پاکستان کیخلاف سازش کرنیوالے مٹھی بھر علیحدگی پسندوں کیخلاف ہماری کھلی جنگ ہے :نواب ثناء اللہ زہری

پاکستان کیخلاف سازش کرنیوالے مٹھی بھر علیحدگی پسندوں کیخلاف ہماری کھلی جنگ ...
پاکستان کیخلاف سازش کرنیوالے مٹھی بھر علیحدگی پسندوں کیخلاف ہماری کھلی جنگ ہے :نواب ثناء اللہ زہری

  


’’پاکستان نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے، ہم نے ان مٹھی بھر انتہا پسندوں اور علیحدگی پسندوں کے خلاف کھلی جنگ شروع کر دی ہے جو اپاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، انہیں ہمارے دشمنوں کی جانب سے فنڈ مل رہے ہیں لیکن وہ بھاگ رہے ہیں اور انہیں پوری طرح شکست ہوگی، بلوچستان میں ان عناصر کے لئے کوئی جگہ نہیں جو پاکستان کی سالمیت کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ ان جذبات و احساسات کا اظہار بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے اپنے سیکرٹریٹ میں منتخب سینئر صحافیوں اور میڈیا پرسنز کے ساتھ اتوار کے روز بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان انوارالحق کاکڑ بھی اس بات چیت میں موجود تھے، بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ پورے بلوچستان میں لوگ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ اشتعال انگیز بیانات کے خلاف باہر نکل آئے ہیں ’’آخر کسی جگہ مودی کی اشتعال انگیزی کی حمایت میں دس لوگ بھی کیوں جمع نہیں ہوئے‘‘؟ انہوں نے کہا اس کی وجہ بہت سادہ ہے، نام نہاد علیحدگی پسند عناصر کو عوام کی قطعی کوئی حمایت حاصل نہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے صوبے کے امن و امان کی صورت حال کو تسلی بخش قرار دیا، ’’کوئٹہ کے حالیہ افسوسناک واقعہ کے سوا جس میں سینئر وکلاء کی ایک بڑی تعداد شہید ہوگئی۔ سیکیورٹی فورسز کے شرپسندوں کے خلاف کامیاب آپریشن کی وجہ سے بلوچستان میں کافی عرصے سے مقابلتاً امن ہے۔ ’’بعض آپریشنوں میں، میں خود بھی اخلاقی حمایت دینے کے لئے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تھا۔‘‘

وزیراعلیٰ بلوچستان نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان کی حکومت مختلف عالمی فورموں بشمول اقوام متحدہ میں پارلیمانی وفود بھیج رہی ہے‘‘ یہ عالمی تنظیمیں ہر وقت جمہوریت کی باتیں کرتی رہتی ہیں۔ پارلیمینٹیرین بلوچ عوام کے صحیح نمائندے ہیں اور جب وہ ان فورموں پر بات کرتے ہیں تو ان کی بات میں وزن ہوتا ہے‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو کھلا خط لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں وہ دنیا کو بتائیں گے کہ ان شرپسندوں نے بلوچستان میں عوام کے ساتھ کیا کیا زیادتیاں روا رکھیں۔ ’’جب کوئی کسی سیکیورٹی آپریشن میں مارا جاتا ہے تو شور مچا دیا جاتا ہے لیکن کوئی پاکستان کے عوام کے متعلق بات نہیں کرتا جنہیں دہشت گردانہ حملوں میں بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اس سلسلے میں دہرے معیار تو نہیں ہونے چاہئیں تاہم وزیراعلیٰ نے تسلیم کیا کہ مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ اب بھی ایک چیلنج ہے۔ ’’یہ جنگ اس وقت تک نہیں رکنی چاہئے جب تک ایسے تمام عناصر ختم نہیں ہو جاتے، یہ پاکستان کے دل اور روح کی جنگ ہے اور ضرورت ہے کہ اس جنگ کو کامیابی کے ساتھ تکمیل تک پہنچایا جائے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان کی حکومت اور سیکیورٹی فورسز ایک ہی صفحے پر ہیں اور دونوں کے درمیان اچھی ورکنگ ریلیشن شپ اور رابطہ کار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچ نوجوانوں نے حالیہ برسوں میں فوج میں شمولیت کے لئے زبردست جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا ہے اور اس وقت فوج میں 21000 نوجوان بھرتی ہوکر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گمشدہ افرد کا مسئلہ غیر معمولی طور پر اٹھایا جا رہا ہے ’’میری سات ماہ کی وزارت علیا میں ایک بھی شخص غائب نہیں ہوا، اس سلسلے میں جو فہرستیں گردش کرتی رہتی ہیں، وہ زیادہ تر جعلی ہیں۔ ایسے گمشدہ افراد کی تعداد 50 سے زیادہ نہیں ہے اور ان میں سے بھی اکثر سرحد پار بیٹھے ہوئے ہیں۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب پاک چین اقتصادی راہداری تکمیل پذیر ہو جائیگی تو بلوچستان کو اربوں روپے کے فوائد حاصل ہوں گے۔

گوادر آبنائے ہرمز کے عین دہانے پر واقع ہے اور یہ افریقہ کے ساتھ تجارت کے لئے بہترین اور پسندیدہ بندرگاہ شمار ہوگی اور چینی درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو گوادر کی شکل میں بہترین تجارتی راستہ میسر آئیگا۔ بعض غیر ملکی طاقتیں سی پیک کی تعمیر کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں، لیکن حکومت اور مسلح افواج نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کے لئے انتہائی تزویراتی اور مالی اہمیت کے حامل اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لئے پوری طرح پرعزم ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان منصوبوں سے ملازمت اور روزگار کے وافر وسائل پیدا ہوں گے اور مقامی آبادی کو اس سلسلے میں ترجیح دی جائیگی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان حکومت نے اگلے برس مردم شماری کا فیصلہ کیا ہے ’’تاخیر کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس مقصد کے لئے فوجی افرادی قوت دستیاب نہیں، یہ ہماری سوچی سمجھی رائے ہے کہ ایک لائق اعتبار مردم شماری کے لئے مسلح افواج کی مدد کی ضرورت ہے۔‘‘

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت گڈگورننس کے لئے اپنی پوری کوششیں کر رہی ہے اور اقتصادی سرگرمیوں کے لئے بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کرنا چاہتی ہے ’’ہم نے کرپشن کے عفریت پر قابو پالیا ہے، آنے والے دنوں میں نیب بلوچستان کی حکومت کو تقریباً ڈھائی ارب روپے کا چیک دے گی۔ یہ رقم کرپشن کے خلاف مہم کے نتیجے میں جمع ہوئی ہے، اس رقم سے ہم کوئتہ میں سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

عمران خان اور طاہر القادری کی جانب سے درپیش سیاسی چیلنج پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ ’’بلوچستان بلکہ پنجاب میں بھی ان کی آواز پر کسی نے کان نہیں دھرا، میں دیکھ رہا ہوں کہ بہت کم لوگوں نے حالیہ ریلیوں میں شرکت کی ہے، انہوں نے کہا کہ آپ میری یہ بات لکھ رکھیں کہ اگلے الیکشن میں عمران خان کو پچھلے الیکشن کی نسبت کم نشستیں ملیں گی۔

مزید : کراچی صفحہ اول