جی آئی ڈی سی آرڈی ننس کی واپسی کا فیصلہ

جی آئی ڈی سی آرڈی ننس کی واپسی کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کے حوالے سے 27اگست کو جاری ہونے والا صدارتی آرڈی ننس واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان وزیراعظم آفس کے مطابق اٹارنی جنرل کو جی آئی ڈی سی معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، منگل کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ آرڈی ننس میں ترمیم کرکے رقم کی باقاعدہ معافی سے پہلے کمپنیوں کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے گا، لیکن کابینہ کے فیصلے کے اگلے ہی روز وزیراعظم نے صدارتی آرڈی ننس واپس لینے کا اعلان کردیا۔وزیر اعظم نے بڑے صنعت کاروں کو جی آئی ڈی سی کی مد میں 208ارب روپے ٹیکس معافی کا نوٹس لیتے ہوئے اس آرڈیننس میں ترمیم اور ان پانچ کھاد کمپنیوں کے فرانزک آڈٹ کا حکم دیا تھا،جنہوں نے غریب کسانوں سے تو اس ٹیکس کی مد میں رقم وصول کر لی،لیکن وصول شدہ رقومات خزانے میں جمع نہیں کروائیں،ترمیم کے کابینہ کے فیصلے کے بعد اب آرڈی ننس واپس لینے کا فیصلہ ایسے موقع پر کیا گیا جب اپوزیشن نے اسے سینیٹ میں مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے،جہاں اس آرڈیننس کی منظوری کے لئے حکومت کے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے قومی خزانے کی حفاظت کی ذمہ داری خود لی ہے کسی کو نوازا نہیں جائے گا،اُن کا یہ عزم اگرچہ مبارک ہے، لیکن جس انداز میں آرڈیننس جاری کیا گیا اور جس طرح چند کمپنیوں کو اس سے اربوں روپے کا فائدہ پہنچتا ہوا نظر آتا تھا اس سے تو وزیراعظم کے اس بلند بانگ دعوے کی نفی ہوتی نظر آتی تھی،پہلے جو آرڈیننس جاری کیا گیا اور جسے اب واپس لینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سے مجموعی طور پر چند کمپنیوں کو208 ارب روپے کا فائدہ پہنچانا مقصود تھا تو حیرت ہے کہ نوازنا اور کِس کو کہتے ہیں؟ اب فرانزک آڈٹ اور آرڈیننس میں ترمیم کی بات کرتے کرتے اگر آرڈی ننس واپس لینے کا ہی فیصلہ کر لیا گیا ہے تو شاید اس کی وجہ یہ ہو، اپوزیشن نے شور مچادیا کہ حکومت ان صنعت کاروں کو نواز رہی ہے،جو اس کی پارٹی کو چندے دیتے رہے ہیں یا وزیراعظم کے دوسرے نجی منصوبوں کی سرپرستی کرتے رہے ہیں،ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن کا یہ الزام پورا سچ نہ ہو اور اس نے زیب داستان کے لئے کچھ بڑھا بھی دیا ہو،لیکن یہ بات تو درست ہے کہ اِن کمپنیوں نے یہ رقوم غریب غربا سے جمع کی تھیں اور طویل عرصے تک یہ کمپنیاں اس رقم سے مستفید ہوتی رہیں،حالانکہ یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانا ضروری تھا، کمپنیوں کا موقف ہے کہ حکومت یہ ”سیس“ نہیں لگا سکتی تھی اور جس انداز میں اسے مالی بل کے ذریعے منظور کرایا گیا اس کا اختیار بھی اسے حاصل نہیں تھا،کمپنیاں اس کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کر رہی تھیں، سپریم کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا جس پر نئی قانون سازی ہوئی، جس کے خلاف یہ کمپنیاں ہائی کورٹ میں چلی گئیں۔ حکومت نے ان کمپنیوں سے ”آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ“ کا راستہ اپنایا اور کل تک اسے مفید بھی قرار دیا جارہا تھا کہ اچانک آرڈی ننس ہی واپس لینے کا اعلان ہو گیا۔

