عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر63

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر63
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر63

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اگلے لمحے گھوڑا ہوا میں اڑ رہا تھا ۔’’رومیلی حصار‘‘ یہاں سے کافی فاصلے پر تعمیر ہورہاتھا ۔ جبکہ قاسم کم سے کم وقت میں ’’مصلح الدین آغا ‘‘ تک اپنی بات پہنچا کر واپس بستی میں آنا چاہتا تھا ۔ اس نے اس طرف روانہ ہونے سے پہلے روزی سے اس طرف کا راستہ معلوم کر لیا تھا ۔ اسے معلوم تھا کہ راستے میں یونانی سپاہیوں کے ساتھ مڈبھیڑ ہونے کا اندیشہ بھی ہے۔ وہ پوری طرح تیار ہوکر نکلا تھا ۔ اور اب گھوڑے کی گردن پر جھکا تیز ہوا کا سامنا کررہا تھا ۔ جو گھوڑے کے سرپٹ دوڑنے سے اسے لگ رہی تھی۔ اپنے اندازے کے مطابق جب وہ بخیر و عافیت ’’رومیلی حصار ‘‘ کے علاقے میں پہنچ گیا تو اس نے گھوڑے کی باگیں کھینچ لیں۔ اسے یقین تھا کہ یہیں کہیں عثمانی فوج کے ترک سپاہی کسی ہوشیار چیتے کی طرح چوکنے پہرا دے رہے ہوں گے۔ اب وہ گھوڑے کی دلکی چال سے آگے بڑھنے لگا۔ اسے اندازہ تھا کہ یہیں کہیں جنگی قلعہ ’’رومیلی حصار‘‘کی تعمیر ہورہی ہے۔ لیکن رات کی تاریکی میں وہ تعمیر تو ملاحظہ نہیں کر سکتا تھا ۔ چنانچہ وہ محتاط انداز میں آگے بڑھنے لگا۔ دن کی روشنی میں وہ جب ایک مرتبہ ’’رومیلی حصار‘‘ کی جانب آیا تھا ۔ تو اس وقت اس نے عام شاہراہ کا لمبا راستہ اختیار کیا تھا۔آج وہ کم وقت میں اور خفیہ طریقے سے اس طرف آنا چاہتا تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے ساحل کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے انجیر کے گھنے درختوں کا راستہ لیا۔ابھی وہ کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ اسے اپنے سامنے آہٹ سنائی دی۔ اور پھر اگلے لمحے اسے مسلمان سپاہیوں کا ایک پورا دستہ نظر آگیا۔ جو ایک ساعت پہلے درختوں اور جھاڑیوں کی اوٹ میں تھا ۔ ترک سپاہیوں نے قاسم کو اپنے نرغے میں لے لیا۔ان کے ہاتھوں میں ننگی تلواریں تھیں۔ اور وہ گھیرا تنگ کرتے ہوئے قاسم کے نزدیک آگئے۔

قاسم نے اپنا چہرہ ایک رومال سے چھپا رکھا تھا ۔ اور اپنی تلوار نکالے بغیر ترک سپاہیوں کے سردار کو دیکھ رہا تھا۔کچھ دیر بعد قاسم نے بولنے میں پہل کی۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر62پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!.............الحمد اللہ ! میں مسلمان سپاہیوں میں ہوں........آپ لوگ مجھے انجینئر ’’مصلح الدین آغا‘‘ سے ملوادیجیے!‘‘

قاسم کے الفاظ سے دستے کے سوار چونکے۔ اور پھر سردار نے آگے بڑھ کر قاسم سے سوال کیا:۔

’’تم کون ہو؟اور مصلح الدین آغا سے تمہیں کیا کام ہے؟‘‘

قاسم کو ایسے لگا جیسے وہ شخص خود ’’مصلح الدین آغا‘‘ ہی ہے۔ قاسم ’’ادرنہ ‘‘ میں اس سے مل چکا تھا ۔ اور سلطان کے دربار میں بھی وہ دونوں ا کٹھے ہوتے رہتے تھے ۔ قاسم نے پھر بھی اپنے چہرے سے کپڑا نہ ہٹایا۔ بلکہ ’’مصلح الدین آغا‘‘ سے کہا:۔

’’ میں آپ کا دوست ہوں۔ اور ایک اہم پیغام آپ تک پہنچانے کے لیے آیا ہوں.........آپ مجھے پہچانتے ہیں۔ لیکن میں اپنا چہرہ آپ کو علیحدگی میں دکھاؤں گا۔مصلح الدین آغا کے کانوں کو قاسم کی آواز مانوس محسوس ہوئی لیکن وہ اسے پہچان نہ سکا۔ اس نے اپنے سپاہیوں کو ایک طرف ہوجانے کا اشارہ کیا ۔ اور ترک سپاہی ایک طرف ہٹ کر کھڑے ہوگئے۔ قاسم نے مصلح الدین آغا کے سامنے اپنے چہرے سے رومال ہٹاتے ہوئے کہا:۔

