اے میرے پیارے وطن

اے میرے پیارے وطن
اے میرے پیارے وطن

  

امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ نے کہا تھا: ’’ اگر لوگ کسی کے ذاتی اختیارات کی ریاستی اختیارات پر بالادستی تسلیم کرلیں تو جمہوریت بے اختیار اور برائے نام رہ جاتی ہے، ایک فرد یا ایک گروہ کی حکومت فاشزم کو جنم دیتی ہے‘‘۔۔۔اگر ہم آج کے پاکستان پر سرسری نظر ڈالیں تو حالات کچھ اسی طرف کا رخ اختیار کرگئے ہیں، ذرائع ابلاغ پر چند مخصوص چہرے روزانہ یہی تکرار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ اور ان کی قیادت ہی جمہوریت کو سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں، باقی سب ’’ایرے غیرے نتھو خیرے ہیں‘‘۔ جوش خطابت اور وفاداری کے اظہار میں’’ تہذیب کے ایسے کارنامے سننے اور دیکھنے میں آتے ہیں، ایسی زبان استعمال کی جاتی ہے کہ ٹی وی بند کرنا پڑتا ہے۔ اب محسوس ہوتا ہے کہ چند ترجمان، چند تجزیہ کار،چند دانشور اور چند اینکرزہی عقل و دانش کا سمندر ہیں، باقی پاکستان عقل و دانش سے عاری اور ذہنی طور پر بانجھ ہے۔قابل رحم ہے وہ قوم جس کے دانشور پیٹ سے سوچتے ہیں اور اسی کے تقاضے کے مطابق لکھتے اور بولتے ہیں۔

کئی صاحبان تو مختلف اوقات میں مختلف سیاسی جماعتوں اور سیاسی قائدین کے ترجمان ہوتے ہیں اور بے شرمی و ڈھٹائی کی حد تک اپنے پرانے آقا کی مٹی پلید کرتے ہیں، جس کے کھونٹے سے بندھے ہوتے ہیں، جس کی کھولی میں چارہ کھاتے ہیں، اسے قوم کا نجات دھندہ قرار دینے میں زمین اور آسمان ایک کردیتے ہیں، جو تفریح کا سامان بھی ہوتا ہے اور ذہنی اذیت کا باعث بھی۔ حکومتی پارٹی جمہوریت کی چیمپئن ہوتی ہے اور اختلاف کرنے والے جمہوریت دشمن قرار دیئے جاتے ہیں۔ سب کی اپنی اپنی جمہوریت ہے، جمہوریت کی اپنی اپنی تعریف ہے اور صحیفہ آسمانی ہوتی ہے، جسے نہ ماننے والے جمہوریت اور ملک دشمن قرار دیئے جاتے ہیں۔ بعض اوقات کفر کا فتویٰ دینے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا اور یہ خدمت مذہبی لبادوں میں لپٹے و ظیفہ خوار سیاسی پروفیسر اور علماء مشائخ ادا کرتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہونا چاہئے، جمہوریت انسانوں کا اپنا بنایا ہوا نظام ہے، جو اپنی زندگی کو، اپنے ملک کو، اپنی ریاست کو اپنے ہم وطنوں کی زندگی میں باقاعدگی لانے کے لئے نظم و ضبط کا پابند رکھنے حقوق و فرائض کے تعین،مختلف ذمہ داریوں کے لئے مختلف اداروں کے قیام بہتر انداز حکمرانی اور عوام کی بہتری کے لئے ترتیب دیا گیا ہے۔

یہ سب کیسے ممکن ہوتا ہے؟ نمائندے منتخب کئے جاتے ہیں جو دیانت دار اور اہل ہوں (ذاتی ملازم نہیں) جو قوم کی خواہشات اور ضروریات کے مطابق قانون سازی کرتے ہیں، لیکن کیا ہم پاکستان میں یہ سب دیکھ رہے ہیں، ہرگز نہیں۔ عوام کی رائے اور اعتماد کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ قوم بھوک ننگ، بے روزگاری، بیماری بدامنی کا شکار ہو رہی ہے، بنیادی ضروریات کے بغیر جانوروں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہے(مغرب میں جانور بھی ہم انسانوں سے بہتر زندگی گزارتے ہیں) ملک اندرونی اور بیرونی قرضوں کی دلدل میں دھنس گیا ہے اور رہنماؤں کے اندرون ملک اور بیرون ملک اثاثے بڑھتے ہی جا رہے ہیں، تعمیر و ترقی کا ڈھنڈورہ پیٹنے والے یہ نہیں بتاتے کہ انہوں سے ہر پیدا ہونے والے بچے کو بھی ڈیڑھ لاکھ کا مقروض کردیا ہے،جبکہ ضمیر فروش اور قلم فروش دانشور اُن کی تعریف میں زمین و آسمان ایک کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم جمہوریت کے نام پر یرغمال بنے ہوئے ہیں، ہم ان کی عیاشیوں کا تاوان ادا کررہے ہیں اور خدا جانے کب تک ادا کرتے رہیں گے؟ جو بھی انہیں روکنے کی کوشش کرے، اس پر الزام آ جاتا ہے کہ وہ سسٹم کو ڈی ریل کرنے کی کوشش اور سازش کر رہا ہے۔

