” اگلی عید پر بکرے کی کھالیں ۔۔۔ “ لاہور فیشن شو میں ڈیزائنر نے ماڈلز کو ایسا قابل اعتراض لباس پہنا دیا کہ سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہوگیا

” اگلی عید پر بکرے کی کھالیں ۔۔۔ “ لاہور فیشن شو میں ڈیزائنر نے ماڈلز کو ایسا ...
” اگلی عید پر بکرے کی کھالیں ۔۔۔ “ لاہور فیشن شو میں ڈیزائنر نے ماڈلز کو ایسا قابل اعتراض لباس پہنا دیا کہ سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہوگیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف فیشن ڈیزائنر حسین ڈیہڑ کی جانب سے لاہور میں ہونے والے فیشن شو کے دوران کپڑوں کے نئے ڈیزائن متعارف کرائے گئے ہیں ۔ ڈیزائنر کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے کپڑوں میں مغربی فیشن کی جھلک نمایاں ہے جس کی وجہ سے پاکستانیوں کو یہ آنکھ نہیں بھائے اور سوشل میڈیا پر ڈیزائنر کو کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ حسین ڈیہڑ نے 2 ماڈلز کے ساتھ اپنی ایک تصویر شیئر کی تو اس پر بھی طوفان امڈ آیا اور لوگوں نے انہیں خوب آڑے ہاتھوں لیا۔

فیشن ڈیزائنز حسین ریہڑ کی ماڈلز کے ساتھ یہ تصویر دیکھ کر میمونہ نے سندھی میں شلواریں نہ ہونے پر اعتراض کیا ۔ ایشا نے پوچھا کہ شلوار کے لیے کپڑا نہیں تھا جبکہ میرا گل نے دونوں خواتین کو بے شرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ شلوار پہن کر آنی چاہیے تھی۔

سعد فاروق نے لکھا ’ اگلی عید پر بکرے کی کھالیں ان غریب مستحق بہن بھائیوں کو دے کر ثواب دارین حاصل کریں ‘۔

کسی نے اسے فتنہ قرار دیا تو کوئی اسے بیہودگی کہتا رہا ، ایک صارف نے سوال اٹھایا کہ آخر اس فیشن شو میں لڑکیوں کی شلواریں کہاں غائب ہوگئی تھیں؟۔

عندلیب نے شر میں سے خیر کا پہلو نکالتے ہوئے انتہائی اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی اور بتایا کہ تصویر میں نظر آنے والی خاتون نے جوتی بھی نہیں پہنی اور یہ ایسی لگ رہی ہے جیسے ہم بچوں کی نیکر اتار کر کہتے ہیں جاﺅ واش روم خود کرکے آﺅ۔

سنبل اقبال کو اس تصویر میں ڈارون کی تھیوری کا پریکٹیکل نظر آیا، انہوں نے لکھا سنا تھا کہ انسان پہلے بند تھا ، آج دیکھ بھی لیا۔

ایشا وحید نے کہا کچھ تو شرم کرو ، آپ لوگ پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہو اور پاکستان ایک مسلمان ملک ہے۔

عبداللہ صدیقی نے کہا کہ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن یہی نیا پاکستان ہے۔

مزید : لائف سٹائل /تفریح