اللہ والوں کے قصے۔۔۔قسط نمبر1

اللہ والوں کے قصے۔۔۔قسط نمبر1
اللہ والوں کے قصے۔۔۔قسط نمبر1

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حضرت خواجہ حسن بصریؒ

ایک روزحضرت بصریؒ اپنی عبادت گاہ کے بالا خانے پر بیٹھے رو رہے تھے۔اور کثرتِ گریہ سے آنسو رخسار پر بہہ رہے تھے۔ ایک آدمی نیچے سے گزرا۔ اس کے اُوپر چند آنسو گر گئے۔ اس نے اُوپر دیکھ کر پوچھا۔” اے شخص ! یہ قطرے جو مجھ پر گرے ہیں پاک تھے یا نا پاک ۔“

آپؒ نے فرمایا ۔ ” بھائی ! یہ مجھ گناہ گار کے ناپاک آنسو ہیں ۔ انہیں ڈھو ڈالو۔“

٭٭٭

ایک مرتبہ حضرت حسن بصریؒ نے اپنے ملازم سے فرمایا ۔ ” افطاری کے لیے بازار سے روٹی اور مچھلی کے کباب لے آﺅ۔ “

ملازم نے تعمیل کی۔ جب افطاری کا وقت آیا تو آپ نے ملازم سے فرمایا۔ ” یہ کباب اور مزے کا کھانا؟ مجھ جیسے فقیر سے اس کا کیا تعلق؟“

ملازم نے عرض کیا۔ ” آپ ہی نے تو یہ کھانا لانے کے لیے فرمایا تھا۔“

آپ نے سن کر سر جھکا لیا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا۔

” باری تعالےٰ ! میں نے دنیا کی نعمتوں پر دھیان دیا۔ مجھ سے بھول ہوئی۔ میرا نام کہیں درویشوں کی فہرست سے مٹادینا۔“

٭٭٭

ایک مرتبہ ایک خوب صورت عورت ننگے سر ، ہاتھ منہ کھولے ، غصہ میں بھری ہوئی حضرت حسن بصریؒ کی خدمت میں شوہر کی شکایت لے کر آئی۔ آپ نے فرمایا۔” اے نیک بخت ! پہلے اپنے سر منہ کو ڈھانپ لے پھر اپنے شوہر کی شکایت بھی کرلینا۔“

عورت شرمندہ ہوئی اور بولی۔”معاف کیجئے، میں اپنے شوہر کی محبت میں ازخود رفتہ ہوگئی تھی ۔ اسی وجہ سے مجھے اپنے تن بدن کا جوش نہ رہا۔“

آپ نے اس کی یہ بات سن کر اپنے دل میں کہا۔” اے حسن! اگر تو بھی اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی دوستی میں ایسی ہی محویت سے کام لیتا تو تجھے معلوم ہی نہ ہوتا کہ اس عورت کے سر پر کپڑا ہے یا نہیں۔“

٭٭٭

ایک روز حضرت حسن بصریؒ وعظ کہہ رہے تھے۔ اتفاقاً حجاج بن یوسف شمشیر برہنہ لیے چند سپاہیوں کے ہمراہ ادھر آنکلا۔

ایک شخص جو آپ کی مجلس میں موجود تھا۔ اپنے دل میں کہنے لگا کہ آج حسن بصریؒ کا امتحان لینا چاہیے۔ یعنی دیکھنا یہ چاہیے کہ حضرت حسن بصریؒ حجاج جیسے ظالم و سفاک حاکم کے ساتھ بھی وعظ میں مشغول رہتے ہیں یا اس کی تعظیم کے لیے وعظ سے اُٹھ کر چلے جاتے ہیں۔

اسی اثنا میں حجاج ان کے قریب آیا اور چاہا کہ آپ کی جانب متوجہ ہوں اور اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوتے لیکن آپؒ نے حجاج کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا اور اسی وعظ فرماتے رہے۔

تب اس شخص نے اپنے دل میں کہا کہ حسن بصریؒ واقعی حسنؒ ہیں۔

جب آپ وعظ کہہ چکے تو حجاج آپ کے پاس گیا اور مصافحہ کر کے لوگوں سے کہنے لگا۔

” اے لوگو! اگر تم چاہو کہ کسی مرد کو دیکھو تو حسنؒ کو دیکھ لو۔“

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئےیہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے