A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

یہ خاتون ڈنڈے کے زور پر لوگوں سے کیا کام کرواتی ہے؟ جان کر آپ کا دل کرے گا ابھی اس کی خدمت حاصل کر لیں

یہ خاتون ڈنڈے کے زور پر لوگوں سے کیا کام کرواتی ہے؟ جان کر آپ کا دل کرے گا ابھی اس کی خدمت حاصل کر لیں

Sep 05, 2018 | 17:41:PM

لندن(نیوز ڈیسک)ڈنڈے کھانے کو کس کا جی چاہتا ہے، اور وہ بھی ایک ادھیڑ عمر خاتون کے ہاتھ سے، مگر اس برطانوی خاتون کے ہاتھ میں ایک ایسا جادو ہے کہ لوگ خوشی خوشی اس سے ڈنڈے کھانے چلے آتے ہیں۔ان محترمہ کا نام گالیہ ایبی ہے، جن کا تعلق ابتدائی طور پر مشرقی یورپ سے ہے مگر وہ کئی سال سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور وہاں ایک مشہور ’’ڈائٹ گُرو‘‘ بن چکی ہیں۔

چینل فور کا مقبول ٹی وی پروگرام ’’دی ایکسٹریم ڈائٹ ہوٹل‘‘ دراصل سسیکس شہر میں واقع گالیہ کے سلمنگ سنٹر کے بارے میں ہی ہے۔ اس ٹی وی پروگرام میں دکھایا جاتا ہے کہ گالیہ کس طرح ڈنڈے کے زور پر موٹے لوگوں کو سادہ غذا کھانے اور سخت ورزش کرنے پر مجبور کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک بہت سے لوگ اُن کی زیر نگرانی اپنا وزن کم کر چکے ہیں۔

گالیہ بہت سخت انسٹرکٹر ہیں ، اتنی سخت کہ اکثر موٹے تو اُن کا نام سن کر ہی ڈر جاتے ہیں۔ وہ اپنے سلمنگ سنٹر میں داخلہ لینے والوں کے ساتھ ہر ممکن سختی کرتی ہیں ، یہاں تک کہ خوراک میں بد احتیاطی کرنے یا ورزش میں ڈنڈی مارنے والوں کو ڈنڈے بھی مارتی ہیں۔ اُن کا ٹی وی پروگرام دیکھنے والے ناظرین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات تو اس پروگرام میں ایسے مناظر دکھائی دیتے ہیں کہ جن پر یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ وہ موٹے لوگوں کا وزن کم کرنے کیلئے انہیں سادہ ترین غذائیں کھلاتی ہے جن میں سبزیاں سرفہرست ہیں۔ سبزیوں میں سے بھی زیادہ تر پالک کا انتخاب کرتی ہیں اور جب کوئی موٹا صبح شام پالک کھانے پر احتجاج کرتا ہے تو وہ ڈنڈا لے کر اس کے سر پر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ اب پالک کھانی ہے یا ڈنڈے کھانے ہیں، یہ فیصلہ موٹے شخص کو خود کرناہوتا ہے۔ گالیہ کے سلمنگ سنٹر میں داخل ہونے کے بعد آپ اُن کے طریقہ کار پر اعتراض نہیں کر سکتے کیونکہ وہ تمام شرائط پہلے ہی تحریری طور پر طے کر لیتی ہیں، اور پھر ان پر سختی سے عمل بھی کرتی ہیں۔

مزیدخبریں