ابتدائی و ثانوی تعلیم کیلئے موجودہ مالی سال میں 100ارب سے زائد رقم مختص

ابتدائی و ثانوی تعلیم کیلئے موجودہ مالی سال میں 100ارب سے زائد رقم مختص

پشاور(پاکستان نیوز)حکومت خیبرپختونخوا نے ابتدائی وثانوی تعلیم کے لئے موجودہ مالی سال میں 100 ارب سے زائد بجٹ مختص کی ہے جس کے ذریعے صوبے کے تمام سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہورہی ہے ۔تین سالہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کے بعدتعلیمی اصلاحات کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے جن کے ذریعے صوبے کے ہر بچے کو جدید اورمعیاری تعلیم کی فراہمی ممکن ہورہی ہے ۔صوبے کے دوردراز اورپسماندہ حصوں میں لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی اورفروغ کے لئے کمیونٹی سکول کا قیام عمل میں لایا گیا۔ سال 2013-16 تک کے عرصے میں 1,251 کمیونٹی سکول قائم کئے گئے جن میں 4320 طالبات زیر تعلیم ہیں۔گذشتہ ادوارمیں صوبے میں بچیوں کی تعلیم تک رسائی کافی حد تک ناممکن تھی،سال 2010-13 تک صرف 196کمیونٹی سکول قائم کئے گئے تھے جن میں 13651 بچیاں تعلیم حاصل کررہی تھیں جبکہ موجودہ حکومت میں محکمہ ابتدائی وثانوی تعلیم میں 12.5 ارب روپے کی لاگت سے 4 کروڑ 50 لاکھ کتابیں طالبعلموں میں مفت تقسیم کی گئیں اس کے علاوہ 2014-16تک 443,204 بچیوں میں 2.37 ارب روپے کی تعلیمی وظائف بھی تقسیم کیے گئے ۔ صوبے میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت 585 طلباء میں26 کروڑ روپے کے سکالرشپ گذشتہ تین سالوں میں تقسیم کئے گئے جبکہ سال 2015-16 میں 13858 غریب طلباء میں 33 کروڑ 60 لاکھ روپے کے کیش ووچرز بھی تقسیم کئے گئے،جدید اورمعیاری تعلیم کے فروغ کے لئے گذشتہ تین سالوں میں 670 آئی ٹی لیبارٹریز کاقیام بھی عمل میں لایاگیا ۔ اساتذہ کی کارکردگی بہتر بنانے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لئے 5 کروڑ 50 لاکھ مالیت کے انعامات اساتذہ میں کارکردگی کی بنیادپر تقسیم کئے گئے اس کے علاوہ 8 کروڑ 90 لاکھ روپے کے مالیت سے خرید ے گئے 2527 آئی ٹی ٹیبلیٹ بھی اساتذہ میں کارکردگی کی بنیاد پر تقسیم کئے گئے ۔سال 2014-15 میں بہترین کارکردگی کی بنیاد پر 960 اساتذہ میں 5 کروڑ 50 لاکھ مالیت کے نقد انعامات بھی تقسیم کئے گئے ،کارکردگی کامعیار اندراج میں اضافہ ،ایس ایس سی امتحانات میں بہتر نتائج اورزیادہ شرکت اوراساتذہ اور طلباء کی حاضری پرمبنی ہے ۔ اساتذہ کی صلاحیت کوبہتر بنانے کے لئے سال 2013 سے اب تک 66905 اساتذہ کوتربیت دی جاچکی ہیں جس پر تقریباً 80 کروڑروپے خرچ کئے جاچکے ہیں۔اسی طرح والدین اوراساتذہ کونسل کے فروغ اورتربیت کے لئے 1.6 ارب روپے خرچ کئے جاچکے ہیں جس میں 157 ہزارپیرنٹ ٹیچر کونسل کو تربیت فراہم کی گئی ۔پیرنٹ ٹیچر کونسل کامقصد تعلیم کی شرح میں اضافہ اورزیادہ سے زیاد ہ ولدین کوان کے بچوں کی تعلیم میں شامل کرناہے،یہ کونسل پانچ والدین ،ایک سینئر سکول ٹیچر اورایک ریٹائرڈ سرکاری افسرپرمبنی ہے۔ اساتذہ کی بھرتیوں میں سفارشات کو ختم کرنے کے لئے موجودہ حکومت نے نئی پالیسی اختیار کی ہے جس میں تمام بھرتیاں این ٹی ایس کے ذریعے کی جائیں گی۔ جون 2013 سے اب تک 25 ہزار اساتذہ کواین ٹی ایس کے ذریعے بھرتی کیا گیا۔ ان اقدامات کے علاوہ شعبہ تعلیم کو منظم بنانے کے لئے موجودہ حکومت نے آزاد مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا ہے جس کے ذریعے اساتذہ کی کارکردگی کاجائزہ لیاجارہا ہے ،تاحال 300 اساتذہ کو غیر حاضری کی بنیاد پر فارغ کیاجاچکاہے ۔اسی طرح 7500 اساتذہ کے خلاف مختلف وجوہات کی بنا ء پرانکوائریاں شروع ہیں۔جبکہ بائیومیٹرک حاضری سسٹم محکمہ تعلیم کے تمام 76 دفاتر میں نصب کیا گیا ہے اور اس سسٹم کو 480ہائرسیکنڈری سکولوں میں بھی نصب کیا جا چکا ہے ۔ تعلیمی اداروں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے نئی پالیسی کے تحت تمام پرائمری سکولوں میں تین کی بجائے چھ کمرے ہونگے، نئی پالیسی کے تحت 2لاکھ طلبہ کھلی فضاکی بجائے بہترین کمروں میں تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ اسی طرح سکولوں کے لئے فرنیچر کی خریداری پر 2013 سے اب تک 12.13 ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں جس میں پانچ ہزار سکولوں کو فرنیچر فراہم کیا گیا ہے۔محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق4لاکھ30ہزار طلبہ فلور میٹس کی بجائے کرسیوں پر بیٹھ سکیں گے۔مندرجہ بالا منصوبوں کے علاوہ صوبائی حکومت نے صوبہ بھر کے سکولوں میں2583 پلے ایریاز قائم کئے جبکہ 2013سے اب تک صوبے کے سکولوں میں 141 سپورٹس کے میدان بھی قائم کئے جا چکے ہیں اور پانچ ہزار سکولوں میں50کروڑ رپے کی لاگت سے خریدی گئی سپورٹس کٹس بھی فراہم کی جا چکی ہیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول