تبدیلی ایسے نہیں آئے گی پیارے!

Sep 05, 2018

نسیم شاہد

پی ٹی وی ہوم کے کرنٹ افیئرز پروگرام میں کشیدہ گفتگو کرنے کے بعد جب شوکت اشفاق اور مَیں ایک ہی گاڑی پر باہر نکلے تو پرانا شجاع آباد روڈ پر تجاوزات کی وجہ سے ٹریفک رکی ہوئی تھی۔ شوکت اشفاق نے موقع غنیمت جانا اور کہا یہ ہے میری اُس بات کا ثبوت کہ اس معاشرے میں تبدیلی نہیں آ سکتی،کیونکہ ہم میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ تبدیلی آئے۔ہم سب اس’’ اسٹیٹس کو‘‘ سے فائدہ اٹھانے والے ہیں،جسے تبدیل کرنے کے نعرے لگاتے ہیں۔ یہ ریڑھی والے جنہوں نے اپنی ریڑھیوں کی وجہ سے سڑک بند کر رکھی ہے، ایسی کوئی تبدیلی نہیں چاہیں گے جو ریڑھیاں ہٹا کر سڑک کو کھول دے۔ یہ مرنے مارنے پر تُل جائیں گے اور اگر اِس دوران اِن کا کوئی بندہ مر گیا تو سمجھو اگلے دس سال تک اِن کی طرف کوئی مڑ کے دیکھے گا بھی نہیں۔

مَیں نے کہا ہم صرف یہی تبدیلی تو نہیں لانا چاہتے کہ سڑکوں سے ریڑھیاں ہٹ جائیں، ہم تو مجموعی تبدیلی کے خواہاں ہیں، تاکہ مُلک میں ہر شخص اپنے حقوق و فرائض کے مطابق زندگی گزارے،قانون کی بالادستی ہو اور تمیز بندہ و آقا ختم ہو جائے۔ شوکت اشفاق نے کہا زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، اپنے صحافی بھائیوں پر ہی ایک نظر ڈال لو، سڑک پر اگر کوئی وارڈن اُنہیں روک لے تو اپنا کارڈ دکھائیں گے،اُس نے گاڑی کے کاغذات یا لائسنس مانگنے کی غلطی کی نہیں اور ان کا پارہ گرم ہوا ہی نہیں، ہم اپنا اتنا سا استحقاق جو ہے بھی خود ساختہ، چھوڑنے کو تیار نہیں تو باقی لوگوں سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟ پھر انہوں نے صدر ایوب خان کی مثال دی۔ جب گندم کا قحط پڑا تو صدر ایوب خان نے ریڈیو پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس کے گھر یا گودام میں من سے زیادہ گندم موجود ہے، وہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں باہر رکھ دے وگرنہ کارروائی کی جائے گی، اُن کے خطاب کا فوری نتیجہ نکلا اور ہر گھر کے باہرگندم کی بوریاں اور فلور ملوں کے باہر گندم کے ڈھیر پڑے تھے۔کیا آج وزیراعظم عمران خان کی بات میں اتنا اثر ہے کہ وہ جو کہیں اُس پر ایک دن میں عمل ہو جائے؟ ایسا نہیں ہے، اس میں قصور عمران خان کی مقبولیت یا کہے کا نہیں، بلکہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ پانچ دہائیوں میں بگاڑ اِس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہم اِن بے قاعدگیوں،چور دروازوں اور اثرو رسوخ کی وجہ سے ملنے والی سہولتوں کے عادی ہو گئے ہیں۔

تبدیلی کے راستے میں رکاوٹ بننے والا یہ تھیسز اتنا غیر منطقی بھی نہیں، کہیں تجاوزات یا غربت کی بات ہو رہی ہو تو مَیں یہ نکتہ ضرور بیان کرتا ہوں کہ ہماری دو نمبر معیشت نے ہمیں خانہ جنگی سے بچا رکھا ہے۔اب یہ ایسی بات ہے جو آسانی سے سننے والے کو سمجھ نہیں آتی، اِس لئے وہ حیران رہ جاتا ہے۔مَیں اس کی سادہ سی مثال یہ دیتا ہوں کہ جب کسی علاقے میں ریڑھیاں، ٹھیلے، پھٹے اور دکانیں بڑھانے والوں کے خلاف کارپوریشن کا عملہ آپریشن کرتا ہے تو وہ لازمی مزاحمت کرتے ہیں، گرفتار بھی ہو جاتے ہیں،عملہ چلا جائے تو پھر ریڑھیاں اور پھٹے لے آتے ہیں،ایسا وہ کیوں کرتے ہیں؟اِس لئے کہ اُن کے پاس روزگار کا اور کوئی ذریعہ ہی نہیں۔ریاست کو بھی معلوم ہے کہ لاکھوں افراد اِسی طرح تجاوزات کی آڑ میں اپنا روزگار کما رہے ہیں۔وہ ہلکا پھلکا آپریشن کرتی ہے، پھر ٹھنڈی ہو جاتی ہے، سو تبدیلی کیسے آ سکتی ہے؟ اِدھر بھی مجبوری ہے اور اُدھر بھی مجبوری ہے۔

یہ جو ایک سے دسویں گریڈ کے ملازمین کی تنخواہ مقرر کی گئی ہے، کیا اُس سے زندگی کے معاملات چلائے جا سکتے ہیں؟ جہاں بجلی کا بل ہی دینا مشکل ہو جائے، وہاں درجنوں دیگر اخراجات کیسے پورے ہو سکتے ہیں؟اگر رشوت کا در نہ کھلا ہو تونچلے درجے کے سرکاری ملازمین یا تو خود کشیاں کریں گے یا پھر ڈاکے ڈالیں گے۔کوئی بتائے کہ اِس صورت میں تبدیلی کیسے آ سکتی ہے؟ سیاسی لوگوں کی تو یہ مجبوری ہے کہ انہوں نے عوام کا سامنا کرنا ہوتا ہے،اِس لئے وہ اگر چھوٹی گاڑی رکھ لیتے ہیں یا سادہ زندگی گزارتے ہیں تو انہیں خود کو سمجھانے میں آسانی رہے گی،مگر یہ بیورو کریٹس کب چاہیں گے کہ وزیراعظم عمران خان اگر سادگی اختیار کر رہے ہیں تو لازماً ہم بھی کریں۔ وہ تو خود کو مُلک کا اصل بادشاہ کہتے ہیں۔ وہ تبدیلی کو کیسے قبول کر سکتے ہیں،اُن کے لئے تو یہ نظام آئیڈیل ہے،جس میں وہ اور رعایا ایک دوسرے سے میلوں دور کھڑے ہوتے ہیں۔

آپ پاکپتن کے واقعہ کو دیکھیں، اس حقیقت کی بہترین مثال ہے کہ معاشرے کا کوئی طبقہ بھی ایسی تبدیلی نہیں چاہتا جو قانون کی بالادستی پر مبنی ہو۔سب ایسا ماحول چاہتے ہیں،جس میں اُن کے لئے آسانی کی راہ کھلی رہے۔بات قانون و قاعدے کے مطابق ہوتی تو کوئی مسئلہ نہ بنتا، پولیس نے بھی اپنی حدود سے تجاوز کیا اور مخالف فریق کو بھی یہ بات ہضم نہ ہوئی کہ اُس سے پوچھ گچھ کی جرأت کیسے ہوئی۔ ڈی پی او کو بھی یہ زعم رہا کہ مَیں جوابدہ نہیں ہوں اور معافی مانگنے کا کہنے والے بھی اِس حقیقت کو بھول گئے کہ معاملہ گلی محلے کی لڑائی کا نہیں،بلکہ ایک باوردی پولیس افسر کی اَنا کا ہے۔تبدیلی تو اُس وقت ہی آئے گی جب ہمارے ذہن تبدیل ہوں گے، جب ہم میں سے ہر ایک اپنے استحقاق سے بڑھ کر اپنا اسٹیٹس مانگنے کی کوشش نہیں کرے گا۔اِس وقت تو یہ صورتِ حال ہے کہ ایک گدھا گاڑی والا بھی قانون سے ہٹ کر وہ راستہ مانگتا ہے جو اُس کا حق نہیں، وہ سڑک کے بیچ چل رہا ہو اور آپ اُسے سائیڈ پر ہونے کا کہیں تو وہ آپ کے گلے پڑ جاتا ہے۔ موٹروے پر چڑھنے والے ڈرائیورز محتاط ہو جاتے ہیں،مگر وہاں سے نکلتے ہی اُن کی انانیت پھر جوش میں آ جاتی ہے۔ تبدیلی کبھی ڈنڈے کے زور پر نہیںآ سکتی۔جانوروں کی بھی جب تک آپ تربیت نہ کریں، وہ وقتی طور پر قابو میں رہتے ہیں، اُس کے بعد اسی روش پر آ جاتے ہیں۔ کتے کی دُم والا محاورہ تو سُنا ہو گا،جس کی دُم کو جتنا عرصہ بھی بوتل میں رکھیں، وہ بوتل سے نکلتے ہی پھر ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔

سو اب قصہ یہ ہے کہ ہر طرف تبدیلی کا شور مچا ہوا ہے، مگر ہر شخص یہ چاہتا ہے دوسرا تبدیل ہو جائے،کیا ایسے تبدیلی آ سکتی ہے،اکیلے وزیراعظم عمران خان کے بدل جانے سے پورا معاشرہ کیسے بدلے گا؟ عمران خان نے تو ہمت کی ہے کہ بہت کچھ چھوڑ دیا ہے،وزیراعظم ہاؤس، لگژری گاڑیاں، شاہانہ پروٹوکول، صوابدیدی فنڈز، غیر ملکی دورے ظاہر ہے اس کے لئے انہوں نے پہلے اپنی ذہنیت بدلی، تبدیلی کے لئے تیار کیا اور پھر عمل۔۔۔ اب اگر عوام یہ چاہتے ہیں کہ تبدیلی کے اثرات اُن کی زندگی پر نظر آئیں تو اِس کے لئے پہلے اُنہیں خود کو تیار کرنا ہو گا، چھوٹے چھوٹے فائدے اور مراعات چھوڑنا ہوں گی، ہر طبقے کو ان فوائد کی نفی کرنا ہو گی جو اُس نے ازخود اپنے لئے وقف کر رکھے ہیں۔مثلاً وکلا ہی کو لے لیں۔ وہ تبدیلی چاہتے ہیں،مگر خود کیسے بدلیں گے،وہ توقانون کو گھر کی مرغی سمجھتے ہیں۔اُن کے نزدیک نہ تو عدالتیں کوئی اہمیت رکھتی ہیں اور نہ معاشرے کا دوسرا طبقہ اُن کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔وہ پولیس والوں کو مارتے ہیں،ججوں پر حملے کر دیتے ہیں، عام آدمی اُن کے سامنے آ جائے تو اُسے نشانِ عبرت بنا دیتے ہیں۔قانون اِس لئے اُن کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے کہ کچہریوں پر اُن کا قبضہ ہے،جہاں سے انصاف ملتا ہے، وہی جگہ ان قانون کے رکھوالوں کی وجہ سے مخالفین کے لئے غیر ممنوعہ بن جاتی ہے۔نئے پاکستان میں فوری انصاف کا وعدہ بھی کیا گیا ہے،لیکن فوری انصاف مل ہی نہیں سکتا چاہے ججوں کی تعداد ڈبل کر دی جائے۔ جب تک وکلاء تیار نہیں ہوں گے، فوری انصاف ہو ہی نہیں سکتا، وہ اِس لئے تیار نہیں ہوں گے کہ سائلوں کی تعداد کا بڑھتے رہنا اُن کے مفاد میں ہے۔

سو مَیں شوکت اشفاق کی اِس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہم نئے پاکستان کی خواہش تو رکھتے ہیں،لیکن پرانے پاکستان کی مراعات نہیں چھوڑنا چاہتے،ہم ان مراعات کے بینیفشری ہیں۔ہم اِس بات پر خوش ہو جاتے ہیں کہ سرکاری دفاتر میں رشوت دے کر بآسانی کام ہو جاتا ہے۔ہم اس نظام سے نفرت نہیں کرتے،بلکہ اسے کم برائی سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ یہ نظام اِس لئے وارا کھاتا ہے کہ ججوں کے ریڈر چند روپوں کے عوض اگلی تاریخ دے دیتے ہیں، ہم اسے کیوں بدلنا چاہیں گے۔ ہم نہیں چاہیں گے کہ معاشرے میں میرٹ کا دور دورہ ہو، کیونکہ ہمیں تو اندر خانے کام کرنے کی عادت ہے۔ہم سب سے آخر میں آ کر سب سے پہلی قطار میں بیٹھنا چاہتے ہیں اور اس سہولت کو برقرار رکھنے کے خواہشمند ہیں۔ اِن حالات میں اگر کچھ نہ ملا تو اس کا الزام ہم کسی کو نہیں دے سکیں گے۔ یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ جب حکمران نہیں بدلے، ہم کیوں بدلیں،کیونکہ مُلک کا وزیراعظم ماضی کے وزرائے اعظم کے برعکس اپنی ذات تک سب کچھ بدل چکا ہے۔اب گر تبدیلی نہ آئی تو اس کے ذمہ دار ہم سب ہوں گے۔ یہ تلخ حقیقت ہے، جسے ہمیں تسلیم کر لینا چاہئے۔

مزیدخبریں