پیپلز پارٹی اعتزاز احسن کی کامیابی کے بارے میں خوش فہمی کا شکار کیوں تھی ؟

پیپلز پارٹی اعتزاز احسن کی کامیابی کے بارے میں خوش فہمی کا شکار کیوں تھی ؟
پیپلز پارٹی اعتزاز احسن کی کامیابی کے بارے میں خوش فہمی کا شکار کیوں تھی ؟

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

حکمران جماعت تحریک انصاف اور اتحادیوں کے مشترکہ امیدوار ڈاکٹر عارف علوی صدر منتخب ہوگئے ہیں، اور جو صورت حال پیدا ہوگئی تھی اس میں ان کی جیت یقینی بھی تھی، کیونکہ مخالف جماعتیں الیکشن جیتنے کے لئے نہیں لڑ رہی تھیں، محض یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ اگر متفقہ امیدوار ہو تو وہ جیت جائے گا، لیکن اس کے بارے میں بھی پیپلز پارٹی نے اپنے طور پر یہی طے کیا ہوا تھا کہ متفقہ امیدوار کوئی اور نہیں اعتزاز احسن ہی ہوں گے اور نہ صرف باقی اپوزیشن جماعتیں ان کے نام پر اتفاق کرلیں بلکہ ان کا یہ دلچسپ مطالبہ بھی تھا کہ عارف علوی بھی دستبردار ہو جائیں کیونکہ اعتزاز احسن سب سے بہتر امیدوار ہیں۔ ایک موقع پر سید خورشید شاہ نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ اعتزاز احسن کا نام تو اصل میں فواد چودھری نے تجویز کیا تھا، جبکہ وہ تو یہ بات نہیں مانتے اور نہ منطق کی رو سے یہ کسی بھی طرح روا ہے کہ جو جماعت اپنا امیدوار کامیاب کرانے کی پوزیشن میں تھی اور اب اس نے جتنی آسانی کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے اس کے بعد اس کے دعوؤں کی صداقت پر بھی یقین کرنا پڑتا ہے، لیکن پیپلز پارٹی نہ جانے کس قسم کی اطلاعات کی بنیاد پر یہ یقین کر بیٹھی تھی کہ اگر مولانا فضل الرحمن دستبردار ہو جائیں تو اعتزاز احسن ضرور جیت جائیں گے، چنانچہ پوری انتخابی مہم میں پیپلز پارٹی کا سارازور مولانا فضل الرحمن کو دستبردار کرانے پر تھا اور اس نکتے پر زور دیا جا رہا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کو تو پیپلز پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے پاس اس لئے بھیجا تھا کہ وہ متفقہ امیدوار کی راہ ہموار کریں، ایسا بھی ہوسکتا تھا، لیکن ہوا اس لئے نہیں کہ پیپلز پارٹی نے چودھری اعتزاز احسن کے نام پر غیر معمولی اصرار شروع کر دیا تھا، جب یہ تجویز آئی کہ پیپلز پارٹی تین نام دے دے جن میں سے ایک باقی جماعتوں کو قبول ہوگا تو بلاول بھٹو نے محکم انداز میں جواب دیا کہ ہمارا پہلا نام بھی اعتزاز ہے، دوسرا بھی اور تیسرا۔ اس حد تک دو ٹوک اعلان کے بعد کیا یہ گنجائش باقی رہ گئی تھی کہ متفقہ امیدوار کی جانب کوئی پیش قدمی جاری رہتی؟ کیونکہ پیپلز پارٹی جب ’’متفقہ امیدوار‘‘ کی بات کرتی تھی تو اس سے اس کی مراد صرف اعتزاز احسن ہوتی تھی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ دوسری جماعتوں کو ایسی کون سی مجبوری تھی کہ وہ ہر حالت میں چودھری اعتزاز احسن کے نام پر اتفاق کرتیں اور وہ بھی پیپلز پارٹی کے اس تحکمانہ فیصلے کے بعد؟ میرا خیال ہے کہ سارا معاملہ پیپلز پارٹی کے اصرار نے خراب کیا اور پھر مسلم لیگ (ن) بھی مولانا فضل الرحمن کے نام پر ڈٹ گئی۔ اگرچہ انہیں دستبردار کرانے کی کوششیں آخر دم تک جاری رہیں اور یہ تاثر بھی پختہ کیا گیا کہ اعتزاز احسن لازماً جیت جائیں گے، اگر فضل الرحمن ان کے حق میں دستبردار ہو جائیں، کیونکہ پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کا خیال تھا کہ تحریک انصاف کے بہت سے ارکان بھی اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں گے اور پارٹی پالیسی کا لحاظ نہیں رکھیں گے۔ غالباً پیپلز پارٹی کے حلقوں میں یہ تاثر باقاعدہ پیدا کیا گیا تھا تاکہ وہ اعتزاز احسن کے نام سے ادھر ادھر نہ ہو جائے، کیونکہ یہ تاثر پیدا کرنے والوں کو یہ بھی یقین تھا کہ مسلم لیگ (ن) اعتزاز احسن کے نام پر کبھی اتفاق نہیں کرے گی، اس طرح اپوزیشن کے دو امیدواروں کی صورت میں عارف علوی کے لئے میدان ہموار ہوجاتا اور واک اوور کی پوزیشن پیدا ہو جاتی، اور عملاً ہوا بھی یہی، مولانا فضل الرحمن کو 185 ووٹ ملے جبکہ چودھری اعتزاز احسن کو 124 ووٹ حاصل ہوئے۔ دونوں کے ووٹ مل کر 309 بنتے ہیں، جو عارف علوی کو ملنے والے ووٹوں سے 44 کم ہیں، ایسے میں نہ جانے کس امید پر یہ یقین کرلیا گیا تھا کہ اعتزاز احسن جیت جائیں گے۔ کسی بھی مرحلے پر پیپلز پارٹی نے یہ تاثر نہیں دیا کہ وہ اپنے امیدوار کے سوا کسی دوسرے امیدوار پر اتفاق کرسکتی ہے۔ جب کاغذات نامزدگی داخل ہوگئے اور یہ طے ہوگیا کہ مولانا فضل الرحمن اور اعتزاز احسن ہی امیدوار ہوں گے تو پھر پوری دوڑ دھوپ اس ایک نکتے پر آکر ٹھہر گئی کہ مولانا کو دستبردار کرایا جائے۔ یہاں تک کہ آخری روز مولانا فضل الرحمن نے یہ کہہ دیا کہ شہباز شریف کو منا لیں تو میں دستبردار ہو جاتا ہوں۔ پیپلز پارٹی نے یہ کوشش بھی کر دیکھی، لیکن اس شہباز شریف کو منانا کون سا آسان کام تھا جسے پیپلز پارٹی نے ووٹ نہیں دیا تھا اور مسلم لیگ (ن) سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کوئی اور امیدوار لے آئے۔ دونوں معاملات میں پیپلز پارٹی کا رویہ غیر سیاسی رہا یعنی وہ ہارتے ہوئے شہباز شریف کو بھی ووٹ دینے پر آمادہ نہیں تھی۔ فرض کریں اگر شہباز شریف کا انحصار پیپلز پارٹی کے ووٹوں پر جیت کے لئے ہوتا تو تصور کیا جاسکتا ہے، اس کا طرز عمل کیا ہوتا؟

اب صدارتی انتخاب تو ہوگیا، تحریک انصاف اور اتحادی کامیاب ہوگئے، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں ہار گئیں اور یہ تصور بھی بری طرح مجروح ہوگیا کہ تمام اپوزیشن متحد ہے۔ پیپلز پارٹی نے تو بار بار اس تاثر کی نفی کی کہ دونوں جماعتوں میں کوئی اتحاد ہے۔ اب نظر آتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو اپنی سیاست کرنا ہوگی اور پیپلز پارٹی جیسے چاہے مستقبل میں سیاست کرے۔ اپوزیشن متحد ہے اور نہ ہی فوری طور پر ایسا کوئی امکان ہے کہ یہ متحد ہو جائے۔ اس لئے راوی تحریک انصاف کے لئے چین ہی چین لکھتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ حالات کوئی ایسا رخ اختیار کرلیں جو مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کے لئے سازگار ہوں۔

مزید : تجزیہ