احتساب کا دائرہ بڑھانے پر اختیارات کم کرنے کی کوشش ہوئی، جنرل (ر) حامد

احتساب کا دائرہ بڑھانے پر اختیارات کم کرنے کی کوشش ہوئی، جنرل (ر) حامد

اسلام آباد(اے پی پی) خیبرپختونخوا احتساب کمیشن کے مستعفی ہونے والے ڈی جی جنرل (ر) حامد نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کو بدعنوانی سے پاک کرنا ایک خواب تھا تاہم احتساب کمیشن کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جب وزیراعلی اور وزیروں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو پھر احتساب ایکٹ میں ترمیم کر کے ڈی جی کے اختیارات میں کمی کی کوشش کی گئی، مالاکنڈ موٹروے میں بھی بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ وہ اتوار کو یہاں تحریک انصاف بانی گروپ کے زیر اہتمام مشاورتی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے چارج سنبھالا تو اس وقت خیبرپختوانخوا کو بدعنوانی سے پاک کرنا ہمارا خواب تھا تاہم پہلے تین ماہ احتساب کمیشن کو بجٹ ہی نہیں دیا گیا جو قوانین احتساب کمیشن کیلئے بنائے گئے وہ بھی متاثر کن نہیں تھے، احتساب عدالتیں تشکیل نہیں دی گئیں جب میں نے عہدہ چھوڑا تو اسوقت 22 ریفرنسز احتساب کورٹ میں بھجوا چکے تھے۔ پی ایم اے سے نکالے گئے ایک سیکرٹری کو صوبہ میں 21ویں گریڈ میں بھرتی کیا گیا، ہم نے جب احتساب کا دائرہ وزیراعلی اور صوبائی وزراء تک پھیلایا تو پھر احتساب ایکٹ میں ترمیم کر کے ڈی جی کے اختیارات میں کمی کرنے کی کوشش کی گئی۔ احتساب کمشنروں نے خطوط لکھے کہ حکومتوں نے احتساب ایکٹ میں ترامیم کر کے ہمیں بے اختیار کر دیا ہے، اس سے احتساب کے عمل کو نقصان اور پی ٹی آئی کی ساکھ متاثر ہوئی۔ اس موقع پر ایڈمرل جاوید نے کہا کہ جہانگیر ترین ، علیم خان اور پرویز خٹک کو وجیہہ الدین احمد نے پارٹی سے نکالنے کی سفارش کی تھی مگر خود انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا۔ ڈاکٹر حفیظ قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگوں کے نام بھی اب کرپشن میں آ گئے ہیں، ان کرپٹ لوگوں کیلئے 2018ء کے انتخابی میدان کھلا نہیں چھوڑیں گے، آپریشن ہونے پر وزیراعلی بھی کرپشن میں پکڑا جائے گا۔ سید مظہر ایڈووکیٹ نے کہا کہ وزیراعلی اور سپیکر صوبائی اسمبلی کی جانب سے قومی اسمبلی کی نشستیں خالی کرنے پر اپنے عزیزوں کو منتخب کرانا پہلی ناانصافی تھی جبکہ پیسے والے عوامی جمہوری اتحاد صوابی کے رہنما کو سینٹ میں ٹکٹ دینا دوسری ناانصافی تھی، تحریک انصاف اب تاریک انصاف بن چکی ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل آفس میں اپنی پسند کی تقرریوں کیلئے اس کے قوانین میں تبدیلی کی گئی، اپنے وژن اور منشور پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے ہم ہری پور ، ایبٹ آباد سمیت صوبہ میں کئی ضمنی اور بلدیاتی انتخابات ہارے۔ ایک رکن اسمبلی نے عمران خان کے سامنے انکشاف کیا کہ انہوں نے رشوت نہ دینے کا عہد کیا تھا تاہم کسی کام کے سلسلہ میں انہیں صوبہ میں یہ عہد توڑنا پڑا کیونکہ وہاں رشوت کے بغیر کام ممکن نہیں تھا۔

جنرل (ر) حامد

مزید : صفحہ اول