جمہوریت صرف اپنی مدت پوری کرنے کا نام نہیں ہے۔ چاہے ملک اور قوم کو اس کی جتنی مرضی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے۔ جمہوریت میں ’’مڈ ٹرم‘‘ انتخابات بھی ہوتے ہیں، بھارت میں اکثر ہوتے رہتے ہیں۔ ریفرنڈم بھی ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں اہم قومی معاملات پر ریفرنڈم ہوتے ہیں۔ حکومتیں جاتی ہیں، جمہوریت ہر قیمت پر حکومت میں آنے اور حکومت بچانے کا نام نہیں، اپنے عہدے بچانے اور لوٹ مار کرنے کا نام نہیں، جمہوریت عوام کا خون چوس کر جیبیں بھرنے کا نام نہیں، جمہوریت عوام کو بھیک اور خیرات کا عادی بنانے کا نام نہیں، پارلیمینٹ کو سرکس اور تھیٹر بنا دینے کا نام نہیں ہے جمہوریت انتخابات سے شروع ہوتی ہے، لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے جب جمہوری عمل اختتام پذیر ہو جاتا ہے پھر آنکھیں بند کر کے قانون سازی کی جاتی ہے۔ بغیر ایوان میں گئے حاضری لگوا کر الاؤنس اور دیگر مراعات حاصل کرنے، ڈویلپمنٹ فنڈ کے نام پر مار دھاڑ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

جمہوریت تو ایک نظام ہے جس میں عوام کے منتخب نمائندے موثر انداز میں ان کے مسائل کے حل کے لئے قانون سازی کرتے ہیں۔ ان کی زندگی میں بہتری لانے اور خوش حالی لانے کے لئے پروگرام اور پالیسیاں ترتیب دیتے ہیں۔ بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے منصوبے بناتے ہیں روز گار، تعلیم، صحت کی سہولتیں مہیا کرنے کے لئے بجٹ بناتے ہیں، مختلف طبقات اور فرقوں کے درمیان ہم آہنگی مہیا کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ انصاف کا حصول آسان اور سستا ہونا یقینی بناتے ہیں۔ حکمرانوں کے قانون کے لئے قانون کی حکمرانی یقینی اور سب کے لئے برابر ہونا مقصد ہوتا ہے۔ جان و مال کا تحفظ، معاشی و سیاسی اور معاشرتی استحکام پیدا کرنا، خود انحصاری، خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ ہر قیمت پر برقرار رکھنے کا حلف ہوتا ہے، لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں جو ہونا چاہئے وہ نہیں ہوتا اور جو ہونا چاہئے اس سے ہر قیمت پر ہر لحاظ سے پہلو تہی کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں سیاست اور جمہوریت کا مطلب ’’لگاؤ اور بناؤ‘‘ ہے۔ اپنے لئے اپنی نسلوں کے لئے دولت کے انبار اکٹھا کرنا۔

جب مشہور فلاسفر ارسطو نے چار صدی قبل از مسیح میں اس نظام کا تصور دیا تھا اور کہا تھا کہ اس نظام میں قیادت، اخلاقیات کے مطابق انداز حکمرانی اپنائے گی اور اسے اپنانا چاہئے۔ بعد میں آنے والے فلاسفر اور مفکرین نے بھی اخلاقی اصولوں کے مطابق فیصلہ سازی کے عمل پر زور دیا Locke نے Hobbes نے اور Rousseao نے بھی عوامی خدمت، معاشرتی اعتماد اور اخلاق کے اصولوں کی بنیاد پر قائم انداز حکمرانی کو جمہوریت قرار دیا، لیکن ہمارے حکمران سیاست اور جمہوریت کی بات تو کرتے ہیں، لیکن ان کی جمہوریت کسی بھی اصول اور اخلاق سے عاری جمہوریت ہے، نتیجہ عوام کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، قرضوں اور امداد پر پلنے اور جینے کی عادت نے ہمیں بین الاقوامی اداروں اور امداد فراہم کرنے والے ممالک کا غلام بنا دیا ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی، ہماری داخلہ پالیسی، ہمارا مالیاتی نظام ان کے اشاروں پر چلتا ہے۔ ان کے مفادات کا تحفظ ہماری اولین ترجیح بن گیا ہے۔ ہم نے اپنی خود مختاری گروی رکھ دی ہے۔ اقتداراعلیٰ میں وہ ہمارے شریک ہیں شراکت دار ہیں۔ اعلیٰ ترین عہدے ان کی دی ہوئی خیرات ہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے بھی اسے اپنی قسمت سمجھ لیا ہے۔ایک بین الاقوامی سیمینار میں جس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا۔ اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل بطروس غالی کے یہ الفاظ ہمیشہ میرے کانوں میں گونجتے رہتے ہیں اور خدا جانے کب تک گونجتے رہیں گے کہ ایسے حالات میں کسی بھی ملک کے حکمرانوں کی ذاتی لالچ اپنی اور اپنی نسلوں کے شاہانہ انداز کو یقینی بنانے سے

"Absolute and Exclusive Sovereignty is just a Dream"

یعنی حقیقی اقتداراعلیٰ اور خود مختاری ایک خواب رہ جاتی ہے۔اللہ پاک ہمیں صحیح، دیانتدار اور اہلیت اور صلاحیت رکھنے والے خوددار نمائندے منتخب کرنے کی ہدایت دے، رہنمائی کرے جو Made in Pakistan Made for Pakistan نمائندے منتخب کریں۔ ایسے نمائندے اور حکمران نہ ہوں جن کے جائیداد اور اثاثے مغرب میں ہوں اور وہ ان کی انگلی کے اشارے پر چلنے پر مجبور ہوں۔

مزید : رائے /کالم