جی 20 کانفرنس، برطانوی وفد کو دلچسپ ہدایات جاری

جی 20 کانفرنس، برطانوی وفد کو دلچسپ ہدایات جاری

لندن (خصوصی رپورٹ )چین میں جی 20 سربراہی کانفرنس کا آغاز ہوگیا جس میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے عالمی رہنما ہینگ ڑو پہنچ گئے ہیں جن میں برطانوی حکام بھی شامل ہیں۔برطانوی روزنامے ٹیلیگراف کے مطابق برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کے وفد میں شامل افراد کو سخت سیکیورٹی وارننگ جاری کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ چینی ایجنٹس اور ہیکرز اس موقع کو برطانوی حکومت کے راز چرانے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔رپورٹ میں دلچسپ انکشاف کرتے ہوئے بتایا گیا کہ حکام کو خبردار کیا گیا ہے کہ ان کے ہوٹل کے کمرے بھی جاسوسی کی زد میں آسکتے ہیں۔ایک سرکاری عہدیدار نے ٹیلیگراف کو بتایا " ہمیں آگاہ کیا گیا ہے کہ اگر آپ کو خطرہ ہو کہ لوگ آپ کو برہنہ نہ دیکھ لیں تو اپنے کپڑے بھی بستر کی چادر کے اندر بدلیں"۔برطانوی حکام کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ عارضی فونز اور ای میلز اکاؤنٹس استعمال کریں، تاکہ ممکنہ ہیکنگ سے بچا جاسکے جبکہ کسی سے بھی کوئی تحفہ نہ لیں خاص طور پر الیکٹرونک مصنوعات جیسے یو ایس بی یا فون چارجرز وغیرہ۔اس سال جی 20 سربراہی کانفرنس کے لیے چین کی جانب سے انتہائی سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں جس کے لیے ہینگ ڑو کے متعدد رہائشیوں کو بھی شہر سے باہر بھیج دیا گیا ہے، جس کے لیے حکام نے انہیں اضافی چھٹیاں اور مفت سفری واؤچرز دیئے ہیں۔سیکیورٹی انتطامات اتنے سخت ہیں کہ امریکا کی قومی سلامتی کی مشیر سوزان رائس اور وائٹ ہا?س کے پریس اہلکاروں کو بھی ہینگ ڑو ائیرپورٹ پر ضوابط سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا گیا۔ب چینی سیکیورٹی اہلکاروں میں سے ایک نے وائٹ ہاؤس کے اسٹاف پر چیخنا شروع کیا اور امریکی پریس کو وہاں سے ہٹنے کا مطالبہ کیا جس پر اسٹاف میں شامل ایک خاتون نے کہا کہ یہ امریکی جہاز اور امریکی صدر ہیں۔چینی سیکیورٹی اہلکار نے امریکی خاتون کو انگریزی زبان میں للکارتے ہوئے کہا کہ 'یہ ہمارا ملک ہے، یہ ہمارا ائرپورٹ ہے'۔

مزید : صفحہ آخر