’’اچھا ہوا آپ مجھے یہیں مل گئے۔ سلطان تک ایک پیغام پہنچانا ، بہت ضروری تھا ۔ اور میرے پاس آپ کے سوا کوئی ذریعہ نہ تھا ۔‘‘

مصلح الدین آغا قاسم کو پہچان چکا تھا ۔ اس نے خوشی سے چیختے ہوئے قاسم کا نام لینا چاہا۔ لیکن قاسم نے اسے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور کہا:۔

’’میرے پاس وقت بہت کم ہے۔ آپ میرے کام کی نوعیت سمجھتے ہیں۔ میں ابھی اور اسی وقت یہاں سے لوٹ جاؤں گا ۔ آپ سلطان تک یہ پیغام پہنچادیجیے! کہ عیسائیوں کے دونوں بڑے فرقوں میں اتحاد ہوچکا ہے۔ اور ’’پاپائے روم‘‘ قسطنطنیہ کی امداد کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔لہٰذا مغربی یورپ کی جانب سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘

مصلح الدین آغا نے قاسم کا پیغام غور سے سنا۔ اور سلطان تک پہنچانے کا وعدہ بھی کیا ۔ اب قاسم کے لیے مزید وہاں رکنا غیر ضروری تھا ۔ وہ فی الفور واپس جانا چاہتا تھا ۔ چنانچہ اس نے مصلح الدین آغا سے اجازت لی اور جس طرف سے آیاتھا اس طرف کی تاریکیوں میں گم ہوگیا ۔مصلح الدین آغا اور اس کے سپاہی اپنی اپنی جگہ ششدر کھڑے اندھیری رات کے اس مسافر کو اپنے سنسان راستوں پر جاتا ہوا دیکھتے رہے۔ قاسم جس رفتار سے آیا تھا ۔ اسی رفتار سے واپس اڑا چلا جارہاتھا ، کہ اسے ایک دم اپنے گھوڑے کی باگیں کھینچنی پڑگئیں۔ اس کے سامنے اچانک یونانی سپاہیوں کا ایک دستہ جو صرف پانچ افراد پر مشتمل تھا ، اس کا راستہ روکے کھڑا تھا ۔ یونانی سپاہیوں کے ہاتھوں میں تیز دھار ننگی تلواریں چمک رہی تھیں۔ اور وہ قاسم کے راستے میں صف باندھے کھڑے تھے۔ اب قاسم کے لیے بھاگنے کی کوئی سبیل نہ تھی۔ چنانچہ اس نے ایک طویل سانس لی۔ اور اپنی تلوار نیام سے باہر نکال لی۔ ان پانچ سواروں میں سے بائیں طرف کھڑے لمبے تڑنگے یونانی ساہی نے گرجدار آواز میں قاسم سے پوچھا:۔

’’کون ہوتم؟ اور اس وقت کہاں سے آرہے ہو؟‘‘

قاسم ایک راہب کی حیثیت سے ان لوگوں کے سامنے اپنا آپ ظاہر نہ کرنا چاہتا تھا ۔چنانچہ اس نے مچھیروں جیسا لہجہ اختیار کرتے ہوئے جواب دیا:۔

’’مچھیرا ہوں جناب! اپنا ایک خچر ڈھونڈنے کے لیے گیا تھا۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے شام ہوگئی۔ لیکن وہ ملا نہیں۔ اب واپس اپنی بستی میں جارہا ہوں۔‘‘

اس جھوٹ سے قاسم کی بات نہ بنی ۔ کیونکہ ایک یونانی سپاہی اسے پہچان چکا تھا ۔ اس کے آسانی سے پہچان لینے کی وجہ تو یہ تھی کہ اس نے آج صبح ہی ’’مقرون‘‘ کے ہمراہ اس رومی لباس والے راہب کو دیکھا تھا ۔ چنانچہ اس نے سپاہی نے تلوار لہراتے ہوئے انتہائی غصے سے کہا:۔

’’تم جھوٹ بکتے ہو۔ میں تمہیں پہچان چکا ہوں۔ تم مچھیرے نہیں۔ وہی رومی راہب ہو۔ جسے آج ہمارے سالار نے خبر دار کیا تھا ........تمہیں ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔ تم اپنے آپ کو حراست میں سمجھو‘‘

اب قاسم نے خود کو چوہے دان میں پھنسا ہوا محسوس کیا ۔ اس کا پول کھل چکا تھا ۔ اور ’’مقرون‘‘ کے پاس پہنچ کر اس کے مارے جانے کے سو فیصد مواقع تھے۔ چنانچہ قاسم نے تلوار لہرائی اور ان پانچوں پر بیک وقت حملہ کردیا۔بہت دن ہوگئے تھے ۔ اسے اپنے بازوؤں کی قوت آزمانے کا موقع نہیں ملا تھا ۔ اس نے بھوکے شیر کی طرح یونانی سپاہیوں پر حملہ کیا ۔ اور تعداد کی پرواہ کیے بغیر پے در پے تابڑ توڑ وار کرتا چلا گیا ۔ اس کی تلوار رعدو صاعقہ کی طرح دشمن کی تلواروں پر برس رہی تھی۔ رات کی تاریکی میں تلواریں آپس میں ٹکراتیں تو ننھی ننھی چنگاریاں فضا میں بکھر جاتیں۔

