ڈاکٹر عارف علوی۔۔۔تیرہویں صدر

ڈاکٹر عارف علوی۔۔۔تیرہویں صدر

تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی پاکستان کے تیرہویں صدر منتخب ہو گئے ہیں،اُنہیں توقع کے مطابق 353ووٹ ملے،اُن کے مدمقابل اپوزیشن جماعتوں کے امیدواروں مولانا فضل الرحمن اور بیرسٹر چودھری اعتزاز احسن کو بھی اتنے ہی ووٹ ملنے کی امید تھی،مولانا فضل الرحمن نے185 اور چودھری اعتزاز احسن نے124 ووٹ لئے۔ اگر دونوں میں سے ایک امیدوار دستبردار ہو جاتا اور اپوزیشن کا ووٹ تقسیم نہ ہوتا تو ووٹوں کی تعداد ضرور بڑھ جاتی،تاہم اِس صورت میں بھی کامیابی ڈاکٹر عارف علوی کی یقینی تھی، کیونکہ اب بھی دونوں کے ووٹ جمع کریں تو عارف علوی سے بہت کم ہیں،نومنتخب صدر9ستمبر کو حلف اٹھائیں گے،موجودہ صدر ممنون حسین کے عہدے کی معیاد8ستمبر کو ختم ہو رہی ہے۔

پاکستان میں اب تک جو نظام رائج رہے ہیں معروف معنوں میں ایک پارلیمانی تھا اور دوسرا صدارتی، لیکن اِس دوران ہم نے ملے جُلے نظام کا تجربہ بھی کیا ہے اور یہ تجربہ دو فوجی صدور جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے عہد میں کیا گیا۔اوّل الذکر صدر نے وزیراعظم بھٹو کا تختہ اُلٹ کر اقتدار سنبھالا تھا، طویل عرصے تک مُلک میں مارشل لا نافذ رہا،85ء میں غیر جماعتی انتخابات میں جو قومی اسمبلی وجود میں آئی،اس نے73ء کے آئین میںآٹھویں ترمیم شامل کی، جس کے تحت صدر کو آئین کی دفعہ58(2) بی کے تحت اسمبلی توڑنے کا اختیار حاصل ہو گیا،اِس اختیار کے بغیر ضیاء الحق مارشل لاء اٹھانے پر آمادہ نہیں تھے،انہوں نے اپنے نامزد کردہ وزیراعظم جونیجو کی حکومت اِسی اختیار کے تحت ختم کی، جس کے چند ماہ بعد ہی وہ طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ اُن کے بعد آنے والے دو صدور غلام اسحاق خان اور فارروق لغاری نے بھی تین اسمبلیاں تحلیل کیں۔

1997ء میں منتخب ہونے والی اسمبلی نے تیرھویں ترمیم کے تحت صدر کے اسمبلی توڑنے کا اختیار سلب کر لیا تاہم یہ اسمبلی بھی اپنی مدت پوری نہ کر سکی اور جنرل پرویز مشرف نے12اکتوبر 1999ء کو نواز شریف کی حکومت ختم کر کے اقتدار خود سنبھال لیا اور پھر اپنے اقتدار کے دوران ایم ایم اے کے تعاون سے سترھویں ترمیم منظور کرا کے اسمبلی توڑنے کا اختیار دوبارہ صدر کو دے دیا،انہوں نے اپنے دور میں صدارتی اور پارلیمانی نظام کا ایک ملغوبہ تیار کیا،جس کے تحت وزیراعظم کی حیثیت محض مرغِ دست آموز کی سی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ میر ظفر اللہ جمالی اُنہیں ’’باس‘‘ کہتے تھے۔اُن کے دور میں تین وزرائے اعظم اس عہدے پر متمکن ہوئے ویسے تو اُن کا منصوبہ صدارتی نظام نافذ کرنے کا تھا اور اُن کے نامزد لوگ دانشورانہ سطح پر اس کی راہ ہموار کرنے میں کوشاں بھی تھے،لیکن اُنہیں اس کی مہلت نہ ملی اور اُنہیں بے بسی کے عالم میں صدر کے عہدے سے استعفا دینا پڑا، حالانکہ انہوں نے صدر منتخب ہونے کے لئے بڑے پاپڑ بیلے تھے اور پوری سپریم کورٹ کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا تھا اور من مانی کے لئے مُلک میں ایمرجنسی بھی لگائی تھی۔

