حکومتی ترجیحات کیا ہونی چاہیں ؟؟؟

حکومتی ترجیحات کیا ہونی چاہیں ؟؟؟
حکومتی ترجیحات کیا ہونی چاہیں ؟؟؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 کیا نئی حکومت قومی اور عوامی وقعات پر پورا اتر سکے گی؟؟؟ کیا ہمیں اس سوال کے جواب کےلیے انتظار کرنا چاہیے ؟؟؟ اگر آپ اس مفروضے پرعمل کرنا ناگزیر سمجھتے ہیں  کہ" پرانے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت کو وقت درکار ہوگا ", تب تو ضرور انتظار فرمائیے مگر مجھے اس مفروضے پر اعتراض ہے۔ میں حالاتِ حاضرہ کی مناسبت سے حکومتی کارگردگی کا جائزہ لیتے رہنے کے حق میں ہوں۔ 

وزیراعظم عمران خان قوم سے اپنے خطاب میں فرماتے ہیں کہ مزید غیر ملکی قرضے نہیں لیے جائیں گے تو چند روز بعد وزیر خزانہ اسد عمر نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر کہہ دیا کہ فوری طور پر ملک چلانے کےلیے نو ارب ڈالرز کی ضرورت ہے, جس کےلیے قرضہ لینا پڑسکتا ہے۔ جناب آپ لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لانےوالےتھے,توپھر اچانک یہ گنگا الٹی کیوں بہنے لگی۔ اگرچہ اس ضمن میں چیئرمین نیب جاوید اقبال کا اعلان خوش آئند ہے کہ لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لانے کےلیےاقدامات کیے جائیں گے۔ توپھریہ کیا؟؟؟کیاہم میں خود اعتمادی کی کمی ہوگئی ہےکہ کشکول اٹھائے بنارہ نہیں سکتے ۔

           وزیراعظم عمران خان اور خاتونِ اول بشریٰ صاحبہ کے پہلے دورۂ لاہور کا ایک افسوسناک پہلو یہ رہا کہ کسی نے شہداء ماڈل ٹاون کے لواحقین کو انصاف دلانے کی یقین دہانی نہیں کروائی , جس سے لگتا ہے کہ ماڈل ٹاون کیس حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں ہے ۔ ماڈل ٹاون کیس میں نامزدملزمان میجر(ر)اعظم سلیمان کی  چیف    سیکرٹری پنجاب جبکہ کیپٹن (ر)محمدعثمان    کی ڈی جی پنجاب فوڈاتھارٹی تعیناتی کا حکومتی فیصلہ شہداء ماڈل ٹاون کے  لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے  مترادف تھا,حکومت ہوش کے ناخن لے ۔

 امریکہ بہادر آجکل ڈومور کا مطالبہ کررہا ہے۔ پاکستان کی 30کروڑ ڈالر امداد بند کرنے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔ یہ ہی وہ وقت ہے جب پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے ڈکٹیشن لینی ہے یا نہیں؟؟؟ ہم نے آزادانہ خارجہ پالیسی اپنانی ہے یا صرف زبانی جمع خرچ تک محدود رہنا ہے؟؟؟ ہونا تو یہ چاہیے کہ پاکستان فوری  طور پر نیٹو سپلائی روٹ بند کردے, کیونکہ عملی اقدامات اٹھانے کا وقت ہواچاہتا ہے۔

 ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش رکوانا حکومت پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے , جسے عوام الناس میں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ مگر ہم نے دیکھ لیا کہ گیرٹ ویلڈرز نے ایک مرتبہ پھر حکومت پاکستان کو دھمکی دی ہے ۔ لہٰذا یہ وقت ادھوری کامیابی پر جشن منانے کا نہیں ہے۔ حکومت پاکستان کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ گستاخانہ خاکوں کے معاملہ کو عالمی عدالت انصاف میں اٹھایا جائے۔ انشاءاللہ , امت مسلمہ یہ مقدمہ جیت کر تاقیامت ایسی مذموم حرکات کا قلع قمع کرنے میں کامیاب رہے گی ۔

بجلی کےنرخوں میں اضافہ فوری طورپرواپس لیاجائے۔ ملک  کے کئی علاقوں میں اس وقت بدترین اعلانیہ وغیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ حکومت لوڈشیڈنگ کے مسئلہ پر فوری توجہ دے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ فرسودہ ترسیلی نظام ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 10سے 14 گھنٹے سے تجاوز اختیار کرچکا ہے۔ حکومت لوڈشیڈنگ کی وجوہات معلوم کرکے اس پر قابو پانے کےلیے ٹھوس اقدامات کرے۔ گیس کے نرخوں میں اضافے سے گریز کیاجائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ اشیائے  خوردونوش کی قیمتوں میں کمی جائے تاکہ مہنگائی سے متاثرہ عام آدمی کو ریلیف میسر ہوسکے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو پہلے سو دنوں کے اندر توانائی کے بحران اور مہنگائی سے نمٹنے کےلیے حکمتِ عملی وضع کرلینی چاہیے ۔ کیونکہ یہ وہ دو بنیادی مسائل ہیں جن سے عام آدمی زیادہ متاثر ہورہاہے۔ اس کے علاوہ تعلیم , صحت اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کےلیے بھی قوم عملی اقدامات کی منتظرہے ۔کرپشن کے خاتمے کےلیے خفیہ اداروں کے ذریعے بدعنوان افسرشاہی کی نشاندہی میں معاونت لینے , سادگی وکفایت شعاری مہم کاآغاز اور قومی وصوبائی اسمبلیوں کے اراکین کےلیے صوابدیدی فنڈزختم  کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔

آخرمیں دومنٹ کی خاموشی حکومت سندھ کےلیے۔۔۔۔ جو ابھی تک تھرپارکر کے عوام کو غذائی قلت اور وبائی امراض سے بچانے کےلیے کوئی قابل ذکر اقدامات نہیں کرسکی اور تھرپارکر میں آج بھی موت کا رقص جاری ہے۔ افسوس کہ پیپلزپارٹی کی قیادت بھی صرف  خود کو منی لانڈرنگ کیسز سے بچانے اور صدارتی انتخابات میں فتح کےلیے کوشاں ہے ۔  جبکہ  اندرونِ سندھ کے دیہی علاقوں میں مسائل کے انبار لگے ہیں۔ مگر پیپلزپارٹی کی شانِ بے نیازی سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ عوامی مسائل کا حل سرے سے ہی حکومت سندھ کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ 

۔۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