اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 31

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 31

  

’’ تمہارے ماں باپ بابل شہر سے کسی دور دراز ملک میں کیوں نہیں چلے جاتے ۔ پھر تم یہاں سے فرار ہونے کے لئے آزاد ہوگے۔‘‘ ماروت نے کہا

میں نے جواب دیا ۔ ’’ میرے پاس یہاں ایسا کوئی ذریعہ نہیں ہے جس سے مجھے یہ پتہ چل سکے کہ میرے ماں باپ اور بہن بھائی بھی بابل چھوڑ کر اپنے وطن واپس جاچکے ہیں۔‘‘

ہاروت اور ماروت خاموش ہوگئے۔ انہوں نے آنکھیں بند کر لیں۔ دونوں ہاتھ جوڑ کر اوپر اٹھائے اور منہ ہی منہ میں خداوند کریم سے اپنی لغزشوں کی معافی طلب کرتے ہوئے آہستہ آہستہ بڑبڑانے لگے۔ میں بھی خاموش تھا اور دل میں سوچ رہا تھا کہ کس طریقے پر عمل کروں کہ بڑی خاموشی کے ساتھ چاہ بابل سے فرار ہو جاؤں۔ اس کا ایک ہی طریقہ تھا اور وہ تھا کہ میں غائب ہوجاؤں۔ مگر غائب نہیں ہوسکتا تھا اور ویسے اگر سمیری سپاہیوں سے لڑ بھڑ کر اور انہیں ہلاک کرتے ہوئے چاہ بابل سے فرار ہوتا ہوں تو سب کو میرے فرار کا علم ہوجائے گا اور میرے بعد چار انسانوں کو بے دردی سے قتل کرا دیا جائے گا۔ یہ چار بے گناہ انسان میرے پاؤں کی زنجیریں گئے تھے اور مجھے چاہ بابل سے باہر قدم نہیں دکھنے دیتے تھے۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 30پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس ہولناک مقام پر وقت یوں گزررہا تھا جس طرح کوئی سانپ جگہ جگہ سے زخمی ہونے کے بعد کھیت میں رینگ رہا ہوتا ہے۔ اور اپنی موت کی طرف بڑھ رہا ہوتاہے۔ چاہ بابل کے قیدی بھی اسی زخمی سانپ کی طرح وقت کی تاریک بھیانک سرنگ میں رینگنے ہوئے اپنی منزل کی طرف بڑھ رہے تھے اور یہ منزل تھی ان کی موت ۔ ان کی زندگی کے دکھوں کی نجات د ہندہ موت! لیکن میرے منزل موت نہیں تھی۔ میں صدیوں سے زندہ تھا اور ابھی کئی صدیوں تک مجھے زندہ رہنا تھا۔ شاید ایک برس گزر گیا ۔ اس عرصے میں کئی قیدی موت کی نیند ہوگئے اور ان کی کوڑھ زدہ لاشوں کو رسیوں سے کھینچ کر باہر لے جاکر سپرد آتش کر دیا گیا۔ ایک روز میرے ساتھ والے تہہ خانے میں ایک بد قسمت قیدی نے داعی اجل کو خوشی خوشی لبیک کہا۔ تین دن گذر گئے۔ میں نے جب وہ مرا تو تھوڑی دیر بعد زمین پر پتھر سے لکیریں کھینچنا شروع کر دیں۔ میرے اندازے کے مطابق ہر ایک لکیر کے درمیان آدھی ساعت کا وقفہ تھا۔ میرے حساب سے جب تین دن گذر گئے تو لاش سے عفونت اٹھنے لگی پھر وہ سمیری سپاہی منہ سر لپیٹے رسے ہاتھ میں لئے آئے ۔ انہوں نے لاش کے پاؤں میں رسے باندھے اور اسے گھسیٹتے ہوئے زمین دوز تہہ خانے کے دروازے سے باہر لے گئے۔

