8افراد ٹریفک حادثات کی نزر 2خواتین نے خودکشی کرلی

8افراد ٹریفک حادثات کی نزر 2خواتین نے خودکشی کرلی

 ملتان، وہاڑی،مظفر گڑھ، سکندرآباد، رحیمیار خان، صادق آباد، ماچھی گوٹھ، ہیڈ راجکاں(وقائع نگار+ نمائندگان) ٹریفک کے مختلف حادثات میں 8افراد جاں بحق ہوگئے‘ گھریلو جھگڑوں سے دلبرداشتہ 2خواتین نے خودکشی کرلی تفصیل کیطابق مخدوم رشید کے علاقے بستی گلزار پور کے رہائشی ریاض کی 23سالہ بیوی فوزیہ نے گھریلو حالات اور جھگڑے تنگ آکر کالا پتھر پی لیا ، متاثرہ خاتون کو تشویش ناک حالت میں نشتر ہسپتال داخل کروا دیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئی فوزیہ بی بی کے والد محمد جیون نے الزام لگایا کہ(بقیہ نمبر58صفحہ12پر )

اسکی بیٹی فوزیہ کو خاوند ریاض اور اس کے بھائی نواز اور بہن شمو نے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر کالا پتھر پلایا ہے جس سے اسکی موت واقع ہوئی مخدوم رشید پولیس نے پوسٹمارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کرکے ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی وہاڑی سے بیورو رپورٹ+نما ئندہ خصوصی کیمطابق حریفاں بی بی نامی سکنہ وکلاء کالونی روڈ کراس کررہی تھی کہ نا معلوم تیزرفتار کارنے ٹکر مار دی جس پر شد ید زخمی ہونے پر ہسپتال شفٹ کردیا ، جہا ں پر چند گھنٹوں بعد جاں بحق ہو گئی دوسر ے حادثہ میں ڈسٹرکٹ جیل وہاڑی کا اہلکار رانا وسیم سکنہ نوگیارہ ڈبلیوبی اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ملتان روڈ کار پر جا رہا تھا کہ کا ر بے قابو ہو کر بجلی کے پول سے جا ٹکرائی جس پر رانا وسیم جا ں بحق ہو گیا جبکہ اسکے تینوں ساتھی شدید زخمی ہو گئے جس پر زخمیوں کو مقامی ہسپتال میں شفٹ کردیا گیا مظفرگڑھ سے نامہ نگار کیمطابق موٹرسائیکل ٹرالر کے نیچے کراسینگ کے دوران آگیا ۔جس کے نتیجہ میں مواضع مونڈکا رہائشی دبئی پلٹ محمد اسلم ٹرالر کت نیچے آکر جاں بحق ہوگیا جبکہ اس کی بیوی موجزانہ طور پر بچ گئی۔سکندر آباد سے نمائندہ پاکستان کیمطابق کی معروف اہم شخصیت محمد عباس سیالوی کا جواں سالہ بیٹا اور چار بہنوں کا اکلوتا بھائی مظہر عبا س سیالوی موٹرسائیکل پر سسرال جا رہا تھا سامنے سے آنے والے ون ٹو فائیو نے ٹکر دے ماری جس سے مظہر عباس مو قع پر جاں بحق ہو گیاجبکہ سکندرآباد کا رہائشی محمد عاقب شدید زخمی ہونے پر نشتر ہسپتال داخل جہاں اُس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔دریں اثناء گزشتہ روز اللہ وسائی زوجہ غلام حسین سکنہ موضع رکن ہٹی اپنے خاوند کے ساتھ شجاع آباد جارہی تھی بامقام ٹائلی والاتیز رفتار ٹرالی سے موٹرسائیکل کاایکسڈنٹ ہو گیا گس میں اللہ وسائی کو شدید چوٹیں لگیں جس سول ہسپتال پہنچایا گیا ہسپتال میں ڈاکٹر موجود نہ تھا پندرہ منٹ کے بعد ڈاکٹرہسپتال میں اگیا اس نے مضروب مر یضہ کو چیک کرتے ہو ئے لیڈی ڈاکٹر اور نرس کو بلایا مگر انہوں نے آنے سے انکار کر دیا ایک گھنٹہ مضروب تڑپتی رہی آخر کار ہسپتال کے عملہ کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے اللہ وسائی تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔صادق آباد، ماچھی گوٹھ سے بیورونیوز+ تحصیل رپورٹر+نمائندہ پاکستان کیمطابق سنجر پور کارہائشی نوجوان صحافی شہزاد احمد جوکہ گزشتہ شب اپنے گھر جارہا تھا کہ سنجر پور بائی پاس کے نزدیک ا س نے سڑک کراس کرنے کی کوشش کی جسے لاہور سے کراچی جانے والے بے قابو ٹرالر نے کچل ڈالا جو زخموں کی تاب نہ لاتے موقع پر ہی دم توڑگیا جبکہ نامعلوم ٹرالر ڈرائیور ٹرالر موقع پر چھوڑکر فرارہوگیا جسے پولیس نے قبضہ میں لے کر فرارہونے والے ڈرائیور کی تلاش شروع کردی جبکہ نوجوان صحافی شہزاد احمد کو آہوں اور سسکیوں میں سپردخاک کردیا گیا ۔ موضع کنڈیرکارہائشی چالیس سالہ غلام علی موٹرسائیکل پررشتہ داروں کے گھرسے واپس جارہاتھاکہ راستے میں اسے تیزرفتارکارنے بے قابوہوکرکچل دیا جس سے وہ شدیدزخمی ہوگیاجسے طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیاگیاجہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑگیاہسپتال انتظامیہ نے کارروائی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردی۔آئے روزکے گھریلوجھگڑوں سے دلبرداشتہ ہوکرراجن پور کی رہائشی تیس سالہ سمعیہ مائی نے گھرمیں موجودزہریلاسپرے بھاری مقدارمیں پی لیاجس سے اس پرغشی طاری ہوگئی جسے معلوم ہونے پرورثاء نے تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیاجہاں وہ جسم میں زہرپھیل جانے کے باعث جانبرنہ ہوسکی اوردم توڑگئی ہسپتال انتظامیہ نے کارروائی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردی۔ ٹیل والا کے نواحی گاؤں 117ڈی بی (بستی جدید ) کا رہائشی محمد حسین شاہ جو ٹیل والا میں جنرل سٹورپر کام کرتا تھا، گزشتہ روز وہ اپنی موٹر سائیکل پر ملتان جنرل سٹور کا سامان لینے جارہا تھا جب وہ لودھراں کے قریب پہنچا تو سامنے سے آنے والی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گیا، زخمی حالت میں اسے لودھراں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے اسے فوری طور پر وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور ریفر کر دیا،جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ متوفی 3بچوں کا باپ تھا ، متوفی کو رات گئے آہوں اور سسیکیوں کے ماحول میں مقامی قبرستان میں دفن کر دیا گیا ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر