خان کا کہنا ہے کہ شہر کے تمام ٹاؤنوں کی رجسٹری برانچوں ،سب رجسٹرار کے دفاتر اور ای ڈی او ریونیو کے دفتر میں بھی واسا اپنے ریکوری ڈیسک قائم کر رہا ہے جس کے لئے ایم ڈی واسا نصیر چودھری نے منظوری دے دی ہے اور ڈی سی او لاہور کو مراسلہ بھجوایا جا دیا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1