اس معاملے کے قانونی پہلوؤں میں پڑے بغیر ہم صرف اس امر کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں کہ اگر کمپنیوں کو اعتراض تھا کہ حکومت یہ ”سیس“ نافذ نہیں کر سکتی تو پھر بہتر طریقہ تویہ تھا کہ یہ غریب لوگوں سے وصول ہی نہ کیا جاتا،اور اگر کر لیا گیا تھا، تو پھر بغیر کسی تاخیر کے اس رقم کا سرکاری خزانے میں جمع ہونا ضروری تھا،ان کمپنیوں نے اس معاملے میں دوہری چال چلی،جس ٹیکس کو وہ غیر قانونی سمجھتے رہے وہ لوگوں سے تو بدستور وصول کیا جاتا رہا،لیکن جمع شدہ رقومات یہ کمپنیاں اپنے تصرف میں لاتی رہیں، گویا جو رقم یہ کمپنیاں ”غیر قانونی طور پر“ لوگوں سے جمع کر رہی تھیں اس کو اپنے استعمال میں لانا اُن کے نزدیک کوئی گناہ نہیں تھا،پھر سالہا سال تک یہ رقم جب اُن کے ذمے جمع ہوتی رہی تو پھر اس کی(تاخیر کے ساتھ ہی سہی) ادائیگی کرنے کی بجائے انہوں نے یہ رقم معاف کرانے کا راستہ اختیار کر لیا اور اس طرح چند کمپنیوں نے اربوں روپے کا فائدہ اُٹھا نے کا منصوبہ بنایا جو ناکام ہو گیا۔

وفاقی کابینہ کے گزشتہ روز کے اجلاس کے بعد میڈیا کو کارروائی کے بارے میں بریف کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور سلیم بابر کے ہمراہ وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کسی بھی شعبے کو ناجائز مراعات نہیں دی جا رہیں ”گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس“ معاملے کے حل سے سالانہ45ارب کا فائدہ ہو گا۔ ندیم بابر کا کہنا تھا کہ جن صنعتوں نے جی آئی ڈی سی وصول کیا ہے انہیں کوئی چھوٹ نہیں ملے گی،کھاد کمپنیوں کے ساتھ حکومتی معاہدے سے پہلے کمپنیوں کا فرانزک آڈٹ ہو گا،ٹیکس کم کر کے گیس کی قیمتیں کم کرنا چاہتے ہیں۔یہ معاملہ سات سال سے مختلف ہائی کورٹس میں زیر التوا تھا یہ کوئی نئی چیز نہیں گزشتہ حکومت نے بھی سی این جی سیکٹر کو50 فیصد چھوٹ دی تھی،جو بجلی بنانے والی کمپنیاں ٹیرف میں جی آئی ڈی سی شامل کریں گی اُن کو چھوٹ نہیں ملے گی، جو کمپنیاں کھاد کی قیمت میں جی آئی ڈی سی وصول کر رہی ہیں،اُن کو بھی چھوٹ نہیں ملے گی،ندیم بابر کا کہنا تھا یہ ہماری کوتاہی ہے کہ قوم کو تفصیل سے آگاہ نہیں کر سکے۔ یہ کابینہ کے فیصلے میں شامل تھا کہ جب تک آڈٹ نہیں ہو گا،معاہدہ نہیں کیا جائے گا جی آئی ڈی سی سے متعلق مقدمات اور تنازعات کے حل سے حکومت کو210 ارب روپے ملیں گے،اس کے علاوہ صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کی فضا ہموار ہو گی،اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ جی آئی ڈی سی کا لوڈ اگر کسان یا صارف پر منتقل ہوا ہے تو وہ کمپنیوں سے وصول کیا جائے گا۔افسوس ان توقعات اور خوش فہمیوں کی فضا 24گھنٹے بھی قائم نہ رہی۔

وفاقی کابینہ کی جو کارروائی تفصیل کے ساتھ اب سامنے آئی ہے اور جس کا کچھ حصہ ہم نے اوپر درج کیا ہے اس سے بظاہر تو حکومت نے اپنی پوزیشن صاف کرنے کی کوشش کی،لیکن بہتر تھا کہ آرڈیننس کے اجرا سے پہلے اس معاملے میں ہر قسم کی وضاحت کر دی جاتی،لیکن آرڈیننس جاری ہونے کے بعد جب اس پر مختلف حلقوں سے تنقید شروع ہوئی تو پھر فرانزک آڈٹ کی بات کی گئی، اور غالباً اپوزیشن کے دباؤ کے تحت ہی آرڈی ننس واپس لینے کا فیصلہ کر لیا گیا، لیکن بہتر یہی تھا کہ پہلے ہی فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا جاتا، ویسے سوچ بچار تو کی گئی ہوگی لیکن آرڈی ننس جاری کرنے کا فیصلہ بہرحال صائب نہیں تھا، اچھا ہوا یہ واپس لینے کا اعلان کردیا گیا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...