قاسم کے دوچار ہاتھ دیکھتے ہی یونانی سپاہیوں کو اس کی مہارت اور قوتِ بازو کا اندازہ ہوگیا ۔ وہ اسے گھیرے میں لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن انہیں مسلسل شرمناک ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہاتھا ۔اور پھر قاسم کی تلوار سے بیک وقت دو سپاہی کٹ کر گرے تو ان کے گھوڑے بدک کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اپنے دو سپاہی گرتے دیکھ کر باقی تین بھی ہمت ہار گئے۔ لیکن اب قاسم ان میں کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑنا چاہتا تھا ۔ یہ لوگ قاسم کی اصلیت جان چکے تھے۔ اور اس لیے اس نے تہیہ کر رکھا تھا ۔ کہ وہ ان سب کو واصلِ جہنم کرکے بستی میں لوٹے گا۔ قاسم کی تلوار ایک تیسرے سپاہی کے سر پر ایسے پڑی کہ اس کے وجود کو دوبرابر حصوں میں کاٹ دیا۔ یہ ہیبتناک منظر باقی دو سپاہیوں کے ناقابلِ برداشت تھا ۔ چنانچہ انہوں نے راہِ فرار اختیار کی۔ اور لڑائی کو چھوڑ کر اپنے گھوڑوں کو ایڑھ لگادی۔ ان کا رخ ’’رومیلی حصار‘‘ کی طرف تھا ۔ قاسم نے بھی اپنا گھوڑا ان کے پیچھے چھوڑ دیا ۔ اور دوڑتے ہوئے گھوڑے کی لگامیں چھوڑ کر زین کے ساتھ لٹکی اپنی کمان اتارلی ۔ اگلے لمحے قاسم کا ایک سنسناتا ہوا تیر کمان سے نکل کر ایک سپاہی کے عقب میں لپکا۔ لیکن رات کی تاریکی میں دوڑتے ہوئے گھوڑے سے چلا گیا تیر مفرور یونانی سپاہی کو لگنے کی بجائے اس کے گھوڑے کی پشت میں پیوست ہوگیا ۔گھوڑا بدک کر بری طرح اچھلا۔ اور پھر اپنے سوار کو اپنی پیٹھ پر سے گرانے کے لیے بری طرح کودنے لگا۔ یونانی سپاہی موت کے خوف سے گھوڑے کی پیٹھ پر اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا۔ اور گر پڑا۔ لیکن بدقسمتی سے اس کا ایک پاؤں گھوڑے کی رکاب میں پھنسا رہ گیا تھا۔دوڑتے ہوئے زخمی گھوڑے نے اپنے سوار کی مطلق پرواہ نہ کی۔ اور اسے لیے ہوئے جنگل کے اندر دوڑتا چلا گیا ۔ گرے ہوئے سپاہی کا سر پتھریلی زمین کے ساتھ مسلسل ٹکریں کھاتا جارہا تھا ۔ قاسم نے سوچا کہ اس سپاہی کے بچنے کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی ۔ چنانچہ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی رکنے کی کوشش نہ کی۔ اور آخری یونانی سپاہی کے خاتمے کے لیے برابر تیز رفتاری سے بڑھتا رہا۔ اب مفرور صرف ایک تھا۔اور وہ جس طرف بھی جاتا قاسم اس کے پیچھے تھا ۔ لیکن اس سے پہلے کہ قاسم اس کو جالیتا ۔ ’’رومیلی حصار‘‘ کے قریب پہنچ جانے کی وجہ سے ترک پہریداروں نے اسے دیکھ لیا تھا ۔

پہریداروں کا ایک پورا دستہ اس کے راستے میں حائل ہوچکا تھا ۔ یونانی سپاہی نے اپنے آپ کو چاروں طرف سے گھرے ہوئے دیکھا تو فوراً اپنی تلوار پھینک دی۔ اور زندگی کی بھیک مانگنے کے لیے گڑ گڑانے لگا۔ اب قاسم جیسے غیرت مند جنگجو کے لیے ضروری تھا کہ اسے زندہ چھوڑ دیتا ۔ لیکن وہ قاسم کے راز سے واقف ہوچکا تھا ۔ اور یہ بات اس کے بڑے مقصد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی تھی۔ اس لیے قاسم نے اسے قتل کرنے کی بجائے مسلمان سپاہیوں کو بآوازِ بلند پکارا اور کہا:۔

’’یہ یونانی سپاہی ہے.......اسے گرفتار کرلو۔‘‘

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح