علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے!

علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے!
علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے!

  

میری طرح آپ بھی شائد یہ سوچتے ہوں گے کہ قوموں کے برادری میں پاکستان کے پیچھے رہ جانے کے اسباب کیا تھے (اور کیا ہیں)۔ ہم انڈیا کو اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتے ہیں اور کشمیر کے سوال پر اس سے چار جنگیں لڑ چکے ہیں۔ لیکن نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آدھا ملک گنوا بیٹھے ہیں۔۔۔۔ الحمدللہ اب کچھ برسوں سے ہوش آیا ہے کہ ہم کشمیر کو بزور شمشیرحاصل نہیں کر سکتے۔ دوسری یا متبادل آپشنز ایک طویل موضوع ہے، میں اس طرف نہیں جاؤں گا۔ لیکن اتنا ضرور عرض کروں گا کہ مسئلہ کشمیر کو اگر ایک لمحے کے لئے الگ بھی رکھ دیں تو ہماری پسماندگی کا کوئی ایک یا ایک سے زیادہ اسباب اور بھی تو ہوں گے، وہ کیا ہیں؟۔۔۔ ان کا جائزہ لیتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے قائدین ایک عرصے سے کہتے چلے آئے ہیں کہ ملک کا اصل مسئلہ کرپشن ہے۔ اب ان کی حکومت آ چکی ہے۔ ہم یہ امید لگا بیٹھے ہیں کہ اگر کرپشن ختم ہو جائے تو ہم خوشحال اور ترقی یافتہ قوم بن جائیں گے۔ جہاں اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ کرپشن معاشرے کا ایک بڑا ناسور ہے جو چین جیسے ترقی یافتہ ملک کو بھی لاحق ہے اور چین نے اس ابتلا کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوششیں بھی کی ہیں لیکن جب چین میں کرپشن کا آزار تھا بھی اور اس کے سینکڑوں ہزاروں سرکاری اور کاروباری لوگ کرپشن میں ملوث تھے بھی تو تب بھی چین ترقی کر رہا تھا۔ اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ محض کرپشن ختم کرنے سے کوئی معاشرہ مکمل طور پر خوشحال نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ترقی یافتہ کہلا سکتا ہے۔

امریکہ اور یورپ کو دیکھ لیں۔ وہاں سٹرٹیجک پیمانے کی کرپشن کی کوئی حد نہیں۔ سرمایہ کاری نظام کی بنیاد ہی کرپشن پر ہے ۔۔۔اور یہ ایک الگ موضوع ہے۔۔۔ خود بھارت میں کرپشن کی بیماری زوروں پر ہے۔ لیکن باایں ہمہ اس کی سالِ رواں کی اقتصادی نمو کی شرح 8.2% ہے جو کسی بھی ملک کی ترقی کرتی معیشت کا ایک واشگاف اشاریہ ہے۔ اسی طرح کی ایک اور بیماری بھی ہمیں لاحق ہے کہ پاکستان کا برسرِاقتدار اشرافیہ ایک طویل عرصے سے منی لانڈرنگ کی لعنت میں گرفتار چلا آرہا ہے۔ لیکن عوام بے خبر رہے۔ اس کا عرفان بھی ہمیں ایک غیر ملکی وسیلے سے ہوا۔ اور پھر پی ٹی آئی نے اس کو اتنا اٹھایا کہ لوگوں کو یہ سمجھ آنے لگی کہ ہمارے برسراقتدار سیاستدانوں کا کردار کیا رہا ہے اور عوام کی حالتِ زار روز بروز خراب سے خراب تر کیوں ہوتی جا رہی ہے۔ انہی دو نعروں پر انتخابات ہوئے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ دراصل ایک مافیا کا کردار ادا کرتی رہی ہے اور کرپشن اور منی لانڈرنگ دو وجوہات ایسی ہیں کہ جن کی بناء پر پاکستان دیوالیہ ہو رہا ہے۔ چنانچہ عوام کی اکثریت نے تحریک انصاف کے اس بیانیے پر لبیک کہا اور ملک کی دیرینہ سیاسی بساط الٹا کر رکھ دی!

