ڈینٹل سرجن صدر پاکستان بن گیا،کیاڈینٹسٹوں کے دن پھر جائیں گے ؟

05 ستمبر 2018 (00:51)

شاہد نذیر چودھری

پاکستان میں اگرچہ صدارتی نظام نہیں رہا لیکن اس پارلیمانی نظام میں بھی صدر وفاق کی مضبوط ترین علامت ہے ،وہ وزیر اعظم کی ہدایت پر عمل کرتا ہے لیکن اسکو عضو معطل یا ڈمی کریکٹر نہیں کہا جاسکتا ،اسکا کہا لکھا اثر دکھاتا ہے ۔وہ چاہے تو پورے ملک میں تبدیلی لانے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے ۔ ڈاکٹر عارف علوی ماشاء اللہ سے پاکستان کے تیرہویں صدر منتخب ہوگئے ہیں ۔جمہوری طر زانتخاب میں انکے مقابل دوطاقتور امیدوار بیرسٹر اعتزاز احسن اور مولانا فضل الرحمن بھی کھڑے تھے جس سے ظاہر ہے انہیں سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ،اسکے باوجود اپوزیشن کے دل میں انکے لئے احترام موجود ہے اور اسکی وجہ محض یہ نہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے دیرینہ کارکن اور رہ نما ہیں بلکہ ان کا ذاتی اور سیاسی کردار عمران خان کے سیاست میں در آنے سے پچیس تیس سال پہلے شروع ہوگیا تھا جو ان کے لئے وجہ توقیر ہے ۔پیشے کے اعتبار سے وہ ڈینٹسٹ اور منجھے ہوئے دندان ساز مشہور ہوئے لیکن جوانی میں سیاست کا چسکا ان کے خون میں شامل تھا لہذا وہ طالب علم جنہوں نے سیاست میں نام کمایا، بعد ازاں جب انہیں اقتدار میں آنے اور قومی سیاست میں کردار ادا کرنے کا موقع ملا توان کے اندر کا منجھا ہوا سیاستدان لازمی برآمد ہوا ۔صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو یہ اعزاز وامتیازحاصل ہے ۔

قومی یک جہتی اور سارے صوبوں اور سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنے کا فرض تو وہ یقینی طور پر نبھائیں گے ،اسکی توقع پارلیمان کے نمائیندگان کو بھی ہے لیکن ان سے زیادہ توقعات پاکستان کے دندان ساز طبقہ نے وابستہ کرلی ہیں ۔وہ ایک ڈینٹسٹ کے صدر پاکستان منتخب ہونے پر بے حد خوش بھی ہیں ،ان کے انتخاب کے بعد سوشل میڈیا پر ڈاکٹروں نے ڈینٹسٹ حضرات کو مبارکبادیں   ہیں اور انہیں مشورے بھی دئے ہیں کہ ایک ماہر ترین ڈینٹسٹ پاکستان کا سدر بن گیا ہے تو اپنی کمیونٹی کے لئے لازمی کچھ کرکے رہے گا ۔لوگ اب تمہیں بھی دندان ساز کی بجائے ڈاکٹر کہیں گے خاص طور پر ایم بی بی ایس طبقہ، چونکہ یہ دور پراپوگنڈے اور منفی سیاست و ناامیدی کا چل رہا ہے اس لئے بہت سے ڈینٹسٹ ناامید بھی ہیں البتہ موہوم سی امید کے ساتھ وہ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی جانب دیکھتے ہوئے انہیں یاد کرانا چاہ رہے کہ جس طرح قائد اعظم کو سب سے زیادہ سپورٹ انکی بہن فاطمہ جناح نے دی تھی جو کہ خود ڈینٹسٹ تھیں ،اسیطرح صدر پاکستان اپنی جماعت کے بانی وزیر اعظم عمران خان کے سنگ چلتے ہوئے انہیں مضبوط سہارا بھی دیں گے اور ملک میں میڈیکل سائنس کی ترقی کا نیا دور شروع کریں گے ۔تاریخ نے پہیہ گھمایا ہے تو ملک میں تبدیلی کا پہیہ گھماتے ہوئے میڈیکل ایجوکیشن میں ڈینٹسٹ حضرات کا نام بھی بلند کردیں۔عمران خان اور ڈاکٹر عارف علوی میں ہیلتھ کے شعبے میں کافی قدر مشترک ہیں لہذا وہ میڈیکل سائنس کے میدان میں ترجیحی کام لازمی کریں گے ۔

  بطور ڈینٹسٹ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو یہ بتانے کی تو ہر گز ضرورت نہیں ہوگی کہ پاکستان میں ڈینٹسٹ کی کیا قدرو قیمت ہے ؟ ڈینٹل کالجز کا قحط پڑا ہے ،اسکے مقابلہ میں ایم بی بی ایس کالجز کی بھرمار ہوچکی ہے جبکہ پورے ملک میں نجی و سرکاری سطح پر آٹھ دس  ڈینٹل کالجز  ہیں ۔پوسٹ گریجویشن کی سہولتیں تو بالکل ناکافی ہیں ۔فارنرز کے لئے تو یہاں تعلیم حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے۔ڈینٹل سرجن بننے کے باوجود انہیں معاشرے میں تحقیر کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ایم بی بی ایس ڈاکٹر بھی انہیں اپنا ہم پلہ نہیں سمجھتے۔ حالانکہ پاکستان کے برعکس یورپی ممالک و کینیڈا و امریکہ میں ڈینٹل ڈاکٹر سب سے مہنگا ہوتا ہے ۔میں کئی ایسے واقعات سن چکا ہوں کہ کینیدا میں مقیم جب کسی پاکستانی کو دانتوں کا زیادہ مسئلہ پیش آتا ہے تو وہ ٹکٹ کٹا کر پاکستان آجاتا ہے ۔کینیدا میں ڈینٹل سرجن بہت مہنگے ہٰیں  ،اسکے برعکس ان پاکستانیوں کو ٹکٹ سستی ملتی ہے اور یہاں چند ہزار میں دانتوں کا علاج بھی کرالیتے اور عزیزوں سے بھی مل لیتے ہیں۔صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی تو اس بارے عام لوگوں سے زیادہ بہتر انداز میں جانتے ہیں ۔انہوں نے امریکہ سے ڈبل فیلو شپ کررکھی ہے،بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ڈینٹل ڈاکٹر جبڑوں اور دانتوں کی الگ الگ فیلو شپ کرے مگر یہ اعزاز صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو حاصل ہے لہذا ڈینٹسٹری کے شعبے میں بے پناہ تعلیم حاصل کرنے اور پریکٹس کا عالمی تجربہ رکھنے والے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے لئے اس شعبے کو اسکے پیروں پر کھڑا کرنا کوئی مشکل نہیں ہوگا ۔وہ ڈینٹل کونسل آف پاکستان کے صدر بھی رہ چکے ہیں تو ایسی باریکیاں بھی جانتے ہیں کہ وہ کیا مشکلات ہوسکتی ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں ڈینٹسٹری ایجوکیشن اینڈ پریکٹس کو زوال آیا ہے ۔اب انہیں اس شعبہ کو اسکے عروج کی طرف گامزن کرنا ہوگا ،وہ اگلے پانچ سالوں میں یہی ایک کام کرجائیں تو آنے والی نسلیں جب اپنے دانتوں کی صحت کا حوالہ دیں گی تو ایک انقلابی ڈینٹسٹ کو لازمی یاد رکھیں گیں ۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں