سرکاری ہسپتالوں کی نج کاری؟

سرکاری ہسپتالوں کی نج کاری؟

صوبائی حکومت کی سفارش پر گورنر پنجاب کی طرف سے صوبے کے ٹیچنگ ہسپتالوں کے نئے نظام کے بارے میں نجکاری آرڈیننس جاری کیا گیا ہے،اس کے تحت ان ہسپتالوں کا نظام اب بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ذمہ ہو گا، پرنسپل اور ایم ایس کے عہدے ختم کر دیئے گئے،جبکہ ڈاکٹرز نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی ملازمتوں کی سرکاری حیثیت بھی ختم ہو گئی ہے،صوبائی وزیر صحت کے مطابق یہ اقدام مریضوں کی بہبود کے لئے اٹھایا گیا اور ڈاکٹروں کو ہسپتالوں ہی میں پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت ہو گی، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور پیرا میڈیکل سٹاف نے یہ آرڈیننس مسترد کر کے تحریک چلانے کا عندیہ دیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس آرڈیننس سے قبل ہی ہسپتالوں میں مفت ٹیسٹوں اور ادویات کی سہولت ختم کر کے چارجز بھی بڑھا دیئے گئے ہیں،اب نئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پاس یہ اختیار ہو گا کہ مفت علاج یا ٹیسٹ وغیرہ کی فیسوں کا تعین کر سکے،صوبائی وزیر صحت کے مطابق بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ریٹائرڈ ڈاکٹروں کو لیا جائے گا۔اس آرڈیننس کے نافذ کرنے سے قبل ہی یہ کہا جا رہا تھا کہ حکومت پبلک، پرائیویٹ پارٹنرشپ کا تجربہ دہرانے جا رہی ہے اور موجودہ صورتِ حال سے واضح ہے کہ یہ براہِ راست نجکاری کی شکل ہے کہ سرکاری سٹیٹس ختم ہو جائے گا اور بورڈ آف ڈائریکٹرز غیر سرکاری ریٹائرڈ ڈاکٹر حضرات پر مشتمل ہو گا، تو اس کی نجی حیثیت ہو گی۔دوسری طرف یہ بھی واضح ہے کہ ڈاکٹروں اور دوسرے عملے کو سرکاری ملازمت کا تحفظ بھی حاصل نہیں رہے گا۔جہاں تک سرکاری ہسپتالوں کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں شکایات ہونے کے باوجود آج کے دور میں نچلے طبقے کے لئے سہارا تھے اور لوگوں کو یہاں مفت علاج کی سہولتیں حاصل تھیں، ایمرجنسی بالکل فری اور ادویات بھی ملتی تھیں،موجودہ حکومت نے بتدریج یہ سلسلہ ختم کیا اور اب یہ سہولت مکمل طور پر واپس لے لی گئی ہے۔یوں ان ہسپتالوں سے عوام کو علاج کی پہلے جیسی سہولت نہ ملے گی کہ ڈائریکٹروں کا بورڈ منافع کی روشنی میں قواعد بنائے گا، اس کا تجزیہ ان ہسپتالوں سے کیا جا سکتا ہے،جو نجی ٹرسٹ بنا کر چلائے جاتے ہیں،ان کے اخراجات عام آدمی کے بس کے ہی نہیں ہیں۔ حکومت کو اس پر ایک بار پھر غور کرنا ہو گا اور عوام کی سہولت بحال کرنا ہو گی،دوسری صورت میں پہلے سے موجود بے چینی میں اضافہ ہو گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...