یہ سب کچھ آپ نے دیکھا اور میں نے بھی۔۔۔۔ اس کے باوجود میرا یہ وسوسہ اور سوال ہنوز میرے نہاں خانہ ء دماغ میں کہیں کلبلاتا ہے کہ اقوامِ عالم کی ترقی اور خوشحالی کا راز کیا ہے۔۔۔؟ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جب تک کوئی ملک اقتصادی طور پر خوشحال نہیں ہوگا، کرپشن اور منی لانڈرنگ کو خواہ کتنا بھی ختم کر دیں، کوئی عظیم منصوبہ، کوئی بڑا پراجیکٹ اور کوئی سٹرٹیجک نوعیت کاترقیاتی کوہِ گراں سر نہیں کیا جا سکتا۔ اس بات پر بھی غور کیجئے کہ ہمارے فاضل چیف جسٹس نے حال ہی میں ’’ڈیم بناؤ‘‘ مہم کا جو آغاز کیا ہے، اس کی تعمیر کا اصل مدعا کیا ہے۔ سارا میڈیا پکارے جا رہا ہے کہ اگر آبادی کا ہر بالغ فرد روزانہ صرف 10روپے فلاں نمبر پر تعمیرِ ڈیم کی مد میں بھیج دے تو یہ انتہائی اہم نوعیت کا منصوبہ، نو دس برس میں پایہ ء تکمیل کو پہنچایا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا تعمیرِ ڈیم سے پاکستان کا اصل مسئلہ حل ہو جائے گا؟یہ تعمیر البتہ ایک بڑے مسئلے کا ایک جزوی حل ہے۔۔۔ اور میرا سوال پھر بھی یہی ہوگا کہ آخر وہ اساسی سبب کیا ہے جو کسی بھی ملک کی ترقی کا دائمی راز کہلا سکتا ہے، جو ملک کو مالی مرفع الحالی دے سکتا ہے اور ہمارے درد کا درماں بن سکتا ہے۔

میں تاریخ کے اوراق الٹتا رہا ہوں کہ معلوم کروں کہ یہ سرمایہ ،یہ مال و زر کہاں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ معلوم ہوا کہ صدیوں تلک قوموں کے درمیان جنگ و جدل کا جو لامتناہی سلسلہ جاری رہا اس کی اصل وجہ یہی مال و زر کا حصول تھا جس کو کبھی مالِ غنیمت کہا گیا تو کبھی لوٹ مار کا نام دیا گیا۔ جنگوں کا یہ کلچر 20ویں صدی کے وسط تک قائم رہا۔ اور تب جا کر ختم ہوا جب انسان نے ایک ایسا ہتھیار ایجاد کر لیا جس کے بعد کسی اور ہتھیار کی ضرورت باقی نہ رہی۔ گویا:

سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر

اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

آخر انسان کو یہ ’’منزلِ مراد‘‘ مل ہی گئی۔۔۔ ایٹم بم کا بانی مبانی امریکہ تھا جس نے اگست 1945ء کے بعد اس خیالِ خام کو گلے لگایا کہ وہ اللہ کی زمین پر اب واحد حکمران بن چکا ہے اور جس کسی نے بھی اس کے احکام سے سرتابی کی کوشش کی، اس کو صفحہ ء ہستی سے نیست و نابود کرنا اس کے بس میں ہوگا۔ لیکن مالکِ کون و مکاں کو کچھ اور ہی منظورتھا۔ ابھی نصف صدی بھی نہیں گزری تھی کہ دنیا کے کئی ممالک نے جوہری بم بنا لئے۔ روس، برطانیہ، فرانس، چین، اسرائیل، انڈیا اور پاکستان نے اپنے اسلحی ترکش میں جوہری تیر بھی بھر لئے اور ان کو دشمن پر پھینکنے کے وسائل بھی۔

