مسئلہ کشمیر ، عالمی اسٹیبلشمنٹ اور صہیونی ریاست

مسئلہ کشمیر ، عالمی اسٹیبلشمنٹ اور صہیونی ریاست

اگست 2017 کی بات ہے جب راقم نے اسلام آباد میں ایک بڑے غیر سرکاری تھینک ٹھینک ادارے کی قیادت کو مسئلہ کشمیر پر ڈیڑھ گھنٹے کی presentationدی تھی۔ جس کے کچھ حصے پاکستان کے متعدد اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال کے پیش نظر اس presentation کا مزید ایک حصہ قارئین کی نظر کر رہا ہوں ۔

اس میں کوئی شک نہیں بھارت جہاں ایک جانب امریکہ، اسرائیل اور یورپی ممالک سے اسلحہ و ٹیکنالوجی کی خرید اری کا ایک بہت بڑا گاہک ہے تو دوسری جانب اانتہا پسند عالمی اسٹیبلشمنٹ نے بھارت کے ذریعے مملکت اسلامیہ پاکستان کو بھی حالت جنگ میں رکھا ہوا ہے ، جس کے ذریعے وہ مستقبل کی ایک ایسی مسلم سپر پاور کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے جو بہرحال گریٹر اسرائیل(دجالی ریاست ) اور اکھنڈبھارت کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے یعنی مذہبی حریف کے طور پر۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس خطے میں صہیونی ریاست کے مفادات کا سب سے بڑا چوکیدار بھارت ہے۔ کیونکہ کشمیر کی آزادی کے بعد جس ملک کے نظریاتی مفادات پر سب سے زیادہ زد پڑے گی، وہ صہیونی ریاست اسرائیل ہے ۔ کیونکہ کلمہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والی ریاست مملکت اسلامیہ پاکستان شروع دن سے ہی گریٹر اسرائیل ( دجالی سلطنت) کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ کوئی مانے یا نہ مانے کہ مذہبی نقطہ نگاہ سے اس خطے میں روس ، امریکہ ، یورپ، چین اور اسرائیل کبھی بھی نہیں چاہیں گئے کہ بھارت مزید ٹکروں میں تقسیم ہو۔ اس کا صاف مطلب کہ مسئلہ کشمیر تو حل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ اسی لیے راقم کا شروع دن سے ہی یہ موقف رہا ہے کہ کشمیر محض ایک قطعہ زمین کی لڑائی نہیں بلکہ حق وباطل کے فیصلہ کن معرکوں کی سرزمین ہے ۔ یہ دو ایسے پہلو ہیں جس کو ہر دور میں دونوں طرف کی کشمیر کی ، مذہبی سیاسی اور ملٹری جدوجہد کرنے والوں قیادتوں نے ہمیشہ نظر انداز کیا ہے ، شاید وہ ان تلخ زمینی حقائق کا اس طرح سے ادراک نہیں کر سکے جس طرح کرنا چاہیے تھا۔

راقم کے اس موقف کی تصدیق اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے جب فروری 2019میں اسرائیل اور بھارت نے بہ یک وقت پاکستان پر فضائی حملہ کیا اور ہنگامی بنیادوں پر صہیونی ریاست کا بھارت میں فوجی مشیر بھیجنے کے ساتھ ساتھ ہوا سے ہوا میں میزائل فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں ” یقیناََ آپ ایمان والوں کا سب سے زیادہ دشمن یہودیوں اور مشرکین کو پائیں گئے“(المائدہ:۲۸)۔ بھارت کے جبرو استبداد کے خلاف جدوجہد کرنے والی کشمیری قیادتوں پر نہ تو تنقیدکرنا مقصد ہے اور نہ ہی ان میں سے کسی کی نیت کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہوں ۔ لیکن جب قیادتیں یہ کہتی ہیں کہ وہ ان آیات کو اچھی طرح جانتے ہیں بات تو یہاں تک ٹھیک ہے لیکن کسی قرآنی آیت یا صحیح حدیث کو سمجھ کرزمینی حقائق کے تناظر میں اس کے مطابق دشمن سے متعلق جارحانہ پالیسی مرتب کر کے پھر اس پر پوری قوت سے عمل درآمد کرنا، یہ مکمل ایک الگ Chapter ہے۔ اسی لیے تو راقم گزشتہ دو سالوں سے ہر پلیٹ فارم پر برملا کہہ رہا ہے کہ کشمیر کی آزادی میں رکاوٹ بھارت نہیں بلکہ انتہا پسند عالمی اسٹیبلشمنٹ ہے۔ بین الاقوامی منظرنامے کے تناظر میں کشمیری قیادتوں کو ان تلخ زمینی حقائق کا ادراک کر لینا چاہیے کہ انہیں اپنی جنگ اب تنہا لڑنا ہو گئی اور وہ بھی بھارت کے اندر۔ آخری وارننگ کے طور پر کشمیر کی مذہبی ، سیاسی اور عسکری قیادتوں کو یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ ہو چکا ہے یعنی آدھا تمہارا ، آدھا ہمارا، باقی سب کہانیاں ہیں۔ جس دن یہ زمینی حقیقت سمجھ آگئی پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ بھارت کو ٹوٹنے اور کشمیر کو آزادی ملنے میں سالوں نہیں صرف چند ماہ درکار ہوں گئے ، ان شاءاللہ ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...