2008ء میں پیپلزپارٹی برسر اقتدار آئی تو اُس نے آئین میں داخل کی گئی ’’آمرانہ تجاوزات‘‘ کو اٹھارہویں ترمیم کے تحت اس اساسی دستاویز سے نکال دیا،صوبوں کے اختیارات بڑھائے گئے اور وفاق کے اختیارات میں کمی کی گئی، اگرچہ بعض امور پر اب تک عملدرآمد نہیں ہو سکا تاہم اس آئینی ترمیم کے محرک اور روحِ رواں سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی اِس خدشے کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ اس ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،وہ اس پر خبردار بھی کرتے ہیں کہ اگر ایسا کیا گیا تو یہ مُلک کے لئے اچھا نہیں ہو گا،اس ترمیم کے تحت صدر کے پاس اب اسمبلی توڑنے کا اختیار باقی نہیں ہے اِس لئے بیشتر حلقوں کی نگاہ میں ایک آئینی سربراہِ مملکت جس کے پاس58(2) بی کی تیغِ آبدار نہیں ہے، جچتا نہیں ہے اور وہ صدر کو ’’بااختیار‘‘ دیکھنا چاہتے ہیں،لیکن کیا کِیا جائے آئین پاکستان کے اندر صدر کے اختیارات بھی متعین ہیں اور وزیراعظم کے بھی، اب اگر کسی کو بے اختیار صدر بننا پسند نہیں ہے اور وہ ’’متحرک اور سرگرم صدر‘‘ بن کر دکھانا چاہتے ہیں تو بھی انہیں آئین کی حدود کے اندر رہ کر ہی متحرک اور سرگرم رہنا ہو گا، بعض حضرات ’’بے اختیار صدر‘‘ کا مضحکہ بھی اڑاتے دیکھے گئے ہیں،انہیں چاہئے کہ اگر وہ صدر کے اختیارات بڑھانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے پارلیمینٹ میں بل لائیں،آئین میں ترمیم منظور کرا سکتے ہیں تو کرائیں، صدر کے اختیارات تو اِسی صورت بڑھ سکتے ہیں جب آئین کے اندر یہ اختیارات دوبارہ لکھ دیئے جائیں، بصورتِ دیگر انہی اختیارات پر گزارہ کرنا ہو گا،جو اِس وقت صدر کو حاصل ہیں۔

دُنیا میں جہاں جہاں بھی پارلیمانی نظام رائج ہے وہاں وہاں یا تو بادشاہتیں ہیں یا آئینی صدارتیں، برطانیہ کی پارلیمینٹ کے پاس کئے ہوئے بل کو ملکہ بھی نامنظور نہیں کر سکتیں اور وہ اسی صورت میں پاس کرنا پڑتا ہے جس صورت میں پارلیمینٹ منظور کرتی ہے۔امریکہ میں اگرچہ صدارتی نظام ہے اور کہا جاتا ہے کہ امریکی صدر کے پاس جتنے اختیارات ہیں وہ دُنیا کے کسی دوسرے صدر کے پاس نہیں،لیکن کانگرس نے بعض معاملات میں اُن کے ہاتھ بھی باندھ رکھے ہیں۔وہ اگرچہ کانگرس کے پاس کئے ہوئے بل کو ویٹو کرنے کا اختیار رکھتے ہیں،لیکن اگر کانگرس اس بل کوکومہ اور شوشہ تبدیل کئے بغیر دوبارہ دوتہائی اکثریت سے منظور کر لے تو صدر کا ویٹو کا اختیار تحلیل ہو جاتا ہے اور اُسے اِس بل کو منظور کرنا پڑتا ہے۔امریکہ میں ایسا ہوتا رہتا ہے کہ صدر کا ویٹو کردہ بل کانگرس نے دوبارہ منظور کر لیا اور صدر کو اِس پر دستخط کرنا پڑے۔

آج جو صدر عارف علوی منتخب ہوئے ہیں اُن کے پاس وہی اختیارات رہیں گے،جو اُن کے پیشرو صدر کے پاس تھے کسی کی خواہش پر نہ تو آئینی اختیارات بڑھائے جا سکتے ہیں اور نہ ہی کم کئے جا سکتے ہیں۔البتہ درمیان درمیان میں ہمارے ہاں ایسے صدور بھی آتے رہتے ہیں، جن کا دِل زیادہ اختیارات کے لئے مچلتا رہتا تھا، ہمارے ایسے آخری صدر جنرل پرویز مشرف تھے،لیکن انہیں استعفا دے کر جانا پڑا،اس کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی جماعت بنائی،لیکن وہ عمر بھر کے لئے الیکشن لڑنے کے نااہل ہو چکے ہیں،جس کے خلاف انہوں نے اپیل کی ہوئی ہے جو زیر سماعت ہے، اب وہ اپنے خلاف غداری کے مقدمے کے خوف کی وجہ سے وطن واپس بھی نہیں آتے۔البتہ اپنے خیالات کا اظہار وہ وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں اب وہ اپنے ہی بنائے ہوئے وزیراعظم شوکت عزیز کو بھی سازشی کہنے لگے ہیں خیر یہ وقت وقت کی بات ہے،سیاست میں اگر وہ متحرک کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو نواز شریف کی طرح بے خوف ہو کر واپس آئیں اور سسٹم کے اندر رہ کر اپنا مقام بنا سکتے ہیں تو بنا لیں۔ اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارنے سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔

صدارتی الیکشن ایک لحاظ سے یکطرفہ ہی رہا،کیونکہ اپوزیشن متفقہ امیدوار لانے میں ناکام رہی، حالانکہ اس صورت میں بھی کامیابی کا امکان تو نہیں تھا لیکن اتحاد کا تاثر ضرور ملتا۔ چودھری اعتزاز احسن کے نام پر پیپلزپارٹی ڈٹ گئی تھی اور مولانا فضل الرحمن کی حمایت میں مسلم لیگ (ن) اور اتحادی یکسو ہو گئے تھے ایسے میں فیصلہ تو یہی ہونا تھا جو ہوا،اب دیکھنا یہی ہو گا کہ عارف علوی اپنے دورِ صدارت میں کیا کارنامے انجام دیتے ہیں، کیونکہ وہ کہہ چکے ہیں کہ ممنون حسین کی طرح کے صدر نہیں بنیں گے۔

مزید : رائے /اداریہ