21ویں صدی میں شمالی کوریا نے جوہری دھماکوں میں پہل کر دی ہے اور بین البراعظیٰ میزائل بھی بنالئے۔ ایران راہ میں ہے اور اس کے بعد خدا جانے اور کون کون سے ممالک اسی راستے پر چل نکلیں ۔ جوہری ٹیکنالوجی جو آج مشکل اور بہت دور نظر آ رہی ہے، جلد ہی آسان بھی ہو جائے گی اور نزدیک بھی آ جائے گی!۔۔۔ لیکن کیا یہ جوہری قوت اور اس کا حصول حضرت انسان کی آخری منزل ہے؟۔۔۔ کیا اس قوت کے عالمگیر پھیلاؤ کے بعد قیامت آ جائے گی یا انسان کی ہوسِ اقتدار و اختیار ختم ہو جائے گی؟۔۔۔ کیا انسان کی آرزوئیں مر جائیں گی۔۔۔ کیا تمناؤں کی تکمیل کی کوئی حد بھی ہے۔۔۔ اور کیا سینۂ آدم سے اگر آرزو کا کانٹا نکال لیا جائے تو اس کی زندگی کا کوئی جواز باقی بھی رہ جائے گا۔۔۔؟ میرا جواب نفی میں ہوگا اور میں اس سلسلے میں حضرتِ اقبال کا ہم خیال ہوں گا کہ:

متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی

مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی

’’دنیا باامید قائم‘‘کا محاورہ دراصل ’’دنیا با تمنائے امید قائم‘‘ ہے۔ اس لئے میں ایک بار پھر اپنے اسی سوال کی طرف جا رہا ہوں کہ انسان کی خوشحالی کا اگر کوئی ایک سبب پوچھا جائے تو وہ کیاہو گا؟

اوپر عرض کر چکا ہوں کہ گئے وقتوں میں طاقتور حکمران کمزور ملکوں پر چڑھ دوڑتے تھے اور لوٹ مار مچا کر اپنی ملکی تجوریاں بھر لیا کرتے تھے۔ پھر وقت جب آگے بڑھا تو بادشاہ اور شہنشاہ کی جگہ وزیراعظم اور صدر نے لے لی۔16ویں صدی سے لے کر 19ویں صدی تک افرنگی اقوام کے وزرائے اعظم اور صدور نے ایشیائی اور افریقی اقوام کو خوب خوب لوٹا۔ پہلے پہل تجارت کے بہانے اور پھر اپنی جدید ملٹری پاور کے بل پر۔۔۔ یہی ملٹری پاور تھی جو ایک طرف مغرب میں ترقی کرتی رہی اور دوسری طرف مشرق اس سے بے خبر رہا اور مار کھاتا رہا۔ 20ویں صدی کا آغاز ہوا تو پہلی اور دوسری عظیم جنگوں نے تیسری دنیا کی آنکھیں کھول دیں اور ان پر منکشف ہوا کہ اصل قوت تو ملٹری ٹیکنالوجی میں ہے۔ کوئی نہتا رستم زماں، کسی سوکھے سڑے افرنگی کی رائفل کے آگے نہیں ٹھہر سکتا۔۔۔ اور یہ عقدہ بھی کھل گیا کہ اس ملٹری ٹیکنالوجی کی بنیاد ’’علم‘‘ ہے!

علم کا نام آتے ہی میرے ذہن کے افق پر آنحضورﷺ کہ وہ حدیث مبارکہ پھیل گئی کہ : ’’علم حاصل کرو خواہ اس کے لئے تمہیں چین بھی جانا پڑے‘‘۔۔۔ اس حدیث میں کتنی بڑی صداقت ہے، اس کا علم آپ کو یہ حقیقت جان کر ہو گا کہ جدید اقوام کی تمام تر ترقی اور خوشحالی کا راز علم اور صرف علم ہے جس کو وہ ’’سائنس‘‘ کہتے ہیں اور اسی ’’سائنسی علم‘‘ کو جب عمل میں ڈھالا جاتا ہے تو اس کا نام ٹیکنالوجی ہوجاتا ہے۔ پہلے یورپ اور امریکہ نے یہ ٹیکنالوجی حاصل کی اور پھر ایشیا میں جاپان اور چین نے افرنگ کی تقلید کی۔ لیکن چین ان سب ممالک کو پیچھے چھوڑ گیا۔ آج امریکہ کو اپنی عظمت کی بقاء کی فکر لاحق ہے۔ اور مجھے آنحضورؐ کی وہ حدیث بار بار یاد آ رہی ہے کہ ’’علم حاصل کرو خواہ چین جانا پڑے‘‘۔۔۔ یہ محاورہ نہیں رہا بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت بن چکی ہے کہ چین نے مغربی دنیا کو بھی ’’علم و عمل‘‘ میں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔۔۔ آیئے کچھ اعداد و شمار دیکھتے ہیں:

1۔1978ء سے لے کر آج 2018ء تک،52لاکھ چینی طلباء و طالبات بیرونِ ملک حصولِ تعلیم کے لئے گئے جن میں 84%گریجوایشن کرنے کے بعد واپس لوٹ آئے اور مختلف چینی اداروں میں کام کررہے ہیں۔

2۔گزشتہ برس (2017ء میں) 6لاکھ 10ہزار چینی طلباء بیرون ملک سٹڈی کے لئے گئے جن میں اکثریت یورپ اور شمالی امریکہ (کینیڈا اور امریکہ) جانے والوں کی تھی۔ ان بیرونی ملکوں میں پاکستان بھی شامل ہے۔

3۔اس کے مقابلے میں 4لاکھ 90ہزار طلباء ، بیرونی ممالک سے چین میں آئے جن میں جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور پاکستانی طلباء کی تعداد بالترتیب زیادہ تھی۔ چوتھے نمبر پر امریکی طلباء تھے جو تحصیلِ علم کے لئے چین آئے۔ان ممالک سے چین میں آنے والے طلباء میں 49ہزار ایسے طلباء بھی شامل ہیں جن کو چینی حکومت نے وظائف دیئے اور ان کے قیام و طعام کا بندوبست بھی کیا۔

4۔ اپریل 2018ء میں چین نے اپنی یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں میں مختلف مضامین کی تدریس کے لئے پاکستانی طلباء کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی۔چنانچہ پاکستان کے ہزاروں طلباء آج چین کے مختلف ٹیکنیکل اور دوسرے تعلیمی/تدریسی اداروں میں نہ صرف چینی زبان سیکھ رہے ہیں بلکہ ساتھ ہی چھوٹی دستکاریوں اور کاٹیج انڈسٹری کے باب میں بھی تحصیلِ ہنر کر رہے ہیں۔ یہ طلباء واپس آکر پاکستان کی معیشت کو ترقی دینے میں بہت معاون ثابت ہوں گے۔

پی ٹی آئی حکومت نے جناب شفقت محمود کو مرکزی وزیر تعلیم مقرر کیا ہے۔ بیرونی ممالک میں حصولِ تعلیم کا شعبہ انہی کے ماتحت ہے۔ ان کی وزارت میں اس بارے میں تازہ ترین معلومات اور اعداد و شمار موجود ہوں گے۔ شفقت صاحب خود اعلیٰ تعلیم و تجربے کے حامل ہیں، سابق بیورو کریٹ ہیں اور ان سے زیادہ کوئی دوسرا شخص اس وزارت کا اہل شاذ ہی ہوگا۔ ان کو چاہیے کہ وہ اس شعبے کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دیں۔ حصولِ علم ، جدید ترقی کا زینہ ہے۔ ملک میں پڑھے لکھے نوجوانوں کی کمی نہیں۔ پی ٹی آئی اپنے منشور میں بار بار اعادہ کرتی رہی ہے کہ وہ اپنی تعلیم یافتہ پاکستانی نفری کو اس علم و ہنر سے بہرہ ور کرے گی جو نئے پاکستان کی تعمیرِ نو میں کام آئے گا۔۔۔۔اب وقت آگیا ہے کہ اس ٹارگٹ پراٹیک کیا جائے!

مزید : رائے /کالم