میں انہیں لوہے کے بڑے دروازے کے اوپر والی پتھریلی جالی سے لگا دیکھ رہا تھا۔ لاش کو وہ چاہ بابل کی دیوار کے ساتھ گول چکر کی شکل میں اوپر جاتے ہموار زینے پر کھینچے لئے جا رہے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ لاش کو چاہ بابل سے باہر جا کر جلاتے تھے۔ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح چمکا۔ یہ خیال اس سے پہلے میرے ذہن میں نہیں آیا تھا اور میں حیران تھا کہ اس قدر اچھوتا خیال مجھے پہلے کیوں نہیں سوجھا۔ میں پاؤں کی بھاری بیڑیاں گھسیٹتا واپس اپنی کوٹھری میں آگیا۔ میں نے دروازے کی جالیوں میں سے دیکھ لیا تھا کہ باہر دن کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ اب میں ساعتوں کو اندازے کے مطابق شمار کرتے ہوئے ایک خاص وقت کا انتظار کرنے لگا۔ مجھے معلوم تھا کہ تین دن بعد دو سپاہی مرتبان میں سوکھے ٹکڑے اور مٹکوں میں پانی ڈالنے آئیں گے۔ میں نے ایک ایک ساعت کا حساب رکھنا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی ہاروت اور ماروت کے پاس گیا اور انہیں اپنی ترکیب بتائی اور کہا کہ میں اس جہنم سے فرار ہو رہا ہوں۔۔۔

’’ مگر اس ترکیب پر عمل کرو گے تو تم آگ میں جل کر راکھ ہوجاؤ گے۔‘‘ ہاروت نے کہا۔

میں ے کہا ’’ یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں کہ میرا انجام کیا ہوگا۔ بہرحال میں آپ سے یہ عرض کرنے کے لئے آیا تھا کہ باہر جاتے ہی میں آپ کو بھی اس جہنم سے نکالنے کی کوشش کروں گا۔‘‘

ماروت نے آسمان کی طرف منہ اٹھایا اور کہا ’’ اے دوست !! ہم بادشاہ حموربی کی گرفت میں نہیں ہیں بلکہ ہم خدا کے عذاب کی گرفت میں ہیں۔ جب ہماری گرفت کی مدت پوری ہوجائے گی تو خداوند کریم ہمیں معاف کردے گا اور وہ خود ہمیں اس جہنم سے نجات دلا دے گا۔ ہمیں کسی دنیاوی مدد کی حاجت نہیں ہوگی۔ ‘‘

میں خاموش رہا ۔ کیونکہ ان راسخ العقیدہ نوجوانوں کو قائل کرنا بہت مشکل تھا اور ان کی زندگیوں کے طریق کار کو سامنے رکھا جائے تو وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے۔

بہرحال میں نے اپنی ترکیب پر عمل کرنے کے لئے ساعتوں کے حساب سے ایک خاص وقت چن لیا اور ایک ستون کے پاس آکر پانی کے آدھے خالی مٹکے کے پاس آکر یوں لیٹ گیا جیسی میں دم توڑ دیا ہو۔ میں دیر تک وہاں پڑا رہا۔ ایک دو کوڑھی قیدی رینگتے ہوئے پانی لینے کے لئے میرے قریب سے گزر کر مٹکے کے پاس گئے۔ انہوں نے ایک پل کے لئے رک کر میرے چہرے کو اپنی اداس سیاہ حلقوں والی ویران آنکھوں سے دیکھا۔ ایک دوسرے سے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر نقاہت اور بیماری کی شدت کے باعث ان کے حلق سے کوئی لفظ نہ نکل سکا۔ صرف ایک خرخراہٹ کی ڈراونی آواز بلند ہوئی اور وہ جانوروں کی طرح پانی پی کر رینگتے ہوئے اپنی بیڑیوں کو جھنجھناتے ہوئے واپس چلے گئے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار